آزادی مارچ، استعفیٰ ، خطرات
03 نومبر 2019 2019-11-03

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اسلام آباد پہنچ چکا۔ پشاور موڑ کا گراؤنڈ اور اردگرد کی سڑکیں جلسہ گاہ اور خیمہ بستی میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ حزب مخالف کے سرکردہ رہنماؤں شہباز شریف، بلاول بھٹو، میاں افتخار اور محمود اچکزئی سمیت دیگر نے اپنی شعلہ بیانیوں کے جوہر دکھائے۔ بلاول بھٹو نے انتہائی جذباتی انداز میں پر جوش تقریر کی۔ شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو خوب لتاڑا۔ آخر میں مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو دو دن کا الٹی میٹم دے دیا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو دو دن کا وقت دیا ہے تا کہ وہ اپنا استعفیٰ پیش کر دیں۔ مولانا پہلے سیاسی راؤنڈ میں اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ اسلام آباد پہنچنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں اور تعداد کے لحاظ سے ایک اچھا پاور شو کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ مولانا کے آزادی مارچ کے شرکاء کی تعداد تحریک انصاف اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے اور مارچ سے کہیں زیادہ ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے بہت اچھا کیا کہ اس مارچ کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی اور تصادم سے گریز کی پالیسی اختیار کی۔ حزب اختلاف اور حکومت دونوں کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ وزیراعظم عمران خان مستعفی نہیں ہوں گے۔ حزب اختلاف کو اپنے اگلے لائحہ عمل اور اقدام کا فیصلہ کرنا ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو بھی یہ طے کرنا ہے کہ وہ محض اس مارچ اور اسلام آباد جلسے تک مولانا کے ساتھ تھیں یا وہ دھرنے اور دیگر اقدامات میں بھی مولانا کے ساتھ ہوں گی۔ یہ تو واضح ہے کہ محض جلسے یا مارچ سے کسی بھی حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ایک یا دو لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع کر کے حکومت کے لیے انتظامی اور سیاسی مسئلہ اور بحران تو پیدا کیا جا سکتا ہے مگر حکومت کو گھر نہیں بھیجا جا سکتا۔ اتنے مظاہرین کے ساتھ اگر مقتدر قوتوں کی تائید و حمایت نہ ہو تو وزیراعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت مقتدر قوتوں کی حمایت مولانا اور حزب اختلاف کے ساتھ نظر نہیں آتی۔ البتہ افواہ ساز فیکٹریاں پوری طرح متحرک ہیں اور نت نئے سازشی نظریات پیش کیے جا رہے ہیں۔ افواہوں کا بازار پوری طرح گرم ہے اور اسی طرح اپنی خواہشات کو خبر اور تجزیہ بنا کر پیش کرنے کا کاروبار بھی خوب چل رہا ہے۔ حکومت کے حامی تجزیہ نگاروں کے نزدیک مولانا کو پہلے تو اسلام آباد آنے نہیں دینا چاہیے تھا ان کے نزدیک شرکاء کو مختلف جگہوں پر روک کر ان کی مشترکہ طاقت کو منقسم کرنا چاہیے تھا اور اب اگر وہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں تو انہیں پشاور موڑ سے آگے ہرگز نہ جانے دیاجائے۔ اگر وہ تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف بھرپور ایکشن ہونا چاہیے۔ دوسری طرف حکومت کے مخالف تجزیہ نگاروں کا خیال یہ ہے کہ حکومت کو طاقت کا ستعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔ ان کے خیال میں اگر متحدہ حزب اختلاف ڈی چوک اور پھر آگے کی طرف مارچ کرے تو وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

اگر حقائق اور زمینی صورت حال کا ٹھنڈے دل و دماغ سے غیر متعصبانہ تجزیہ کیا جائے تو صورت حال کو بہت حد تک سمجھا جا سکتا ہے۔ مثلاً حزب اختلاف اگر واقعی حکومت کو گرانا چاہتی ہے اور نئے انتخابات کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہے تو اس کا آسان راستہ پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفے ہیں۔ اس سے شدید سیاسی اور آئینی بحران کھڑا ہو جائے گا اور حکومت پر نئے انتخابات کے لیے دباؤ بہت زیادہ بڑھ جائے گا مگراس وقت تک متحدہ حزب اختلاف اتنا بڑا اور فیصلہ کن اقدام اٹھانے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تمام سیاسی قوتیں احتجاج کو پورے ملک میں پھیلا دیں اور بھرپور احتجاجی تحریک کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھائیں۔ لوگوں کے مسائل پر احتجاج کریں۔ حساس مذہبی معاملات پر سیاست کرنے کی بجائے عام لوگوں کے حقیقی مسائل اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف عوام کو متحرک کریں مگر مولانا اور دیگر جماعتیں اس پر زیادہ دلچسپی لیتی نظر نہیں آتیں۔ ابھی تک مولانا اور دیگر رہنماؤں نے اپنا معاشی ایجنڈا سامنے نہیں رکھا ہے اور نہ ہی معاشی مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں۔ وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے مطالبات پر عام لوگوں کو متحرک کرنا اس وقت مشکل نظر آتا ہے۔

دوسری طرف حکومت کے پاس بھی محض دو آپشن ہیں ایک تو یہ کہ دھرنے کے شرکاء کے ساتھ نرمی کا سلوک کرتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے دے اور ان کے تھکنے کا انتظار کرے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ طاقت کا استعمال کر کے مظاہرین کو منشر کر دے۔ ریاست کے پاس اتنی طاقت تو ضرور ہوتی ہے کہ وہ ہزاروں لوگوں کو منتشر کر دے۔ گرفتار کرے اور طاقت کے زور پر ان کو پسپا کر دے مگر طاقت کا استعمال لوگوں کو مشتعل بھی کرتا ہے۔ طاقت کے استعمال کا جہاں وقتی طور پر فائدہ ہو سکتا ہے، وہاں پر اس کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ اگر طاقت کے استعمال کے نتیجے میں بھی تحریک رک نہ پائے۔ گرفتاریاں اور تشدد تحریک کی شدت کو کم نہ کر سکیں تو پھر صورت حال زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔ انتشار اور خلفشار بڑھے گا۔ غیر یقینی اور سیاسی عدم استحکام معاشی بحران میں شدت کا باعث بنے گا۔

اگر دونوں طرف سے ہوش سے زیادہ جوش اور طاقت کا استعمال ہوا تو نتیجہ تصادم کی صورت میں نکلے گا۔ فیصلہ اب سیاسی قوتوں کو کرنا ہے کہ انہوں نے اپنے مسائل اور معاملات کو سیاست کے ذریعے حل کرنا ہے یا پھر غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کے ذریعے معاملات طے کرنے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ہونے والا تصادم غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کی دعوت دے گا۔ اس وقت یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وزیراعظم کے استعفے کے لیے شروع ہونے والی تحریک ایک بار پھر بحالی جمہوریت کی تحریک میں تبدیل ہو جائے۔مقتدر حلقوں کی مداخلت کے نتیجے میں وزیراعظم چلے بھی گئے تو جمہوریت اور کمزور ہو گی اور غیر سیاسی قوتیں مزید مضبوط ہوں گی۔ جمہوری قوتیں کمزور ہوں گی سیاسی عمل کمزور ہو گا۔


ای پیپر