آستین کے سانپ کب تک پالے جائیں گے؟ 
03 نومبر 2020 2020-11-03

پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاست کا کوئی الگ ہی رنگ نکل آیا ہے۔حکمران جماعت ہو یا اپوزیشن جماعتیں سب ہی جانب سے متنازعہ بیانات کا نیا چلن سامنے آیا۔ جو سیاستدان جتنا بھونڈا اور مضحکہ خیز بیان ریاستی اداروں سے منصوب کرے وہی مزاحمتی سیاست کا ہیرو گردانا جانے لگا۔ گو کہ ان سیاستدانوں کی پرورش بھی اسٹیبلشمنٹ ہی کی گود میں بڑے لاڈ پیار سے کی جاتی رہی ہے۔پھر جب انہیں اپنے قد اور کاٹ پر ذرا گھمنڈ آنے لگتا تو وہ اسٹیبلشمنٹ پر ہی انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں۔ایسا ہی کچھ مسلم لیگ ن کی لندن بیٹھی قیادت اور تین بار کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کر رہے ہیں۔پاکستان میں ان کی صاحبزادی مریم صفدر اعوان ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کو پھیلا رہی ہیں۔کہا اور سنا یہی گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ جاری کرنے والوں کو ماضی میں نشانہ عبرت بنایا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس مرتبہ اور شائد پہلی بار کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ پنجاب کی تیزی سے اپنی ساکھ کھوتی جماعت کے غدار رہنما سے پڑا ہے ۔ پنجاب سے تعلق ہونے کی وجہ سے شائد آستین کے سانپ کو اتنا وقت دیا جارہا ہے اور مسلسل تنقید پر اسٹیبشلمنٹ خاموش ہے ۔ پنجاب سے باہر کی جماعتوں اور ان کے رہنماو¿ں کو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانات پر مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔

ایسی ہی کچھ مثالیں آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہیں۔

ایم کیو ایم کے ساتھ کیا ہوا؟بائیس اگست 2016 کی متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کے بعد ایم کیوایم بحران کا شکار ہوئی۔ اسی تقریر کے بعد الطاف حسین اور ان کی متحدہ قومی موومنٹ کا پاکستان کی سیاست سے کردار ختم کر دیا گیا۔ہر ہر سطح پر الطاف حسین اور ان سے وابستہ افراد سے تعلق ختم کرایا گیا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک کراچی اور ملک کی سیاست پر راج کرنے والے شخص کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھیکا گیا۔متحدہ قومی موومنٹ بھی کئی حصوں میں تقسیم کردی گئی اور عام افراد کے سامنے بھی جب قیادت کے چہروں پرپڑی نقاب ہٹائی گئی تو سب ہی دور ہو گئے۔کہنے کا مقصد ہے یہ سب کچھ اداروں کے چاہنے پر ہی ممکن ہو سکا۔ایک وقت تک ان کے ظلم و ستم پر سب ہی خاموش رہا کرتے تھے نا جانے کون سے اور کس کے وسیع تر مفاد میں ایسا ہوتا رہا؟بہرحال جب اداروں نے چاہا کہ بہت ہو گیا تو پوری کی پوری ایم کیو ایم ہی کی بساط ہی لپیٹ دی گئی۔ 

 سید منور حسن کے ساتھ کیا ہوا؟اسی طرح اب بات کرلیتے ہیں سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی ان کے ساتھ کیا کچھ کر دیا گیا۔ جماعت اسلامی کو ملک کی سب سے منظم مذہبی سیاسی جماعت قرار دیا جاتا ہے۔مولانا سید ابوالاعلی مودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد اور سید منور حسن جماعت اسلامی کے امیر رہ چکے ہیں۔سراج الحق جون 2014 سے جماعت اسلامی کے امیر ہیں۔1941 سے لے کر آج جماعت اسلامی کے مجموعی طور پر پانچ امیر گزرے ہیں۔ان میں صرف کراچی سے تعلق رکھنے والے سید منور حسن ہی ایسے امیر گزرے ہیں جو دوسری مدت کے لیے امیر منتخب نہیں ہو سکے۔اگر جماعت اسلامی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ سربراہان نے صحت کا ساتھ نہ دینے پر عہدہ سے علیحدگی اختیار کی۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی بھی امیر کو دوسری مدت کے انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ایسا صرف اور صرف منور حسن کے ساتھ ہوا کیونکہ وہ کھلم کھلا سلامتی کے اداروں کے خلاف بیانات دیتے تھے۔اس کا مطلب یہی ہوا کہ پھر ان کی خواہش پر منور حسن کو جماعت اسلامی کی قیادت سے دور کرنے کا کہا گیا۔

 پی ٹی ایم کے ساتھ کیا ہوا؟پشتون تحفظ موومنٹ کو قومی دھارے سے کیوں الگ کیا گیا ۔ پشتوں حقوق کے تحفظ کےلئے مئی 2014 میں بننے والی پی ٹی ایم جلد ہی عتاب کا شکار کیسے ہوئی۔ نوجوان نقیب اللہ محسود کی جنوری 2018 میں کراچی میں ماورائے عدلت قتل نے اس تحریک کو ایندھن فراہم کیا۔اسی قتل نے محفوظ تحفظ تحریک کو پشتون تحفظ تحریک کی شناخت فراہم کی۔نوجوان منظور پشتون نے اس کی باگ ڈور سنبھالی اور اداروں کے خلاف بیانات پر مقدمات بھی قائم کیے گئے۔

بلوچستان کے رہنماو¿ں کو کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ؟ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اور رہنماو¿ں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔بلوچ رہنما کہتے آرہے ہیں کہ انہیں حقوق نہیں دیے جارہے ان کی نسلیں احساس محرومی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہیں۔مانا وہاں دشمن ملک کے ایجنٹ سماج اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف وہاں کے عوام بھی ریاستی اداروں کے ساتھ ہیں لیکن اپنے حقوق پر سمجھوتہ پر بھی تیار نہیں۔الغرض بلوچستان سے متعلق کافی تلخ حقائق ہیں اور تمام سیاستدانوں ہی نے صوبہ کے عوام کے ساتھ مذاق ہی کیا ہے۔ہمیشہ وعدے اور دعوے کیے گئے لیکن بلوچ عوام کو حقوق نہیں دیے گئے۔اب واپس آتے ہیں نواز شریف اور پنجاب کی سیاست پر کہ یہاں کیا کچھ ہو گیا اور ہورہا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اسٹیبلشمنٹ خاموش ہے۔

نواز شریف کون سا کھیل کھیل رہے ہیں؟تین بار کے سابق وزیر اعظم نواز شریف وطن عزیز کے لیے اتنے مہلک ہو سکتے ہیں اس بارے میں شائد کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کو مسلسل للکار رہے ہیں اور دوسری طرف کی خاموشی محرومی کی شکار قوموں کی پریشانی مزید بڑھا رہی ہے۔لوگ یہی سوچ رہے کہ آخر ملک و قوم کے ساتھ کون سا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔پنجاب کے سیاسی لیڈر اگر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کریں تو خاموشی اور دیگر صوبوں سے آواز اٹھے تو سختی سے نمٹا جائے۔لندن سے قابل بھروسہ ذرائع نے بتایا ہے کہ نواز شریف مسلسل غیرملکی سفارت خانوں سے رابطوں میں ہیں۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور پاکستان میں اپوزیشن کی تحریک کو اگر لندن رابطوں سے جوڑا جائے تو کھیل بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ اب ہم قومی اسمبلی میں ابھینندن کی حوالگی سے متعلق ایاز صادق کے بیان کو نواز شریف کے بیانیہ سے ملائیں تو پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔سفارتی ذرائع بتاتے ہیں شریف فیملی پر قائم مقدمات ختم کرنے کے لیے سعودی عرب، بھارت اور امریکا کی جانب سے بھی دباو¿ ڈالا گیا ہے۔وہ تو خیر ہو وزیر اعظم عمران خان نے ان ممالک کا دباو¿ یکسر مسترد کر دیا ہے۔کیا اب یہ بھی ہم ہی بتائیں کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی سے کس ملک کو تکلیف ہو سکتی ہے؟گیم چینجنگ والے پروجیکٹ "سی پیک" اور گوادر کی بندرگاہ سے کس کی پریشانی بڑھ جاتی ہے؟یہ سوال ہیں اس کا سب ہی بخوبی علم لیکن اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کی خاموشی بھی چھوٹے صوبوں کے عوام، قوم پرست رہنماو¿ں اور سیاسی جماعتوں کے اضطراب میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی چاہیے کہ وہ اب آنکھیں کھولے اور آخر کب تک ان سانپوں کو آستین میں رکھیں گے۔آستین کے سانپ اگر ابھی نا مارے گئے تو آگے چل کر ان سانپوں کا خاتمہ مشکل ہوگا۔


ای پیپر