برے دن شروع ہوگئے؟
03 نومبر 2019 2019-11-03

ایک سیانے، بیانے ماہر علم نجوم نے دو ہفتے قبل ہی پیشگوئی کردی تھی کہ 27 اکتوبر کے بعد حالات خراب ہونا شروع ہوجائیں گے۔ برے دنوں کا آغاز ہوگا۔ آسمان پر دوستارے ٹکرائیں گے۔ زمین پر دو سیاستدانوں میں تصادم کا خطرہ ہوگا، پوچھا صورتحال کب تک خراب رہے گی بولے ٹکرائو کا عمل 45 روز جاری رہے گا۔ مولانا فضل الرحمان سہراب گوٹھ کراچی سے 27 اکتوبر کوچلے اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچ گئے۔ کسی نے کہا مولانا راستے کی رکاوٹوں کا کیا ہوگا؟ بولے قدم بڑھا چکا ہوں، پلٹنا گناہ کبیرہ،’’ اب مجھے واپسی کی فکر نہیں، اپنی کشتی ڈبو چکا ہوں میں‘‘۔ سہراب گوٹھ سے روانہ ہوتے ہوئے جے یو آئی کا ایک شاعر صورت کارکن ابو الاثر حفیظ جالندھری کی شہرہ آفاق اور طویل نظم کا پہلا شعر من مانی ترمیم کر کے الاپتا رہا۔ ’’اٹھی کراچی سے گھٹا، جانے کا موسم آگیا‘‘ پوچھا کس کے جانے کا موسم بولے جس کے لیے جا رہے ہیں۔ راستے بھر گرما گرم تقریریں جسم و جاں کو حرارت بخشتی رہیں۔ کمال ہے بقول ایک ماہر شماریات کراچی سے 70 ہزار کا قافلہ اسلام آباد پہنچتے پہنچتے ڈھائی تین لاکھ ہوگیا۔ اتنے بہت سے لوگ، اتنا بڑا اجتماع لیکن راستے بھر امن برقرار رہا۔ کنٹینروں نے راستہ نہ روکا۔ سیانے لوگ کہتے ہیں راستہ روکا جاتا تو ملک بھر میں ہنگامے اور فسادات پھوٹ پڑتے۔ بقول شخصے 15 اہم شاہراہیں بند کردی جاتیں تو نظام زندگی معطل ہوجاتا۔ حکومتی کمیٹی نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا کہ رکاوٹیں ہٹالیں، مولانا کو بھی شہر اقتدار پہنچنے کی جلدی تھی صرف 5 دنوں میں اسلام آباد آگئے اور بڑا جلسہ کر ڈالا۔ جلسے میں شہباز شریف، بلاول بھٹو، اسفند یار ولی، آفتاب شیرپائو، مولانا اویس نورانی، محمود اچکزئی سبھی شریک ہوئے۔ شہباز شریف کی بڑے دنوں بعد تقریر کی حسرت پوری ہوئی دل کھول کر بولے کہا ’’صبر اور ضبط کی انتہا ہوگئی سرزمین وطن کربلا ہوگئی‘‘ مولانا فضل الرحمان نے چھوٹتے ہی وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگ لیا۔ کسی تمہید کی ضرورت نہیں دو دن میں استعفیٰ دو، ورنہ دھرنا؟ دھرنے کا نتیجہ کیا ہوگا؟’’ نتیجہ اب نہیں ہوگا یہ کچھ دن بعد میں ہوگا‘‘۔ جلسہ میں شرکا کی تعداد ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی۔ حکم ہوا مولانا سے بات کرو کہ جلسے کے بعد گھر جائیں خود بھی آرام کریں ہمیں بھی آرام کرنے دیں۔ مولانا کی سوئی استعفیٰ پر اٹکی ہوئی ہے۔ استعفیٰ دے دو، گھر چلے جائیں گے۔ نہیں دیتے نہ دو ہم بھی بیٹھے ہیں۔ جلسہ حکومتی مرضی سے پشاور روڈ پر کیا ہے۔ دھرنا اپنی مرضی سے دیں گے ہم سنجیدہ حکومت غیر سنجیدہ۔ ہم غیر سنجیدہ ہوگئے تو صورت حال غیر سنجیدہ ہوجائے گی۔

فواد چوہدری نے جل کر کہا آزادی مارچ کا سر ہے نہ پیر، چوہدری صاحب اور دیگر ترجمان سوچ کر نہیں بولتے بلکہ بول کر سوچتے ہیں۔ اوپر تک یہی حال ہے لوگ اتنے ہیں کہ سر یا سرا تونظرآیا پیردکھائی نہ دئے ۔ اجازتوں کے موسم میں دھرنا کہیں بھی ہوسکتا ہے۔ عمران خان کے 2014ء کے 126 دنوں کے دھرنے میں کسی امپائر کی انگلی کا بڑا ذکر چلا تھا۔ اب کس کا اشارہ ہے؟ انگلیاں اٹھنے لگی ہیں کیا مولانا معاہدے کے سلسلے میں پی ٹی آئی حکومت کی بات مان لیںگے؟ لگدا تے نئیں، لاکھوں افراد پیچھے ہٹنے کے لیے 18 سو کلو میٹر کا سفر کر کے شہر اقتدار میں جمع نہیں ہوئے۔ 2014 میں تحریک انصاف نواز حکومت سے معاہدہ کر کے پھر گئی تھی۔ پتا نہیں چوہدری نثار نے کن ضامنوں کی ضمانت پر بھروسہ کرلیا تھا۔ لوگ اتنے تجربہ کے بعد بھی کھلی آنکھوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ مولانا بھی دادوستد کے ایسے کھرے نہیں کہ بھروسہ کر کے گھر چلے جائیں، سوال اٹھنے لگے ہیں آج کے بعد گرج چمک کے ساتھ طوفان آئے گا یا ہلکی پھلکی بوندا باندی سے موسم خوشگوار ہوجائے گا۔ سیانے کہتے ہیں کہ تحریکیں بے نتیجہ نہیں ہوتیں۔ اپنے اثرات چھوڑ جاتی ہیں۔ یہ الگ بات کہ بصارت اور بصیرت سے عاری لوگ تحریکوں کی ناکامی پر بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ مولانا نے آزادی مارچ سے پہلے 14 ماہ تک سوچا ہے نتائج پر غور و خوض کیا ہے اور بالآخر پوری اپوزیشن کی ’’امامت‘‘ سنبھال لی ہے۔ تحریکیں لیڈر شپ سے کامیاب یا ناکام ہوتی ہیں۔ ڈیل ڈھیل تحریکوں کی رفتار دیکھ کر کی جاتی ہے۔ یکم نومبر کے جلسے کی مانیٹرنگ کرلی گئی۔ جنہوں نے سنا انہوں نے جواب دینے میں تاخیر نہ کی تاہم جواب الجواب سے ظاہر ہوگیا کہ سلسلہ جنبانی قائم ہے۔ دھرنا دینے کا فیصلہ متفقہ ہوگا؟ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں یقینا ہچر مچر سے کام لیں گی۔ ان کے لیے ’’اور بھی دکھ ہیں زمانے میں اس دھرنے کے سوا‘‘ وزیر اعظم این آر او سے انکاری لیکن ڈیل اور ڈھیل تو کہیں اور سے ہوگی۔ دونوں بڑی آس امید میں ڈھیلی پڑ سکتی ہیں بہت کچھ دائو پر لگا ہوا ہے۔ بقول پی ٹی آئی کے ایک لیڈر ایک کی پلیٹیں کمی بیشی کا شکار دوسرے کی کلچ کلیٹیں تباہ، لیکن مولانا تو سر پہ کفن باندھ کر نکلے ہیں پورا اسلام آباد کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا۔ کنٹینر ہٹانے کون سی مشکل بات ہے پی ٹی آئی کے جینز پوش نوجوانوں نے کنٹینر ہٹا دیے تھے۔ مولانا کے ساتھ تو بقول ان کے’’ اللہ والے لوگ‘‘ ہیں۔ جو چشم زدن میں راستے کی رکاوٹیں ختم کر کے ڈی چوک پہنچ جائیں گے۔ اس دوران کیا ہوگا؟ جو ہوگا برا ہوگا۔ اللہ اپنا کرم کرے لیکن نومبر کی ابتدا اچھی نظر نہیں آتی۔ جنگ نتیجہ خیز ہو نہ ہو ’’مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا‘‘ والا منظر ہوگا۔ ایک خوفناک منظر ،کہتے ہیں 12 نومبر نتیجہ خیز دن ہوگا پتا نہیں، بظاہر تو دونوں کے اعصاب خاصے مضبوط ہیں۔ اسلام آباد میں دھواں دھار تقریریں، گلگت بلتستان میں دھمکیاں، سب کرپٹ جیل میں جائیں گے کیسے پتہ چلا؟ نیب نے بتایا ہو گا ۔ مولانا کرپٹ ہوتے تو سب سے پہلے جیل جاتے۔ سارے جیل چلے جائیں۔ مولانا اپنے لا تعداد ساتھیوں کے ساتھ دھرنے میں بیٹھے رہے تو کچھ لے کے یا کچھ کر کے ہی اٹھیں گے۔ کسی نے جلسہ کے دوران پوچھا تھا حضرت اِدھر سے دھمکیاں آرہی ہیں۔ کوئی گلدستہ بھیج دیجیے، مولانا عجیب ہنسی ہنس کر بولے۔

مجھے معلوم ہے وہ کیا ہے اس کی حیثیت کیا ہے

وہ اک سورج ہے لیکن جگنوئوں کے دام بکتا ہے

دھرنا سب کے لیے مشکلات کا باعث، حالات سنگینی کی طرف جا رہے ہیں تو سنگینوں کی دھمکیوں کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرلیا جائے۔ تین صورتیں استعفیٰ، ان ہائوس تبدیلی یا قبل از وقت انتخاب کی تاریخ کا اعلان، تینوں نا منظور تو حالات سنبھالنا کس کی ذمہ داری ہوگی؟ یہ بات طے ہے کہ تمام تر حکومتی کوششوں اور اقدامات کے باوجود مولانا پہلا رائونڈ جیت چکے ہیں۔ کتنے رائونڈ ہوں گے نتیجہ ناک آئوٹ یا پوائنٹس پر مرتب ہوگا۔ ریفری پر منحصر ہے، آزدی مارچ اتنا بڑا ہے تو دھرنا بھی پی ٹی آئی اور علامہ طاہر القادری کے مشترکہ دھرنے سے یقیناً بڑا ہوگا۔ ضد، غرور، تکبر اچھی صفات نہیں ،کہتے ہیں درخت جتنا اونچا ہوگا اس کا سایہ اتنا ہی چھوٹا ہوتاہے اس لیے اونچا بننے کے بجائے بڑا بننے کی کوشش کرو۔ شور شرابے، بے سروپا بیانات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ شور کھلاڑی نہیں تماشائی کرتے ہیں اور زیرک بزرگوں کا کہنا ہے کہ تماشا خود نہ بن جانا تماشا دیکھنے والو۔ تکبر کا حاصل مایوسی اس سے پرہیز لازم، حالات بگڑنے میں دیر نہیں لگتی، ایک بزن سے خراب ہوجاتے ہیں لیکن سنبھالنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ 14 ماہ ہوگئے اب تک سنبھالے نہیں جا رہے ہیں۔ لاوا پک رہا ہے۔ آتش فشاں کو پھٹنے سے روکا جائے۔


ای پیپر