مقامی حکومتوں کا نیا نظام موثرکیسے بن سکتا ہے؟
03 اکتوبر 2018 (17:00) 2018-10-03

حافظ طارق عزیز

کوئی بھی ملک ترقی کی راہ پر اس وقت گامزن ہوتا ہے جب اختیارات ارتکاز کا شکار نہ ہوں۔ ایک ایسا نظام موجود ہو جہاں نچلی سطح سے لے کر اوپر انتظامی معاملات میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی ہو۔ افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ وطن عزیز میں اگر نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کی بات کی جائے تو ہمیں جمہوریت کی روح کہیں بھی کارفرما نظر نہیں آتی۔ ہمارے سابقہ لیڈرز ساری کی ساری پاور اپنے ہاتھوں میں مرتکزکرنے کی تگ و دور میں لگے رہے۔ ہم بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تاریخ پر اگر سرسری نظر دوڑائیں تو قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک خاصی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پہلے10 برس تک جمہوری حکومتیں اس درجہ کمزور رہیں کہ ان کی ساری تگ و دو اپنے وجود کو معدوم ہونے سے بچانے میں لگی رہیں۔ ایوب خان کے 10 سالوں میں ”بی ڈی“ ممبرز کا نظام وضع کیا گیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں 80 ہزار بی ڈی ممبرز چنے گئے۔ یہی ممبرز صوبائی اور قومی اسمبلیوں کا انتخابی ادارہ (الیکٹرول کالج) بن گئے۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ ایوب خان کے دور میں اس سسٹم نے کئی اچھے کام کیے۔گاﺅں، دیہات، قصبوں، تحصیلوں اور ضلعوں میں عوامی بہبودکے ان گنت منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے۔ ایوب خان کی اقتدار سے رخصتی کے ساتھ ہی یہ سسٹم بھی دھڑام سے نیچے آگرا۔

ملک کے دوسرے فوجی حکمران یحییٰ خان دوبارہ بلدیاتی اداروں کو اپنے پاﺅں پرکھڑا نہیں کرسکے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلدیاتی اداوں کے استحکام کے لیے مثبت کوششوں سے اجتناب کیا۔ صدر ضیاءالحق نے 3 بار بلدیاتی انتخابات کروائے اور11 سالوں میں ملک میں ترقیاتی کاموں کی نئے سرے سے داغ بیل ڈالی۔ بے نظیر نے اپنے والد کی طرح کا طرزِ عمل اپنایا اور اس باب میں کوئی اضافہ نہ کیا۔ نوازشریف کے پہلے دورِ حکومت میں 1991ءمیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ دوسرے صوبے اس نوازش سے محروم رہے۔ نواز شریف کے دوسرے دور میں 1997ءکے ایک کابینہ اجلاس میں اعلان ہوا کہ 1998ءمیں بلدیاتی انتخابات ملک بھر میں ہوں گے۔ 1999ءختم ہونے پر آ گیا، لیکن اس جانب حکومت نے کوئی قدم نہ اُٹھایا۔ 12 اکتوبرکے انقلاب کے بعد جنرل مشرف نے 2001ءمیں مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کروایا۔ ناظم اور نائب ناظم چنے گئے۔ انہوں نے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کی جگہ لے لی۔کئی بڑے شہروں میں ان ناظمین نے آبادیوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ عوامی فلاح و بہبودکو چار چاند لگادیے گئے۔ 2008ءسے 2013ءکے دوران پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں ناظمین کو عضو معطل بنادیا گیا۔ فنڈز روک لیے گئے۔ ترقیاتی منصوبے ادھوے چھوڑ دیے گئے۔ سڑکیں اور پل مکمل نہ ہوپائے۔ یہ سارے فنڈز قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے من پسند اراکین میں بانٹ دیے گئے۔ یوں 2009ءمیں بلدیاتی ادارے توڑکر اُن کی جگہ ایڈمنسٹریٹرز مقررکردیے گئے۔

2013ءمیں اس حکومت نے اقتدار میں آکر بلدیاتی انتخابات کو سرد خانے میں ڈال دیا۔ 8 نومبر 2013ءکو قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظورکی جس میں ان انتخابات کو ملتوی کردیا گیا۔ عذر یہ تراشا گیا کہ 20 دنوں میں 5 کروڑ بیلٹ پیپرز چھپوانا ناممکن ہے۔ الیکشن کمیشن اور شدید عدالتی دباﺅ کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کروانا پڑے ۔ لیکن نواز حکومت نے اختیارات دیے نہ فنڈز جاری ہونے دیے۔ یعنی (ن) لیگ کی سیاسی قیادت نے اس بھاری پتھرکو بڑی بے دلی سے اُٹھانے کا مظاہرہ کیا۔ ہمارے صوبائی اور مرکزی لیڈر اپنے اختیارات نچلی سطح پر عوامی نمائندوں کو سوپنا نہیں چاہتے تھے۔ ہماری سابق بڑی سیاسی پارٹیاں شخصی اقتدارکی حامل نہیںتھیں۔ یہ مخصوص خاندانوں کی جاگیریں ہیں۔ ان پارٹیوں میں قیادت کے انتخاب کے لیے کبھی الیکشن نہیں ہوتے، اگر ہوتے بھی ہیں تو برائے نام۔ یہ لیڈر ہر شے کو اپنی مٹھی میں جکڑکر رکھنا چاہتے تھے۔

مگر آج نئی حکومت نے عمران خان کی قیادت میں بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کا ایک مثبت فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے لئے بلدیاتی نظام کی منظوری دی اور اسے 48 گھنٹے میں حتمی شکل دینے کاحکم جاری کیا۔ اگر اس پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل کیا گیا تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ یہ نچلی سطح پر عوام کو بااختیار بنانے کامو¿ثرذریعہ ثابت ہوگا۔ لاہور میں صوبائی وزیربلدیات کی جانب سے نئے بلدیاتی نظام پربریفنگ کے دوران پرانے نظام کی خامیاں دورکرنے کے لئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نئے نظام کے ضمن میں تین بنیادی اصول متعین کئے ہیں: پہلا یہ کہ یہ نظام پیچیدہ نہیں بلکہ سادہ ہو۔ دوسرا یہ کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات براہ راست ہوں اورآخری یہ کہ منتخب نمائندوں کو پوری طرح بااختیار بنایاجائے تاکہ وہ نچلی سطح پرعوام کی حقیقی معنوں میں خدمت کر سکیں۔

وزیراعظم نے پنجاب کے لئے جس نظام کی منظوری دی ہے اس کے تحت ضلع اورتحصیل کی سطح پر میئر کاالیکشن براہ راست ہوگا اورمنتخب نمائندوں کی صوابدید پر60 سے75 ارب روپے تک کے فنڈز مختص کئے جائیں گے۔ ماضی میں بلدیاتی نمائندوں کی بجائے فنڈز اسمبلیوں کے ارکان میں بانٹے جاتے تھے جس سے ان ارکان کی توجہ قانون سازی کی بجائے فنڈزکے حصول پرمرکوز رہتی تھی۔ نئے نظام کا مقصد سٹیٹس کو ختم کرکے ایسا طریق کار رائج کرنا ہے جس کے تحت منتخب نمائندوں کوکسی بھی سطح پر بلیک میل نہیں کیاجاسکے گا۔ اوروہ اپنی تمام ترتوجہ عوام کی فلاح وبہبود پر مرکوز کر سکیں گے۔ ایک اوراہم بات یہ ہے کہ نئے نظام کی بنیاد جمہوری اقدار پرمبنی ہوگی جس کی رو سے گڈگورننس اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اس سے نئی لیڈر شپ کو اوپرآنے میں مدد ملے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبرپختونخوامیں ویلج کونسل کے نظام کا تجربہ کیا تھا جس کے بارے میں دعویٰ کیاجاتا ہے کہ اس کا مثبت نتیجہ نکلا۔ اسی پس منظرکوذہن میں رکھتے ہوئے وزیراعظم چاہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے تجربے سے فائدہ اٹھایاجائے اور پنجاب، سندھ اوربلوچستان میں یونین کونسلوں کے سائزکادوبارہ تعین کیا جائے۔ اس سلسلے میں اس بات پر غور کیاجا رہا ہے کہ ان تینوں صوبوں میں ویلج کونسلیں قائم کی جائیں یا موجودہ یونین کونسلوں کے سائز پرنظر ثانی کی جائے کیونکہ خاص طور پر پنجاب میں آبادی کے لحاظ سے ان کا حجم بہت بڑا ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سب فریقین اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے نظام کو حتمی شکل دے۔ صوبائی اسمبلیوں میں اس پر بحث کی جائے اور اس پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ نظام کو حتمی شکل دینے سے قبل اسے عوامی مباحث کے لیے پیش کیا جائے۔ اگرچہ مقامی نظام ایک صوبائی موضوع ہے، لیکن اس میں وفاق کا کردار ہونا چاہیے کہ اگر کوئی صوبہ مقامی نظام ، انتخابات اور اس کے بنیادی فرئم ورک سے انحراف کرے تو وفاق اس کو جواب دہ بنا سکے۔کیونکہ ہمیں دنیا سے سبق سیکھنا چاہیے کہ حکمرانی کے بحران کا حل مضبوط، مربوط مقامی حکومتوںکا نظام ہے اور یہ ہی ہماری بنیادی ترجیح بھی ہونا چاہیے۔ تاہم فیصلہ جو بھی کیا جائے اس میں آمرانہ ادوارکے بلدیاتی اداروں کی خامیوں پربنظر غائرغور کرکے ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی راہ نکالنا ضروری ہے ۔

عمران خان اپنی سیاست میں جس سیاسی نظام کو کامیابی کی بنیادی کنجی قرار دیتے ہیں اس میں مقامی نظام حکومت کو فوقیت حاصل ہے۔اس وقت عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں براہ راست ان کی حکومت ہے۔ اگرچہ اس وقت چاروں صوبوں میں مقامی نظام حکومت موجود ہے۔خیبر پختونخوا اور سندھ میں پہلے سے ہی موجود حکومتیں دوبارہ انتخاب جیت کر سامنے آئی ہیں۔ اس لیے وہاں بحران کی کیفیت نہیں۔البتہ سندھ میں پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم کے درمیان مقامی نظام پر سرد جنگ موجود ہے۔

اصل معرکہ بلوچستان اوربالخصوص پنجاب ہے۔ جہاں پہلے سے موجود صوبائی حکومتوں کو حالیہ انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے سیاسی تناظر میں یہاں نظام کی تبدیلی کا عمل ناگزیر لگتا ہے۔کیونکہ نئی صوبائی حکومتیں سیاسی بنیادوں پر ضلعی نظام میں اپنے سیاسی مخالفین کی حکومتوں کو برداشت کرنے کے بجائے متبادل نظام لانے کو تریح دیں گی۔بیوروکریسی اورانتظامیہ کو مضبوط بنانے کے بجائے زیادہ انحصار عوام کے منتخب نمائندوں پرکیا جائے تاکہ وہ اس سیاسی اور جمہوری نظام میں مقامی سطح پر ووٹروں کو جوابدہ ہوں۔

ہر قسم کی صوبوں میں مقامی نظام کے متبادل کمپنیوں اور اتھارٹیوں کو ختم کر کے مقامی نظام حکومت سے جوڑا جائے۔ امن و آمان کے لیے مقامی نظام میں کمیونٹی پولسینگ کو متعارف کروایا جائے۔عورتوں کی 33 فیصد نمایندگی کو یقینی بنایا جائے۔اسی طرح کسانوں، اقلیتوں، مزدوروں اور نوجوان طبقات کی نمایندگی بھی یقینی ہو۔پولیس کے نظام میں شفافیت پیدا کرنے کے لیے پبلک سیفٹی کمیشن اور کمیونٹی کی شمولیت کے لیے سٹیزن کمیونٹی بورڈ ز متعارف کروائے جائیں۔

نئے نظام میں محاسبے پر سب سے زیادہ توجہ ہونی چاہئے جس کا مطلب سخت گیر آڈٹ اورجواب دہی ہے۔

تحصیل اورضلع کی سطح پر منصوبہ بندی کے نقائص بھی دور ہونے چاہئیں اورغیر ضروری سیاسی مداخلت کا راستہ بند ہونا چاہئے۔ صوبائی حکومتیں اگر نچلی سطح کی مقامی حکومتوں کے کام میں مداخلت نہیں کریں گی اور انہیں عوام کی بہتری کے لئے آزادانہ کام کرنے دیں گی تو یہ عمران خان کے وژن کے عین مطابق ہوگا۔ اور یقینا موجودہ وزیراعظم عمران خان اپنی سیاست میں جس سیاسی نظام کوکامیابی کی بنیادی کنجی قرار دیتے ہیں اس میں مقامی نظام حکومت کو فوقیت حاصل ہے۔ اُمید ہے کہ وہ پنجاب کے بعد باقی صوبوں میں بھی اسی ماڈل کو پیش کریں گے اور اقتدارکی نچلی سطح پر منتقلی کو ےقینی بنائیں گے کیونکہ اس سے عوام کے مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ 


ای پیپر