پاکستان کے انتقام پسند سیاستدانوں اور حکمرانوں کی نذر!
03 نومبر 2020 2020-11-03

عیدمیلادالنبی کے موقع پر، یا اِس مبارک ترین مہینے میں کچھ واقعات میں اپنے پاکستان کے انتہائی انتقام پسند حکمرانوں وسیاستدانوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں،.... مجھے پتہ ہے اِس کا اُن پر اثر تو کوئی ہونا نہیں، پراپنے حصے کی شمع جلادینے سے اپنے ہی دل کا بوجھ تھوڑا بہت شاید ضرور ہلکا ہو جائے، میں بس اُن سے ایک سوال پوچھتا ہوں، اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر، حلفاً بتائیں آپ کی تعلیمات پر عمل نہ کرنا بھی ایک طرح کی ”توہین“ نہیں، اِس حوالے سے سب سے زیادہ احتجاج ہمیں اپنے ہی خلاف کرنے کی ضرورت ہے، پر مجھے یقین ہے ہماری ”منافقت“ یہ ضرورت کبھی پوری نہیں ہونے دے گی “....آپ نے جب اعلان نبوت فرمایا کفار کی طرف سے دباﺅ بڑھ گیا اور حضرت سمعیہؓ وحضرت یاسرؓ جیسی شخصیات شہید ہوئیں، اُن میں سے بعض کو سخت ایذائیں پہنچا کر، اور بھوکا پیاسا رکھ کر، اور بعض کے سینوں میں نیزے وتیر اُتار کر اُنہیں شہید کیا گیا، اُس کے بعدہجرت کا سلسلہ شروع ہوا،پہلے حبشہ کی طرف ہجرت ہوئی پھر وہاں سے واپسی پر مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی، اُس سے پہلے اُم المومنین حضرت خدیجہؓ اور ابوطالبؓ کی وفات کی صورت میں (سالِ غم) پیش آیا ، جس کے نتیجے میں آپ مادی وظاہری حیثیت سے بے یارومددگار رہ گئے، درحقیقت اللہ ایک ایک کرکے آپ کے تمام ظاہری اسباب اور سہارے چھین رہے تھے تاکہ آپ صرف اور صرف ”مسبب الاسباب“ کی جانب متوجہ ہو جائیں، یہ قانون فطرت ہے کہ مقربین کو اُس وقت تک ”مسبب الاسباب“ کا مکمل دھیان نصیب نہیں ہوتا جب تک تمام دنیاوی اسباب ختم نہ ہوجائیں، لہٰذا صرف اللہ کی طرف توجہ کے حصول اور فطری میلان اور اضطراری جبر کے ذریعے نورتوحید کے اسرار جاننے کے لیے تمام اسباب کا خاتمہ ناگزیر تھا، جس کے نتیجے میں آپ کے وجدان میں حضرت یونسؑ کی طرف احدیت کا راز افشا ہوا، آپؑ سلامتی کے ساحل پر پہنچے، آپؑ کے لیے کدو کی بیل اُگی اور آپ نے عظیم نورخداوندی کا مشاہدہ کیا، اگرچہ جس راستے پر اللہ پاک نے آپ کو چلنے پر مجبور کیا وہ مشکل اور پُرمشقت تھا مگر یہ آپ کے لیے ناقابل برداشت نہ تھا کیونکہ آپ نصرت خداوندی سے انتہائی مضبوط اور ناقابلِ شکست انسان تھے، عجز اور فکر آپ کے بازو تھے، آپ نے اپنے قول وفعل سے کبھی کسی کو تکلیف نہ پہنچائی یہاں تک کہ آپ اگر کسی کو چُھری پکڑاتے اُس کا پھل والا حصہ اپنی طرف اور دستے والا حصہ دوسرے شخص کی طرف کرتے تاکہ کہیں وہ خوفزدہ نہ ہوجائے، آپ اپنے کردار اور معاملات میں اس قدر چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال فرماتے تھے، آپ نے دوسروں پر ہمیشہ رحم کا معاملہ فرمایا، اِس کے باوجود چمگادڑصفت لوگوں کو قرآنی تعلیمات اور دعوت کی روشنی پھیلنے سے سخت پریشانی لاحق تھی، اُنہوں نے اس روشنی کو پھیلنے سے روکنے کی ہرممکن کوشش کی، اگرچہ آپ رہنما اور سپہ سالار تھے اِس کے باوجود اپنے پیروکاروں سے گھل مل کر رہتے تھے، آپ نے صحابہ کرامؓ میں مواخات قائم کرکے معاشرتی مسائل کو فوری طورپر حل فرمایا، آپ نے اہلِ کتاب کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیے اُن کی طرف خود صلح کا ہاتھ بڑھایا اور امن کا دستور تشکیل دیا، آپ کا یہی عمل تھا جس کے نتیجے میں آپ متفقہ طورپر ایک بااعتماد اور امن پسند شخص قرارپائے۔ جنگ بدر میں آپ نے کفار کے سروں پر ایسی ضرب کاری لگائی وہ دوبارہ مسلمانوں سے ٹکر لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے، مگر اُن کے دِلوں میں غصے اور دُشمنی کے جذبات کسی طورپر کم نہیں ہورہے تھے، حالانکہ آپ نے جنگ بدر کے بعد اُن کے ٹوٹے ہوئے دِلوں کی پیش نظر اُن کے ساتھ ہرممکن حدتک حُسن سلوک فرمایا، آپ اُن تمام قیدیوں کے سرقلم کرنے کا حکم بھی دے سکتے تھے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا، اِس کے باوجود آپ نے اُن پر احسان فرماتے ہوئے اُنہیں معاف کردیا، اور ارشاد فرمایا ” ہمیں اِن سے درگزر کرنی چاہیے“.... آپ کے اِس عمل سے کفار بہت متاثر ہوئے، ابوجہل کا بھائی ابن ہشام قبول اسلام تک دوبارہ آپ کے خلاف کسی جنگ میں شریک نہ ہوا، قیدیوں کے گھر والے اور دیگر رشتہ دار اُن کی زندگیوں سے مایوس ہوچکے تھے مگر جب اُنہوں نے اُنہیں ہرقسم کی تکلیف سے محفوظ اور صحیح سالم دیکھا تو اُن میں احسان شناسی کا احساس پیدا ہوا، اُنہوں نے مسلمانوں کو جو تکلیفیں دی تھیں، جو ایذائیں پہنچائی تھیں وہ اُن سے بخوبی واقف تھے، اِس کے باوجود آپ نے قریش کے بڑوں سے اِس قدر نرمی اور مروت کا برتاﺅ کیا کہ ایسا نرم برتاﺅ اہل مکہ اپنی اولادوں سے بھی نہیں کرتے تھے، آپ کے اِس اچھے برتاﺅ نے قریش اور اُن کے خلیفوں کے دِل جیت لیے، حتیٰ کہ ابوجہل جنگ بدر میں قتل نہ ہو گیا ہوتا تو اُس کے گھرانے میں سوائے اُس کے کوئی بھی حالتِ کفر میں نہ رہتا، کیونکہ اِس گھرانے کے ہرفرد کا دِل نرم پڑچکا تھا، یہاں تک کہ ابوسفیان جو بنو اُمیہ میں اسلام کے شدید ترین مخالف تھے کے رویے میں بھی نرمی پیدا ہوگئی تھی، یہی وجہ تھی کہ غزوہ اُحد کے موقع پر میدان بدر میں ایک اور جنگ کا چیلنج دینے کے باوجود وہ دوسرے غزوہ بدر کے لیے نہ نکلے، اگر آپ اِس نرمی یا مروت کا مظاہرہ نہ فرماتے نہ جانے کتنے ناخوشگوار واقعات جنم لیتے، ....آپ کے دوسروں کو معاف کرنے، درگزر کرنے، رحم کرنے کے کروڑوں واقعات ہیں جن سے سب سیکھ کر دِلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بھری ہوئی نفرتوں سے ہم آسانی سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں، میں اپنے انتقام پسند سیاسی وغیرسیاسی حکمرانوں سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، کیا وہ سب ”فرشتے“ ہیں؟، اُنہوں نے اپنی زندگیوں میں کوئی گناہ کوئی غلطی کوئی جُرم نہیں کیا؟ کسی نے ملک لُوٹا، کسی نے عزتیں لُوٹیں، جس کا جتنا بس چلا اپنے اپنے طورطریقوں سے اِس ملک کو بداخلاقی اور بدحالی کے اس بدترین مقام پر پہنچانے میں سب نے حصہ ڈالا، ....تمام سیاسی وغیر سیاسی حکمران اور سیاستدان اتنی غلطیوں ، اتنے گناہوں اور اتنے جرائم پر اپنی عدالتوں سے خصوصاً اپنے اللہ کی عدالت سے رحم کی اُمید رکھتے ہیں تو یہ اپنے مُلک پر رحم کیوں نہیں فرماتے؟ اپنے ملک کے کروڑوں بے بس اور بے کس عوام پر رحم کیوں نہیں فرماتے؟، یہ سب اپنی اپنی ذاتی لڑائیاں، مفاداتی لڑائیاں اور دیگر ہرقسم کی لڑائیاں یا ”جنگیں“ چھوڑ کر اِس ملک کوخوشحال کرنے کے لیے اکٹھے مِل کر کیوں نہیں بیٹھتے؟، ....”تم ہی نے درد دیا ہے، تم ہی دوا دینا“ کے مطابق اِس مُلک کو اُنہوں نے برباد کیا ہے تو آباد کیوں نہیں کرتے؟، اور اگر نہیں کرتے تو آپ سے”سچی محبت“ کے دعوے اُنہیں بند کردینے چاہئیں،!!


ای پیپر