”روحانیت میں بھی سیاست “
03 اکتوبر 2018 2018-10-03

قارئین کرام، لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں یکے بعددیگرے ایسی شخصیات اور ایسی ہستیاں مدفون ہیں کہ جنہیں دفنانے کے بعد بھی ان کی قبروں سے مسلسل خوشبو آتی رہی ، اور ہفتہ دس دن گزرنے کے بعد بالآخر جامعہ اشرافیہ سے صاحب علم کو بلواکر اور تلاوت وتسبیح سے اس سلسلہ کو بند کرایا گیا، ان میں ایک نام مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمة اللہ علیہ ہیں ، جو جامعہ اشرفیہ میں طلبا کو عرصے سے درس حدیث دے رہے تھے، جن کا وصال چند سال قبل ہوا تھا، اس کے بعد پچھلے سال رمضان المبارک سے قبل جناب صوفی سرور صاحب کا انتقال ہوا وہ بھی جامعہ اشرفیہ میں تدریس طلباءمیں کئی سالوں سے دل وجان سے مصروف تھے اس کے علاوہ مولانا احمد علی لاہوری صاحب، جن کے نام سے ہرصاحب تصوف اور طالب شعور آگہی واقف ہے، ان کی قبرمبارک سے بھی مسلسل خوشبو کی آمد رہی تھی، ان کا ایک مشہور فرمان ہے، کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا پسندیدہ مذہب اتنا آسان ہے، کہ اگر میں ریلوے سٹیشن پہ کھڑا ہوں، اور کوئی مجھ سے اسلام کے بارے میں پوچھے اس وقت گاڑی چلنے کے لیے بالکل تیار ہو، حتیٰ کہ گارڈ سیٹی بھی بجادے ، اور ریل گاڑی کے چلنے کے لیے سبز جھنڈی بھی دکھادے، تو میں فوری طورپر مکمل اسلام کا مکمل خلاصہ بیان کرسکتا ہوں کہ ایک مسلمان کے لیے یہ ضروری ہے کہ صرف

۱۔وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔

۲۔وہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ﷺ کی اطاعت کرے۔

۳۔وہ مخلوق خدا، اس میں انسان سمیت، دیگر مخلوقات بھی شامل ہیں، جن میں حیوانات ، نباتات، جمادات وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ان کی خدمت کرے۔

الحمدللہ ہمارا ملک بھی اسلامی ملک ہے، اور حکمران بھی مسلمان ہیں، لہٰذا مجھے امید ہے کہ وہ شعائر اسلامی کی پابندی کریں گے، جس کی جھلک ابھی تک نہ تو عوام کو نظر آئی ہے، اور نہ مجھے، مگر چونکہ ہم پہ سودنوں کی پابندی ہے، لہٰذا ہم اپنی تحریر کا رخ برادرم محترم سہیل وڑائچ کی طرف موڑ لیتے ہیں، جنہوں نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت خاتون اول کے روحانی فیوض وبرکات کی بدولت چل رہی ہے ، بعد میں انہوں نے معذرت بھی کرلی تھی۔ اب یہ روحانی سرپرستی کس کی ہے، اس سے اجتناب کرتے ہوئے اور خاتون اول کے انٹرویو کو زیر بحث لائے بغیر میں صرف یہ لکھنے کی جسارت کرتا ہوں، کہ چونکہ بات تصوف اور روحانیت کی چل نکلی ہے، تو تھوڑی سی بات اس پر بھی ہوجائے، کہ میرا نقطہ نظر اور کشف المحجوب میں درج تصوف کی تعریف کیا ہے، پہلی بات تو یہ ہے ، کہ جس سے صرف میں ہی نہیں، تمام اہل علم واقف ہیں، کہ بعض ولی اللہ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کو خود پتہ نہیں ہوتا کہ وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے دوست ہیں اور ولی اللہ اپنی کرامات اور بزرگی کو اس طرح سے چھپاتا ہے ، کہ جیسے ایک عورت اپنے حیض کو چھپاتی ہے۔ تصوف میں یہ لکھنا، کتاب لکھنے کی متقاضی ہے، کیونکہ اس معاملے میں مختلف بزرگان دین کی رائے مختلف ہے، لہٰذا میں مختصراً تحریر کرتا ہوں، محمدعلی بن الحسین ابی طالب ؓنے فرمایا کہ تصوف نیک خوئی اور خوش اخلاقی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غصے سے مغلوب کسی ”ہتھ چھٹ“کو نیک خو،یا صاحب تصوف کہا جاسکتا ہے؟ جو زیادہ نیک خو ہو، وہ زیادہ صوفی ہوتا ہے، نیک خوئی خدا کے ساتھ اور بندوں کے ساتھ، خدا کے ساتھ نیک خوئی اس کے احکامات کی پابندی ہے، اور بندوں کے ساتھ نیک خوئی یہ ہے کہ خدا کے لیے ہی ان سے میل جول رکھا جائے، تحریک انصاف نے خدا کے بندوں کی خاطر کیا کیا ہے ؟ مرتعشؒ فرماتے ہیں کہ قول اور قدم میں کوئی فرق نہ ہو، حضرت جنید ؒ فرماتے ہیں کہ تصوف اور روحانیت کی بنیاد آٹھ خصائل پر ہوتی ہے جو آٹھ پیغمبروں کی اقتدا ہے، سخاوت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو فدا کردیا، رضا میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کہ انہوں نے بھی رضائے خداوندی میں اپنی جان عزیز کا نذرانہ پیش کردیا، صبر میں حضرت ایوب علیہ السلام کہ انہوں نے غیرت خداوندی پہ بھروسہ کیا، اور کیڑوں کی مصیبت کو بھی برداشت کیا، اشارات میں حضرت ذکریا علیہ السلام کہ جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تین دن تک لوگوں سے بات چیت مت کرو، مگر اشارے سے، اور فرمایا کہ جب اس نے اپنے رب کو پکارا مگر چپکے سے، غربت میں یحییٰ علیہ السلام کہ وہ اپنے وطن میں بھی اپنوں سے بے گانہ تھے، صوف پوشی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کا تمام لباس اون کا ہوتا تھا، سیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو، وہ راہ خدا میں اتنے مجرد اور تنہا تھے کہ سامان زندگی میں صرف پیالہ اور کنگھی رکھتے تھے، اور جب یہ دیکھا کہ ایک آدمی ہاتھ سے پانی پی رہا ہے ، تو پھر پیالہ پھینک دیا اور جب یہ دیکھا کہ شخص اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اپنے بال درست کررہا ہے، تو پھر انہوں نے کنگھی بھی پھینک دی، اور فقر میں حضرت محمدﷺ کو اللہ جل شانہ نے روئے زمین پہ سب خزانوں کی چابیاں عطا فرمائیں، اور حکم دیا کہ محنت ومشقت چھوڑ کر شان وشوکت سے زندگی بسرو کرو، مگر حضورﷺ نے عرض کی باری تعالیٰ میں خزانے نہیں چاہتا، مجھے ایک روز سیر ہوکر کھانے کو دے اور دوسرے روز بھوکا رکھ، یہ اصول راہ طریقت میں بہترین ہے۔ حصری ؒ فرماتے ہیں، کہ تصوف پہ چلنے والا، وہ شخص ہوتا ہے کہ جس کی فنا کو ہست نہیں، اور جس کی ہست کو فنا نہیں، یعنی جو اسے حاصل ہو، اسے کھوتا نہیں، اور جو کھوجائے، تو اسے حاصل نہیں کرتا، یعنی وہ عوارضات انسانی سے بری ہوجاتا ہے، محمد بن احمدؒ فرماتے ہیں کہ اہل تصوف وروحانیت کو اس کے حال سے برگشتہ نہیں کرسکتے، اور غلط راستے پہ نہیں ڈال سکتے، کیونکہ جس کا دل ”خالق حالات“ سے وابستہ ہے، حالات اسے مقام استقامت سے ہٹا نہیں سکتے، اور وہ راہ حق سے بھٹک نہیں سکتا۔

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ تصوف اور روحانیت پہ کئی ابواب ہیں لہٰذا اس کا احاطہ کرنا ناممکن ہے، تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ حاصل کلام یہ ہے، جو مسلمان ”توکل“ پہ اپنی زندگی کا دارومدار متعین کرکے محض اسے ہی نصب العین بنالیتا ہے، وہی نہ صرف دنیا و آخرت میں کامیاب ہے بلکہ وہ ہی سچا مسلمان کہلانے کا حقدار ہے، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جو اپنے دوست بنائے ہیں، اور جن کو وہ دوست بناتا ہے، اس کی تفصیل اگلی دفعہ انشاءاللہ بیان کروں گا، فی الوقت قارئین جیسا کہ میں نے پہلے کہا، کہ مسلمان کو ”توکل“ پہ مکمل تکیہ کرنا چاہیے، کیونکہ راضی برضا رہنا فقیر کی شان ہے، واردات قلبی و روحانی عطیات الٰہی ہوتے ہیں، حرام جانور کبھی ذبح نہیں کیا جاسکتا کڑوی دوائی شفا کے لیے پی جاتی ہے، غلام کے لیے آقا کا حسن اختیار خوب ہوتا ہے، تدبیر کرنے سے، خدا سے غافل ہونے کا پتہ دیتا ہے، لیکن مسبب الاسباب ، اور مسبب کی بحث علیحدہ ہے، بندے کو اپنے فرائض ضرور ادا کرنے چاہئیں، میزبان ، مہمان کا ذمہ دار ہوتا ہے، اللہ بندے کے گمان کے ساتھ ہوتا ہے ، عبدیت تمام مقامات سے افضل ہوتی ہے، مراد حاصل کرنے کے لیے بے مراد ہوجانا چاہیے، شیطان کی دشمنی میں بڑھنے کی بجائے رحمن سے دوستی حاصل کرجیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، قارئین اسلام انتہائی سادہ مذہب ہے، اس کو خدا کے لیے پیچیدہ نہیں بنانا چاہیے ، اسی لیے کہتے ہیں کہ غلط کام کرنے کی نشاندہی ضمیر اور قلب کی خلش اور بے چینی کردیتی ہے، اللہ فرماتا ہے کہ کوئی سوسال جیئے یا ہزار سال ، آخر کارتو اس نے میرے پاس ہی آنا ہے۔

پیدا ہوا، جیا اور ، مر گیا !!!

کل تین باب آدمی کی داستاں کے ہیں

(جاری ہے)


ای پیپر