سرکاری رہائش گاہیں صرف حقدار کو ملنی چاہیں : چیف جسٹس ثاقب نثار
03 اکتوبر 2018 (12:27) 2018-10-03

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ سرکاری رہائش گاہیں صرف حقدار کو ملنی چاہیے،پولیس کی مدد سے رہائش گاہیں سیل کردی جائیں، جو سیل توڑے اس کے خلاف عدالت ایکشن لے گی، سیکرٹری سامنے آئیں ، اسٹیٹ افسر کر آگے کررکھا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اسٹیٹ افسر کی جانب سے پیش کردہ عذر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آسان حل یہ ہے کہ پولیس کی مدد سے رہائش گاہیں سیل کردی جائیں، جو سیل توڑے اس کے خلاف عدالت ایکشن لے گی۔سماعت کے دوران درخواست گزار نے کہا کہ جنوری میں بچوں کے امتحانات ہونے ہیں اور سی ڈی اے کی جانب سے بقایاجات کے مد میں 148 ملین روپے کا تقاضا بھی کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی ڈی اے کا گن کلب والا ایشو بھی ابھی تک حل نہیں ہوا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے نے ابھی تک گن کلب کا بھی قبضہ نہیں لیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کراچی میں اب تک 4220 گھر خالی کرا چکے ہیں ۔

جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہا کہ آپ صرف اسلام آباد کی بات کریں۔ چیف جسٹس کی سرزنش پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک ناجائز گھر خالی کرانے پر 15 سے 20 ہزار روپے فی گھر خرچ آتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے استفا ر کیا کہ اس معاملے کے انچار ج کہاں ہیں، بتائیں کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟، کیا دہاڑی دار لوگ بھرتی کیے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں ساڑھے چار ہزار گھر خالی کرانے کے لیے ایک انسپکٹر بھرتی کر رکھا ہے۔اس موقع پراسٹیٹ افسر نے کہا کہ اگر گھر خالی کرانے کے لیے مزدورلیں تو 7 ہزار روپے خرچہ آتا ہے اور ہمارے پاس ٹرانسپورٹ کا بھی ایشو ہے۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آسان حل یہ ہے کہ پولیس کو ساتھ لیں ، جس پر کوئی خرچہ نہیں ہوتا اور گھر سیل کردیں۔ کسی نے سیل توڑی تو ہم ایکشن لیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری سامنے آئیں ، اسٹیٹ افسر کر آگے کررکھا ہے۔

مزید برآں سپریم کورٹ نے پنجاب میگا پروجیکٹ کیس میں تمام کمپنیوں اور فریقین کو مل بیٹھ کر قابل قبول حل دینے کی ہدایت کردی‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جو وقت ہم نے دیا تھا اسے مزید نہیں بڑھائیں گے‘ نیب کی گرفتاری سے بچنے کے لئے آپ کو تحفظ دیتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں کہ میٹرو پروجیکتس دی گئی ٹائم لائن میں مکمل ہوں‘ منصوبوں میں الجھنیں ہیں انہیں مل بیٹھ کر حل کریں۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں پنجاب میگا پروجیکٹ کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے تمام کمپنیوں اور فریقین کو مل بیٹھ کر قابل قبول حل دینے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ میٹرو پروجیکتس دی گئی ٹائم لائن میں مکمل ہوں۔ مجھے لاہور کے شہریوں کے مسائل کا اندازہ ہے گاڑیاں‘ رکشے اور موٹر سائیکل والے تک وہاں سے نہیں گزر سکتے۔ میٹرو کی تعمیر کی وجہ سے شہریوں کو مسائل ہیں۔ نعیم بخاری نے بتایا کہ نیب اینٹی کرپشن اور دیگر ادارے تنگ کررہے ہیں جن اداروں نے انکوائری کرنی ہے کام مکمل کرنے کے بعد کرلیں ہم تیار ہیں۔ نیب کو بلوا کر ان کا موقف جان لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ منصوبوں میں الجھنیں ہیں انہیں مل بیٹھ کر حل کریں جو وقت ہم نے دیا تھا اسے مزید نہیں بڑھائیں گے۔ نیب کی گرفتاری سے بچنے کے لئے آپ کو تحفظ دیتے ہیں۔ نعیم بخاری نے بتایا کہ ایف آئی اے اور نیب کی وجہ سے خوف کی فضا ہے۔ 


ای پیپر