صدا
03 نومبر 2019 2019-11-03

اک ایسے عہد میں جبکہ نیو ورلڈ آرڈر کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہوں،واشنگٹن کے احکامات ’’کو شرف قبولیت‘‘ حاصل ہو،اہل حجاز اس کی اطاعت میں حد سے گزر جانے کو ’’سعادت‘‘ سمجھ رہے ہوں۔ دہشت گردی، انتہا پسندی کو اپنی پسند کے معنی پہنائے جا رہے ہوں، ایسے میں یہ صدا بلند کرنا کہ یہود و نصاریٰ آپکے دوست نہیں ہوسکتے دل ، گردے کا کام ہے،آپ نے یہ’’ حماقت ‘‘ اگر روشن خیال طبقہ کے کسی پروگرام میں کی ہو تو ذہنی طور صلواتیں سننے کے لیے تیار رہیں،اصلاح کی غرض سے آپ رواں تہذیب کا انھیں ذمہ دار ٹھرائیں گے تو فٹ سے دقیانوسی قرار پائیں گے، اگر میڈیا کے پروگرامات کو حرف تنقید بنائیں گے تو گنوار کہلوائوں گے،اگر تعلیمی نظام پے ان کی اجارہ داری کا ذکر کرو گے تو نابلد جانے جائو گے ،اس لئے بھی کہ آج سوئی سے لے کر جہاز تک کی تیاری کے لئے ہم ان کے مرہون منت ہیں، ایسے میں ان کے بارے میں منفی رائے کا اظہارخود کو’’احمقوں‘‘ میں شمار کرنے کے مترادف ہے۔

مذہبی اجتماعات میں اس کو موضوع گفتگو بنائو گے تو’’سیاسی‘‘ گردانے جائو گے، لیکن کیا حکم ربانی غلط ہو سکتاہے، ہم اس سوچ میں گم تاریخ میں اترگئے اور ان سازشوں کے کھوج میں نکل پڑے جو اس امت کے خلاف روا رکھی جارہی ہیں ، بیسوی صدی میں اک برطانوی نوجوان ملتا ہے اس کی سر گرمی کو دیکھ کر یہ اعتراف کرنے پے مجبور ہوتے ہیں کہ جہاں سے ہماری سوچ کا خاتمہ ہوتا ہے وہاں سے ان کی فکر شروع ہوتی ہے۔تاریخ کی کتابوں میں گم یہ کردار تھامس ایڈورڈ لارنس کا نام رکھتا ہے مگر تاریخ میں’’ لارنس آف عریباء ‘‘کے نام سے موسوم ہے،امت مسلمہ کی قوت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اس سے جاسوسی کا کام لیا جاتا ہے جو قومیت کے نام پر عربوں کو ترکوں کے بالمقابل لا کھڑا کرتا ہے، حیرت یہ ہے وہ فرد جسے اک دن کی فوجی تربیت نہیں ملی اس نے بڑی اسلامی مملکت کا شیرازہ بکھیرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جاسوسی کے نام پر ہماری نفسیات کا جائزہ لیا اور ان خطوط پر کام شروع کیا جس کا راستہ اس کی منزل کی طرف جاتا تھا،یوں تو اس نے اتحاد واتفاق کو نفرت میں بدلنے میں اپنی ذمہ داری بااحسن خوب نبھائی لیکن دو نقاط پر اپنی تمام تر صلاحتیں صرف کر دیں اک صدی گزرنے کے بعد بھی اس کے اثرات اسلامی دنیا میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ تھی کہ علماء، فیقہاء کا سیاست سے کیا کام، دوسرا مسلمانوں کا دولت سے کیا کام، بظاہر تو فلسفہ درست لگتا ہے مگر اس کے ما بعد اثرات عرب دنیا پے اس انداز میں مرتب ہوئے کہ وہ تاحال اس سے نکل نہیں سکے لارنس آف عربیا جانتا تھا کہ اس سر زمین پے انبیاء نے حکومت کی ہے اس کی فکر کو اگر پذیرائی ملی بھی تو مزاحمت بھی ہو گی یوں قومیت کے گھوڑے پر سوار انھیں وہ حکمران میسر آ گئے جنہوں نے ان جید علماء اکرام کوبند سلاسل کیا جنہوں نے مغرب کے مقابلے میں اک منصفانہ طرز حکومت پیش کرنے کا علم بلند کیا، خوف کی اس فضاء میں کسی نے لب کھولنے کی ہمت نہ کی اور طاقتور جنرل برس ہا برس تک ان ریاستوں پے مسلط رہے، دوسری عالمی جنگ کے بعد تاج برطانیہ اقتدارقائم رکھنے میں ناکام رہا تو آزادی کی لہر نے جنم لیا برصغیرمیں تقسیم ہند ہوا، بانی پاکستان نے پرچم کشائی کے لیے اک عالم دین کا انتخاب کیا ان کی وفات کے بعد اس نوزائیدہ ریاست کے مقصد قیام کی سمت تبدیل کرنے کی دانستہ کاوش کی گئی اور اسے معاشی ضرورت جانا گیا کہ وطن کے علیحدہ قیام کا مقصد معاشی ترقی ہے، لارنس آف عربیا کے پروپیگنڈہ کی آبیاری کے لیے عوام میں اس تاثر کو پختہ کیا گیا کہ علماء کا سیاست سے کیا تعلق ہے ،انھیں عوامی حمایت سے محروم رکھ کر پہلے افسر شاہی بعد ازاں طالع آزمائوں کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی جنہوں نے مسٹر تھامس آف لا رنس کے سفر کو آگے بڑھایا اور پانچویں بڑی اسلامی ریاست سقوط ڈھاکہ کی صورت میں دو حصوںمیں بٹ گئی جس دینی طبقہ نے اسکے خلاف مزاحمت پیش کی آج ا نہیں تختہ دار پے لٹکایا جا رہا ہے باقی ماندہ ملک سیاسی ابتری کا شکار ہے نسل در نسل سے چندخاندانوں کے درمیان اقتدار گردش کر رہا ہے ،بدعنوانی داستانیں زد عام ہیں، المیہ یہ ہے کہ بہت بڑی افرادی قوت رکھنے والی مذہبی جماعتیں بڑے فخریہ انداز میں اپنے غیر سیاسی ہونے کی دعوی دار ہیں ،اک ایسی ریاست جہاں حج وعمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تو سماجی جرائم میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں پھر بھی یہ جماعتیں بغیر اقتدار کے انسانیت کی فلاح کے فلسفہ پر کاربند ہیں،کیا تاریخ ان مسلم حکمرانوں کو غیر سیاسی قراد دے گی جنہوں نے دین اور سیاست میں فرق روا نہ رکھ کر بایئس لاکھ مربع میل رقبہ پے حکومت کر کے انسانی خدمت کے انمنٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ جو آج بھی اک فلاہی ریاست کا پتہ دیتے ہیں۔

لارنس آف عربیا نے اپنی سازشی تھیوری میں مال کو بھی شامل کیا اور مسلمانوں میں اس تاثر کو پختہ کیا کہ ان کا مال سے کیا تعلق، دولت سے دور رہنا ہی ان کے مفاد میں ہے اس فکر سے اس نے نوجوانان امت کو زندگی کی جدوجہد سے دور رکھنے کی دانستہ کاوش کی ان کو ذکر وفکر میں مشغول رہنے کی جانب راغب کیا۔ روایت ہے کہ خلیفہ دوئم مسجد کے قریب سے گزرے دیکھا کچھ نوجوان ذکر میں مشغول ہیں آپؓ نے اٹھایا اور کہا اسلام جدوجہد کی تعلیم دیتا ہے بہترین ذکر نماز ہے، روایت ہے محنت مزدوری کرنے والے اک صحابی دیہات سے مدینہ تشریف لائے بنی آخرزماں سے شرف ملاقات ہوا کھردرے ہاتھ کو آپ نے چوم لیا اور کہا اس پر دوزخ کی آگ حرام ہے ہم لنگر خانوں کے قیام اور انکم سپورٹس پروگرام میںفلاح ڈھونڈ کر انکو بھکاری بنا رہے ہیں ، مذہبی جماعتوں میں لاکھوں شامل نوجوان اپنی سستی کو قناعت پسندی سے تعبیر کر تے ہیں تو عرب کے نوجوان دولت لٹانے میں مصروف عمل ہیں، مال کمانے کی تو ترغیب دی گئی البتہ کچھ حدود مقرکر دی گئی، تھامس بخوبی جانتا تھا کہ اگر مسلم دنیا بہترین طرز حکمرانی قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو عالمی معشیت پر بھی قابض ہو جائیں گے، سود کی بنیاد پے بنی معاشی عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی ، فی زمانہ عالمی معشیت میں مسلم ممالک کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے اس لئے ہماری آواز کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے خواہ یہ مظلوم کشمیریوں کے حق میں اٹھے یا فلسطین کے لئے صدا دیں،آج تمام انسانی حقوق کو تجارت کے ترازو میں تولا جارہا ہے، لیکن ہمارے مذہبی طبقہ کو اپنے غیر سیاسی ہونے اور درویشی پے ناز ہے، جنہوں نے اس میدان میں قدم رکھا وہ بھی کردار کی نعمت سے عاری قرار پائے اور پذیرائی حاصل نہ کر سکے لاکھوں انسانوں کے اجتماع کی آوازبھی بے صدا جارہی ہے۔

لارنس آف عربیا کا سفر جاری ہے نائن الیون کے ڈرامے، گرے لسٹ کا گھورکھ دہندہ اسلامک فوبیا یہود وہنود کی پالیسیوں کا تسلسل ہے جو انسانی خدمت اور ہمارے دفاع کے نام پر ہمیں تقسیم کرنے کے فارمولا پر عمل پیرا ہیں اس وقت بھی سماج میں بہت سے’’ مسٹر تھامس‘‘ انکی وکالت کرتے نظر آتے ہیں اس ماحول میں یہود اور ہنود کی دشمنی کی صدا بلند کرنا خود کو دقیانوسی کہلوانے کے مترادف ہے۔


ای پیپر