ان پہ مرمٹنے کا جذبہ، کل بھی تھا اور آج بھی ہے
03 نومبر 2020 (11:49) 2020-11-03

عین ربیع الاول کی مبارک ساعتوں میں فرانس نے ناموس رسالت پر حملہ کی جو ناپاک جسارت کی ہے اس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے تن بدن میں آگ لگا دی ہے۔ اس وقت عملی طور پرتمام مسلمان ملک جارحانہ ردعمل کااظہار کر رہے ہیں اورسب سے بھرپورردعمل ترکی کی جانب سے آیا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر احتجاج جاری ہے لیکن وہ ردعمل جو اس موقع کا تقاضا تھا وہ حکومتی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اپوزیشن، ادارے اور تمام اسلامی ممالک ناموس رسالت کے ایجنڈے پر اکٹھے ہوکر فرانس کو مزہ چکھاتے، ان کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرتے اس معاملے پر عالمی سطح پر اتنا احتجاج کرتے کہ فرانس اپنے مقاصد میں ناکام ہوجاتا۔ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے تمام ذرائع اسکی شہہ سرخیاں لگاتے پوری دنیا کے مسلمان فرانس کی فلائٹس، مصنوعات، سب کا بائیکاٹ کرتے اس کے سفارت خانے بند کر دیئے جاتے۔ 

 لیکن اس بار ایسا لگ رہا ہے جیسے احتجاج میں وہ گرم جوشی نہیں ہے۔ یعنی نعوذ باللہ ہم اب اس موضوع پر بھی کمپرومائز کرنے والے ہیں جو ہماری زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ 

علامہ اقبال نے تو کفار کی اس سازش سے سو سال پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا 

وہ  فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا 

روح محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بدن سے نکال دو 

ابلیس کو پتہ ہے کہ یہی وہ واحد رشتہ ہے جو پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک امت بنا دیتا ہے اور پھر کالے گورے عجمی عربی کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ پھر روح محمد نکالنے کے لیے قادیانی جماعت تیار کی جاتی ہے، ان کو مراعات دی جاتی ہیں اہم عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔ بات نہیں بنتی تو خود ہی اس قوم کو فرقوں میں بانٹ دیا جاتا ہے ان کو بدعت کے اندھے کنویں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ 

 لیکن پھر بھی کیا حاصل! 

سبحان اللہ میرے رب کی شان ہے کہ 

اتنی مذموم اور منظم پلاننگ کے باوجود قرآن کے فیصلے کے مطابق 

ان شانئک ہو الابتر 

بے شک آپ کادشمن بے مراد ہے!  

اور ورفعنا لک ذکرک کی صدائیں ہر جا بلند ہیں 

دنیا بھر میں درود و سلام کی محفلیں جاری ہیں۔

 ان کی عظمت پر ذرہ برابر بھی آنچ نہ آئی ہے نہ ہی اللہ کبھی ایسا ہونے دے گا۔ اصل امتحان تو ہمارا مقصود ہے کہ ہم ان خاکوں پر گھربیٹھے بیٹھے صرف سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہیں یا پھر اپنی زندگی کو حضرت محمدؐ کی زندگی کے سانچے میں ڈھالتے ہوئے ان کے سچے عاشق ہونے کا حق ادا کرتے ہیں۔  

علامہ اقبال جواب شکوہ میں فرماتے ہیں۔

 چشمِ اقوام یہ نظّارہ ابد تک دیکھے

رفعتِ شانِ ’رَفَعْنَا لَکَ ذِکرَْک‘ دیکھے

اسی جواب شکوہ میں علامہ اقبال فرماتے ہیں: 

قلب میں سوز نہیں، رُوح میں احساس نہیں 

کچھ بھی پیغامِ محمّدؐ کا تمہیں پاس نہیں 

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں 

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں 

سبحان اللہ کیا خوبصورت پیغام دیا ہے انہوں نے جس کو سمجھنے سے ہماری نسل نو قاصر ہے۔

(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)

یا درکھیں 

ساری کائنات بھی سید الانبیاءؐ کی مدحت و ستائش میں مصروف ہو جائے۔ تب بھی آپؐ کی تعریف کا حق ادا نہیں ہو سکتااوراس کائنات میں ایک بھی مسلمان کہلانے والا باقی نہ رہے تب بھی آپ ؐ کی تعریف بیان ہوتی رہے گی۔ اس لئے خاکے تو بہت معمولی چیز ہے اس کے بنانے والے تو خاک ہوجائیں گے لیکن آپؐ کا ذکر ہمیشہ قائم دائم رہے گا۔ 

ذرا غور کریں، اللہ تعالیٰ نے نبی پاکﷺ کے ذکر کو اس طرح بلند کیا ہے۔ مؤذن، ایک دن میں پانچ وقت کی اذان دیتے ہوئے ”اشہدان لا الہ الا اللہ کہتا ہے اور پھر ساتھ ہی اشہد ان محمد رسول اللہ بھی کہتا ہے اس طرح کرہ ارض پر ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں ہزاروں، لاکھوں مؤذن بیک وقت خدائے بزرگ و برتر کی توحید اور حضرت محمد رسول اللہﷺ کی رسالت کا اعلان نہ کر رہے ہوں (اور ان شاء اللہ العزیز یہ سلسلہ تاقیامت اسی طرح جاری رہے گا)۔نمازکے دوران کروڑوں مسلمان درود ابراہیمی  پڑھتے ہیں اور ان کا ذکر جاری ساری رہتا ہے۔ 

کائنات کا کوئی شخص آپؐ کی تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا، کہے گا تو بس یہی کہے گا۔ 

 بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

یعنی ”عرش والے کے بعد اگر کائنات کے اندر سب سے زیادہ کسی کی تعریف کی جاسکتی ہے تو صرف مدینہ کے تاجدارؐ کی، کی جاسکتی ہے اور کسی کی نہیں“۔ (ﷺ)

اب آپ خود بتائیں کہ تخلیق کائنات کا مقصد اور دو جہانوں کے سردار کیا صرف موضوع بحث ہیں؟

نہیں وہ تو موضوع محبت، عقیدت  اور عظمت ہیں۔ 

آپ کہتے ہیں آپ کو رسولؐ سے محبت ہے، یہ صرف ایک دعویٰ ہے؟ 

جب دعویٰ کرتے ہیں تو اسے عمل سے ثابت کرتے ہیں۔ 

کیا صرف درود پڑھنا، لائٹیں لگانا، نعتیہ محفلیں بس یہی محبت کا تقاضا ہے باقی کچھ نہیں! 

 کیا آپ میں سے کسی نے یہ سوچا کہ ہم وہ سب کام چھوڑ دیں جن سے ہمارے نبیؐ نے منع فرمایا ہے اور ہر وہ کام لازمی کریں جن کا انہوں نے حکم دیا ہے؟

اگر آپ گستاخانہ خاکوں کے خلاف عملی، قلمی جدوجہد کر رہے ہیں تو بے شک یہ محبت کا ایک ثبوت ہے۔ 

اگر آپ ربیع الاول کے مہینے میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ مل کر سیرت کانفرنس اور محفل میلاد کا انعقاد کرتے ہیں تو یہ بھی بلا شبہ ایک محبت کا انداز ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود اگر آپ جھوٹ بولتے ہیں، قطع رحمی کرتے ہیں، معصوم بچوں کا قتل عام کرتے ہیں،انصاف کا گلہ گھونٹتے ہیں،  مظلوموں یتیموں بیواؤں کو اذیت دیتے ہیں، کرپشن کرتے ہیں، بے حیائی کے کام کرتے ہیں، بد زبانی کرتے ہیں، الغرض ہر وہ کام کرتے ہیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تو پھر یقین مانیں اوپر والے کام محض عمل برائے عمل ہیں کیونکہ آپ کا کردار اس کی گواہی نہیں دیتے اور اعمال کا تو دارومدار ہی نیتوں پر ہوتا ہے۔ 

محبت تو یہ ہے کہ خود کو ان کے سانچے میں ڈھال لیں۔ فرقوں میں بٹنے کے بجائے صرف  عشاقِ  محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا ایک فرقہ بنا لیں۔ ان کے نقش قدم پر چلتے چلتے منزل مقصود تک پہنچ جائیں دشمن کو اس کا جواب خود ہی مل جائے گا۔ 

 بقول علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ 

 قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے


ای پیپر