ایک ایسی عورت جسے زنا کا حمل تھا لیکن حضرت علیؓ اُسے سنگسار ہونے بچا یا ۔۔۔
03 اکتوبر 2018 (16:56) 2018-10-03

مفتی جلال الدین احمد :

آپؓ کانام نامی علی بن ابی طالب اورکُنیت ابو الحسن وابو تُراب ہے۔ آپ ؓسرکار اقدس کے چچا ابو طالب کے صاحبزادے ہیں یعنی حضورکے چچازاد بھائی ہیں۔ آپؓ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہؓ بنت اسد بن ہاشم ہے اور یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنھوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔ (تاریخ الخلفائ)

آپؓ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے علیؓ بن ابو طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ۔آپؓ 30 عام الفیل میں پیداہوئے اور اعلان نبوت سے پہلے ہی مولائے کل سید الرسل جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ کی پرورش میں آئے کہ جب قریش قحط میں مبتلا ہوئے تھے تو حضور نے جنابِ ابو طالب پر عیال کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے حضرت علیؓ کو لے لیا تھا ۔اس طرح حضور کے سائے میں آپ ؓ نے پرورش پائی اور آپ کی گود میں ہوش سنبھالا ،آنکھ کُھلتے ہی حضور کا جمال جہاں آرا دیکھا، آپ کی باتیں سنیں اورآپ کی عادتیں سیکھیں ۔اس لئے بتوں کی نجاست سے آپؓ کا دامن کبھی آلودہ نہ ہوا یعنی آپ ؓ نے کبھی بُت پرستی نہ کی اور اسی لئے کرم اللہ وجہہ آپ ؓکا لقب ہوا ۔(تنزیہ المکانة الحیدریہ وغیرہ )

حضرت علی ؓ نو عمر لوگوں میں سب سے پہلے اسلام سے مشر ف ہوئے۔ تاریخ الخلفا ءمیں ہے کہ جب آپ ؓ ایمان لائے اس وقت آپ ؓ کی عمر دس سال تھی بلکہ بعض لوگو ں کے قول کے مطابق نو سال بعض کہتے ہیں کہ آٹھ سال اورکچھ لوگ اس سے بھی کم بتاتے ہیں اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ بوقت اسلام آپ ؓکی عمر آٹھ دس سال تھی۔

آپؓ کے اسلام قبول کرنے کی تفصیل محمد بن اسحاق نے اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت علیؓ نے حضورکو اور حضرت خدیجةُالکبریٰ ؓ کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ جب یہ لوگ نماز سے فارغ ہوگئے تو حضرت علیؓ نے حضور سے پوچھاکہ آپ لوگ یہ کیاکررہے تھے، حضور نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا دین ہے جس کو اس نے اپنے لئے منتخب کیا ہے اور اسی کی تبلیغ واشاعت کے لئے اپنے رسول ؓکو بھیجا ہے، لہٰذا میں تم کو بھی ایسے معبودکی طرف بلاتا ہوں، جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں تم کواسی کی عبادت کا حکم دیتا ہوں۔ حضرت علی ؓ نے کہا کہ جب تک میں اپنے باپ ابوطالب سے دریافت نہ کرلوں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، چونکہ اس وقت حضور کو راز کا فاش ہونا منظور نہ تھا اس لئے آپ نے فرمایا: اے علیؓ! اگر تم اسلام نہیں لاتے ہوتو ابھی اس معاملہ کو پوشیدہ رکھوکسی پر ظاہر نہ کرو۔

حضرت علیؓ اگرچہ اس وقت رات میں ایمان نہیں لائے مگر اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے دل میں ایمان کو راسخ کردیا تھا اور دوسرے روز صبح ہوتے ہی حضورکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی پیش کی ہوئی ساری باتوں کو قبول کرلیا اور اسلام لے آئے۔

سرکار اقدس نے جب خدائے تعالیٰ کے حکم کے مطابق مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کی ہجرت کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی ؓ کو بلا کر فرمایا کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم ہوچکا ہے لہٰذا میں آج مدینہ روانہ ہو جاو¿ں گا۔ تم میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سو رہو، تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی، قریش کی ساری امانتیں جو میرے پاس رکھی ہوئی ہیں ان کے مالکوں کو دے کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔

یہ موقع بڑا ہی خوف ناک اور نہایت ہی پُرخطرتھا۔ حضرت علیؓ کو معلوم تھا کہ کفار قریش سونے کی حالت میں حضورکے قتل کا ارادہ کرچکے ہیں اسی لئے خداتعالیٰ نے آپ کو اپنے بستر پرسونے سے منع فرما دیا ہے۔ آج حضورکا بستر قتل گاہ ہے، لیکن اللہ کے محبوب محمدکے اس فرمان سے کہ ” تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی قریش کی امانتیں دے کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔

حضرت علی ؓ کو پورا یقین تھاکہ دُشمن مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکےں گے۔ میں زندہ رہوں گا اور مدینہ ضرور پہنچوں گا، لہٰذا سرکار اقدس کا بستر جو آج بظاہرکانٹوں کا بچھونا تھا، وہ حضرت علیؓ کے لئے پھولوں کی سیج بن گیا، اس لئے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے نکل سکتا ہے مگر حضورکے فرمان کے خلاف نہیں ہو سکتا۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں رات بھر آرام سے سویا، صبح اُٹھ کر لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو سونپنا شروع کیں اورکسی سے نہیں چھپا۔ اسی طرح مکہ میں تین دن رہا، پھر امانتوں کے اداکرنے کے بعد میں بھی مدینہ کی طرف چل پڑا۔ راستہ میں بھی کسی نے مجھ سے کوئی تعارض نہ کیا، یہاں تک کہ میں قُبا میں پہنچا۔ حضور حضرت کلثومؓ کے مکان میں تشریف فرماتھے، میں بھی وہیں ٹھہرگیا۔

حضرت علی ؓ کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپؓ سرکاراقدس محمد کے داماد اور چچازاد بھائی ہونے کے ساتھ ”عقدمواخاة“ میں بھی آپ کے بھائی ہیں جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیاکہ دو دو صحابہؓ کوبھائی بھائی بنایا تو حضرت علیؓ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا: یارسول اللہ ! آپ نے سارے صحابہؓ کے درمیان اخوت قائم کی۔ ایک صحابی ؓکو دوسرے صحابی ؓکا بھائی بنایا مگر مجھ کوکسی کا بھائی نہ بنایا، میں یوں ہی رہ گیا تو سرکار اقدس نے فرمایا: ”تم دنیا وآخرت دونوں میں میرے بھائی ہو“۔ (مشکوٰة شریف )

حضرت علیؓ کی شجاعت اور بہادری شہرہ¿ آفاق ہے، عرب وعجم میں آپؓ کی قوتِ بازو کے سکّے بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپؓ کے رعب ودبدبہ سے آج بھی بڑے بڑے پہلوانوں کے دل کانپ جاتے ہیں۔ جنگ تبوک کے موقع پر رسول کریم نے آپؓ کو مدینہ طیبہ پر اپنا نائب مقرر فرمادیا تھا اس لئے اس میں حاضر نہ ہوسکے، باقی تمام غزوات وجہاد میں شریک ہوکر بڑی جانبازی کے ساتھ کفارکا مقابلہ کیا اور بڑے بڑے بہادروں کو اپنی تلوار سے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

حضرت علیؓ جسم کے فربہ تھے۔ اکثر خود استعمال کرنے کی وجہ سے سرکے بال اڑے ہوئے تھے، آپؓ نہایت قوی اور میانہ قدمائل بہ پستی تھے۔ آپؓ کا پیٹ دیگر اعضا کے اعتبار سے کسی قدر بھاری تھا، مونڈھوں کے درمیان کا گوشت بھرا ہوا تھا۔ پیٹ سے نیچے کا جسم بھاری تھا۔ رنگ گندمی تھا۔ تمام جسم پر لمبے لمبے بال، آپؓ کی ریش مبارک گھنی اور دراز تھی۔ مشہور ہے کہ ایک یہودی کی داڑھی بہت مختصر تھی، ٹھوڑی پر صرف چند گنتی کے بال تھے اور حضرت علیؓ کی داڑھی مبارک بڑی گھنی اور لمبی تھی۔ ایک دن وہ یہودی حضرت علیؓ سے کہنے لگا: اے علیؓ! تمہار ایہ دعویٰ ہے کہ قرآن میں سارے علوم ہیں اور تم باب مدینةُالعلم ہوتو بتاو¿ قرآن میں تمہاری گھنی داڑھی اور میری مختصر داڑھی کا بھی ذکر ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: ہاں سورہ اعراف ہے یعنی جو اچھی زمین ہے اس کی ہریالی اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس میں سے نہیں نکلتی مگر تھوڑی بمشکل۔

تو اے یہودی! وہ اچھی زمین ہماری ٹھوڑی ہے اور خراب زمین تیری ٹھوڑی۔ معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کا علم بہت وسیع تھا کہ اپنی گھنی داڑھی اور یہودی کی مختصر داڑھی کا ذکر آپؓ نے قرآن مجید میں ثابت کردکھایا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن سارے علوم کا خزانہ ہے مگر لوگوں کی عقلیں اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔

حضرت علی ؓ علم کے اعتبار سے بھی علمائے صحابہؓ میں بہت اُونچا مقام رکھتے ہیں۔ نبی کریم کی بہت سی حدیثیں آپؓ سے مروی ہیں۔ آپؓ کے فتوے اور فیصلے اسلامی علوم کے انمول جواہر پارے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے جب بھی آپؓ سے کسی مسئلہ دریافت کیا تو ہمیشہ درست ہی جواب پایا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے سامنے جب حضرت علیؓ کا ذکر ہوا تو آپؓ نے فرمایا کہ علیؓ سے زیادہ مسائل شرعیہ کا جاننے والا کوئی اور نہیں ہے اور حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں علم فرائض اور مقدمات کے فیصلہ کرنے میں حضرت علیؓ سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی دوسرا نہیں تھا اور حضرت سعید بن مسیبؓ فرماتے ہیں کہ حضور پاک کے صحابہؓ میں سوائے حضرت علیؓ کے کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ جوکچھ پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ لو اور حضرت سعید بن مسیبؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ جب حضرت عمرؓکی خدمت کوئی مشکل مقدمہ پیش ہوتا اور حضرت علیؓ موجود نہ ہوتے تو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے کہ مقدمت کا فیصلہ کہیں غلط نہ ہو جائے۔ (تاریخ الخلفائ)

مشہور ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے ایک ایسی عورت پیش کی گئی کہ جسے زنا کا حمل تھا۔ ثبوت شرعی کے بعد آپؓ نے اس کے سنگسارکا حکم فرمایا۔ حضرت علیؓ نے یاد دلایا کہ حضور کا فرمان ہے کہ حاملہ عورت کو بچہ پیدا ہونے کے بعد سنگسارکیا جائے، اس لئے کہ زنا کرنے والی عورت اگرچہ گنہگار ہوتی ہے مگر اس کے پیٹ کا بچہ بے قصور ہوتا ہے۔ حضرت علیؓ کی یادہانی کے بعد حضرت عمرؓ نے اپنے فیصلہ سے رجوع کر لیا اور فرمایا: اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہو جاتا، علیؓ کی موجودگی نے عمرؓکو ہلاکت سے بچالیا۔

حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد دوسرے روز حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے علاوہ مدینہ طیبہ کے سب رہنے والوں نے آپؓ کے ہاتھ بیعت کی۔ آپؓ امیرالمومنین ہوگئے۔ حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓاور حضرت عائشہ صدیقہؓ نے بصرہ پہنچ کر قاتلین حضرت عثمان غنیؓ سے قصاص لینے کا مطالبہ آپؓ سے شروع کیا اور بہت سے لوگ اس مطالبہ میں شریک ہوگئے۔ جب حضر ت علیؓ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپؓ بھی عراق تشریف لے گئے، بصر ہ راستے میں ہی پڑتا تھا۔ یہاں ”جنگ جمل“ ہوئی، جس میں حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ شہید ہوگئے، ان کے علاوہ اور بھی دونوں طرف کے ہزاروں آدمی کام آئے، بصرہ میں آپؓ نے پندرہ روز قیام فرمایا اور پھرکوفہ تشریف لے گئے۔

آپؓ کے کوفہ پہنچنے کے بعد حضرت امیرمعاویہؓ نے آپؓ پر خروج کیا، ان کے ساتھ شامی لشکر تھا۔کوفہ سے حضرت علیؓ بھی بڑھے اور صفین کے مقام پرکئی روز تک لڑائی کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر یہ جنگ ایک معاہدہ پر ختم ہوئی۔ طرفین کے لوگ اپنے اپنے مقام کو واپس ہوگئے۔ حضرت امیرمعاویہؓ شام کو اور حضرت علیؓ کوفہ واپس چلے آئے۔

جب آپؓ کوفہ تشریف لائے تو ایک جماعت جس کو ”خارجی“کہا جاتا ہے، آپؓ کا ساتھ چھوڑکر الگ ہوگئی اور آپؓ کی خلافت سے انکارکرکے ”لاحکم الاللہ“کا نعرہ بلند کیا،یہا ں تک کہ آپؓ سے جنگ کرنے کیلئے لشکر تیار کرلیا۔ حضرت علیؓ نے ان کا سر کچلنے کیلئے حضرت ابن عباسؓ کی سرکردگی میں ایک لشکر روانہ فرمایا، طرفین میں جنگ ہوئی، خارجی شکست کھا کرکچھ توحضرت علیؓ کے لشکر میں شامل ہوگئے اور کچھ بھا گ کر نہروان چلے گئے اور وہاں پہنچ کر لوٹ مار شروع کردی۔ آخر حضرت علیؓ نے وہاں جاکر اِن کوتہہ ِتیغ کردیا۔ (تاریخ الخلفائ)


ای پیپر