وقت ہا تھ سے نکلتا جا رہا ہے
03 نومبر 2019 2019-11-03

لاکھ احتیا ط کے با وجو د یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وطنِ عز یز کے سیا سی حا لا ت انتہا ئی غیر تسلی بخش ہیں۔ ما ہِ روا ں کی یکم تار ریخ کو مو لا نا فضل الر حما ن نے اپنی چلا ئی ہو ئی تحر یک، جسے انہو ں نے آ زا دی ما رچ کا نا م دیا ہے ، سے خطا ب کر تے ہو ئے وز یرِ اعظم عمر ا ن خا ن کو مستعفی ہو نے کے لیئے دو رو ز کی ڈ یڈ لا ئن دی ہے ۔ قا رئین کرا م اس کا لم کو پڑھتے و قت تک یہ ڈ یڈ لا ئن گذر چکی ہو گی۔ کہنا یہ چا ہتا ہو ں کہ آ ج کے تازہ تر ین حا لا ت کیا ہیں، اس پہ قیا س کر نا منا سب نہیں سمجھتا ۔بہر حا ل اطلا عات کے مطا بق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن مائنس ون چاہتی ہے لیکن وہ کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے۔ ہمارے دھرنے اور مولانا فضل الرحمن کے مارچ میں بڑا فرق ہے ۔ ایسا لگتا ہے مولانا فضل الرحمن کے پیچھے بیرونی قوتیں ہیں۔ ان کا چارٹر آف ڈیمانڈ واضح نہیں پھر بھی ہم آزادی مارچ کی اجازت دیئے ہو ئے ہیں۔ سینئر صحافیوں اور اینکرپرسنز سے ملاقات میں عمران خان نے کہا مولانا فضل الرحمن کے میڈیا انٹرویوز پر پابندی نہیں۔ مولانا سے مذاکرات جاری ہیں، اپوزیشن مذاکرات میں سنجیدہ معلوم نہیں ہوتی۔ میں نے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کو یہ مینڈیٹ دیا ہے کہ اگر یہ پُرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں، ابھی تو مذاکرات کررہے ہیں۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو اس کے بعد کی صورت حال کا پھر سوچیں گے۔

ادھر سیاسی حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دو طرفہ بات چیت کا در کھلا ہے ، حکومت نے آزادی مارچ کی مشروط اجازت بھی دے دی ہے ۔ وزیراعظم آفس کے مطابق احتجاج آئین کے مطابق ہوا تو رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔ حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اکرم درانی جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے مولانا فضل الرحمن سے فون پر رابطہ کیا۔ تاہم جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ماضی کی روایات کے بالکل برعکس ہے ، پہلی بار آزادی کا احساس قوم کے ذہنوں میں ہے ۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ہم ہر انتہائی قدم کے لیے تیار ہیں۔ جے یو آئی کے سربراہ کے مطابق ناجائز حکومت کو گھر جانا ہوگا۔مولانا غفور حیدری نے کہا کہ اسلام آباد میں ایمرجنسی لگی ہے ، حکومت ڈنڈوں سے نہ ڈرائے۔ انہوں نے حکمرانوں سے بیک ڈور رابطوں کی تردید کی اور کہا کہ خود اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کا اہتمام حکومت نے کیا ہے ، ہماری مشکل آسان ہوگئی ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف سے ملنے والی ہدایات کے بعد لائحہ عمل قوم کے سامنے لائیں گے۔ وفاقی معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کہا کہ نئے پاکستان میں قانون کسی کے تابع نہیں۔ اپوزیشن ڈنڈے لائی تو حکومت بھی ڈنڈا اٹھائے گی۔ دریں اثنا پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی آ زا دی ما رچ کے جلسے سے خطاب کیا اور کہا کہ ملک میں کٹھ پتلی راج کی جگہ جلد عوامی حکومت بنے گی۔ چیئرمین پی پی نے کہا کہ ہاریوں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے ، حکومت عوا کا خون چوس رہی ہے ۔ رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگا ہے وہ لے کر ہی جائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ تقریباً تیرہ ماہ بعد پی ٹی آئی حکومت کے خلاف آزادی مارچ اور دھرنے کا شور برپا ہوا، ملکی سیاست پیدا شدہ صورت حال کا اعصاب شکن منظر نامہ پیش کررہی ہے ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت نے اپوزیشن سے پُرامن ڈیل کا اہم دورانیہ ضائع کیا جبکہ حکمرانوں کا کہنا تھا کہ خراب ڈیل سیاست میں بدترین Worst ڈیل ہوتی ہے ، اس کا نہ کرنا ملک کے مفاد میں ہوگا۔ بین السطور میں گورننس ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے ، اس لیے حکومت کوشش اور معاشی بریک تھرو کے اعلانات کے باوجود عملی طور پر مسائل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے ۔ ادھر وزیراعظم نے موجودہ بحران کے پس پردہ بیرونی قوتوں کے سرگرم ہونے کا عندیہ دیا ہے ۔ ساتھ ہی وزیراعظم کا امکانی یا سربستہ صورت حال اور سیاسی خدشہ کے حوالہ سے یہ کہنا معنی خیز ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے سب کچھ منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے ۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اپوزیشن چاہتی کیا ہے ؟ لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کے لیے یہ استدلال دینا بہت مشکل ہوگا کہ اہل اقتدار کو ابھی خبر ہی نہیں کہ اپوزیشن کے ترکش میں کون سے تیر ہیں جو حکومت کو رخصت کرنے کے لیے چلائے جانے ہیں۔ جبکہ بادی النظر میں تو صورت حال دو اور دو چار کی طرح واضح ہوتی جارہی ہے ۔

دو سر ی جا نب سیاسی کشمکش کے تناظر میں سیاسی حلقوں نے نواز شریف کی بگڑتی صحت اور طبیعت پر گہری تشویش ظاہر کی ہے ، جن کے پلیٹ لیٹس میں کمی بیشی پر میڈیکل ٹیم نے سر جوڑ لیا ہے ۔ کراچی سے سینئر ڈاکٹر طلب کرلیے گئے، سروسز ہسپتال میں مریم نواز کی والد سے ملاقات ہوئی۔ صحت پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے ، اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ نوازشریف کو بہترین سہولیات دی جائیں۔ سابق صدر آصف زرداری بھی سخت علیل ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کہہ رہا ہوں کہ جس نے بھی مولانا فضل الرحمن کا انٹرویو کرنا ہے وہ کرسکتا ہے ، ان پر کسی پابندی کا مجھے علم نہیں۔ مہنگائی پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا اگر پاکستان ڈیفالٹ کرجائے تو اس سے بھی زیادہ مہنگائی ہوگی۔ معیشت کی صورت حال بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہمیں خوف تھا کہ دیوالیہ ہوجائیں گے اگر تین ملک مدد نہ کرتے تو صورت حال اسی طرف جاتی۔ دس ارب ڈالر کی قسطیں ایک سال میں دینا تھیں، روپیہ اور بھی گر سکتا تھا۔ پہلے دن یہ کہا تھا کہ مشکل وقت گزارنا ہوگا۔ اب صورت حال بہتری کی طرف جارہی ہے ۔ کسی حکومت کو ایسے حالات، میڈیا کی تنقید اور اپوزیشن نہیں ملی۔ میڈیا پر ذمہ داری ہے کہ کوئی غلط کام کریں تو اس کو بے نقاب کریں۔ لیکن اگر اچھا کریں تو اس کی تعریف بھی کریں۔ اپوزیشن کا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ این آر او کا ہے ۔ یہ لوگ مائنس عمران کرنے کا کہتے ہیں، میری حکومت آسان ہوجائے گی اگر ان کو این آر او دے دوں۔ گرفتار رہنمائوں کو آج باہر جانے کی اجازت دے دیں تو زندگی آسان ہوجائے گی۔ ہمارا فوجی قیادت کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے ۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سول حکومت کے ساتھ کھڑی ہے ۔ کرتار پور راہداری کھولنے سے بین الاقوامی سطح پر ہمارا وقار بہت بلند ہوا ہے ۔ یہ راہداری سکھ یاتریوں اور ہمارے ٹورازم کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ سعو دی عر ب اور ایران کے در میا ن کشید گی کے با رے میں انہو ں نے کہا سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازع اگر بڑھتا ہے تو یہ ہمارے لیے ڈرائونا خواب ہوگا۔ اس لیے ہم صلح کی کوشش کررہے ہیں تاکہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوجائیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو، ہم کوشش کررہے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ پاکستان آکر بات کریں۔ عمران نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہ معاملہ جہاں تک پہنچ چکا ہے اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔

اس وقت کی فو ری ضرورت حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت کے ذریعے موجودہ بحران کا حل تلاش کرنے کی ہے ۔ گیند حکومت کے کورٹ میں ہے ، اپوزیشن سے مذاکرات کی حکمت عملی کا مثبت حل نکلنا چاہیے۔ ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے اس کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ تند و تیز بیانات سے لگی آگ نہیں بجھ سکتی۔ اس کے لیے دونوں طرف سے سیاست کے اعلیٰ دماغ سر جوڑ کر بیٹھیں۔ پانی سر سے اونچا ہورہا ہے ، اور وقت ہا تھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔


ای پیپر