فوٹوبشکریہ فیس بک

رضوان گوندل کو تبدیل کرنا بزدار سرکار کو مہنگا پڑنے لگا
03 اکتوبر 2018 (12:12) 2018-10-03

لاہور: ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ وزیراعلیٰ پنجاب کو مہنگا پڑنے لگا، عثمان بزدار پر بھی نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی۔

سپریم کورٹ میں ڈی پی او تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب آرٹیکل 62 ون ایف کو تعویز کے طور پر باندھ لیں، کل بھی دو لوگوں کو معافیاں دیں، اب ایسا نہیں ہوگا۔

پولیس نے عدالت میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے حکم پر ڈی پی او پاکپتن کو ٹرانسفر کیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے ربڑ اسٹیمپ کے طور پر کام کیا جس پر چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو پولیس رپورٹ پر 3 دن میں جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

دوران سماعت خاور مانیکا آبدیدہ ہو گئے، کہا پولیس رپورٹ کے حقائق سے متفق نہیں، کیا میں بچوں کے لیے اپنی سابق بیوی یا عمران خان سے بات کرتا؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں، آپ مقدمے سے الگ ہوجائیں، ہم خود انکوائری کر رہے ہیں۔

جو بھی کہنا ہے تحریری جواب کی صورت میں کہیں چیف جسٹس ثاقب نثار کا خاور مانیکا سے مکالمہ۔ سپریم کورٹ نے 8 اکتوبر کو ایڈووکیٹ جنرل، احسن گجر اور خاور مانیکا سے تحریری جواب طلب کرلیا۔


ای پیپر