حضرت سید علی ہجویری کا عرس
03 نومبر 2019 2019-11-03

حضرت داتا علی ہجویری کا عرس ہر سال عزت، محبت،عقیدت کے پیغام سے شروع ہوتا ہے اور روحانی تسکین، بامقصد زندگی، قرب الہی، حقوق العباد اور خود احتسابی کے پیغام کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ عرس ہمیں پیغام دیتا ہے کہ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے۔ معاف کر دینا صوفیوں کی شان رہی ہے۔ عفو درگزر سے کام لینا ہی انسان کی دعاوں کو قبولیت کی معراج تک پہنچا سکتا ہے، بھٹکے ہووں کو سیدھے راستے پر لا سکتا ہے، فقیر کو بادشاہ بنا سکتا ہے، طوائف کو جنت کا حقدار ٹھہرا سکتا ہے، زانی کو ولی اللہ بنا سکتا ہے اور شرابی کو دین کا داعی بنا سکتا ہے۔ جو طاقت معاف کر دینے میں ہے وہ بدلہ لینے میں ہر گز نہیں ہے۔اللہ کی صفتوں میں افضل ترین صفت معاف کر دینا اور رحم کرنا ہے۔

یہ عرس پیغام دیتا ہے کہ لاحاصل سفر کے مسافر مت بنو۔ خود احتسابی ہی حکم الٰہی کو سمجھنے کا راستہ ہے۔ اللہ تک پہنچنے کے لیے پہلے اس کے بندوں تک پہنچنا ضروری ہے۔ منفی سوچ کو اپنے اندر پنپنے مت دو۔ جو مقصد تم نفرت کرکے حاصل کرنا چاہتے ہو وہ محبت دے کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ناپسندیدہ لوگوں کو خود سے دور مت کرو۔ انھیں اپنے پاس بٹھاؤ، محبت امن کا پیغام دو، نفرت کے بادلوں کو برسنے سے پہلے ہی تحلیل کر دو۔ کسی کو نفع نہیں دے سکتے تو نقصان بھی مت دو۔ سازشوں کا گڑھا کھودنے میں وقت ضائع مت کرو بلکہ محبت کے بیج بونے کا سلسلہ شروع کرو تا کہ پرامن معاشرہ پروان چڑھ سکے۔

آئیے ایک نظر حضرت داتا علی ہجویری کے 976ویں عرس کے انتظامات پر ڈٖالتے ہیں۔ حضرت داتا علی ہجویری کا عرس ہر سال منعقد ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ کا عرس ماضی کی روایتوں سے مختلف تھا کیونکہ پنجاب کے صوبائی وزیر اوقاف و مذہب جناب پیر سید سعید الحسن صاحب عرس کے تینوں دن دربار میں بنفس نفیس موجود رہے۔ عرس کی تقریبات اور انتظامات کی نگرانی خود کرتے رہے۔ ماضی میں مذہبی امور و اوقاف کے وزیر صرف حاضری لگانے آتے تھے لیکن اس سال صوبائی وزیر صاحب مسلسل بہتر گھنٹے دربار میں حاضر رہے جو کہ ان کی بزرگان دین، صوفیا اکرام سے محبت اور احساس ذمہ داری کی دلیل ہے۔ شریعت،، مذہب، معیشیت، حقوق العباد، حقوق اللہ، قرآن کی تشریح، اولیا اکرام کی زندگیاں، منافع بخش پالیسیاں بنانا اور سب سے بڑھ کر سامنے بیٹھے شخص کے دل میں اتر جانا اور اسے اپنے اندر سما لینے کا جو ہنر پیر صاحب جانتے ہیں وہ ایک کالم میں بیان کرنا نا ممکن ہے۔

داتا صاحب کے عرس کے موقع پر بہترین سکیورٹی انتظامات دیکھنے میں آئے۔ اگر کہا جائے کہ سکیورٹی انتظامات فُول پروف تھے تو غلط نہیں ہو گا۔ سکیورٹی کے لیے 143 سکیورٹی کیمرے، 25عدد ایل ای ڈیز, 2000 سے زائد پولیس اہلکار، 3ایس پیز، سات ڈی ایس پیز، 2 ایلیٹ فورس کی گاڑیاں، 11 واک تھرو گیٹ، 36 میٹل ڈیٹیکٹر، 25 واکی ٹاکی، 22 انٹرکام، 450 تنظیموں کے رضاکار، 45 محکمے کے سکیورٹی گارڈز، 124 پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز، 5 ایمبولینسیں، چار جنریٹر اور 250 صفائی کے رضاکاروں کا بندوبست کیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر جناب حضرت پیر سید الحسن صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ داتا علی ہجویری کا عرس بزرگان دین سے محبت اور پنجاب کی ثقافت کا آئینہ دار ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا میں روحانی اور خانقاہی دنیا کی سب سے بڑی تقریب ہے اس لیے انھوں نے عرس کے موقع پر دینی، روحانی محفلوں اور علمی نشستوں کی انعقاد کے لیے 500 سے زیادہ مشائخ، سجادگان، اکابر، علما، مذہبی سکالر، قرا اور نعت خواں حضرات کو بھی مدعو کیا۔ تقریباً 200 سے زیادہ روحانی اور خانقاہی شخصیات کے علاوہ ہندوستان سے حضرت خواجہ غریب نواز کے سجادہ نشین سید بلال چشتی، خواجہ فرید دین فخری سجادہ نشین اورنگ آباد شریف، پیر سید دیوان طاہر نظامی سجادہ نشین درگاہ خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی بطور خاص مدعو تھے۔

وزیر صاحب قوالی، میلاد، عرس کے حوالے سے مدلل گفتگو کرتے ہیں۔ عربی، انگلش، چائنیز، اردو اور پنجابی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ چائنیز وفد جب بادشاہی مسجد کا دورہ کرنے آیا تو پیر صاحب نے نہ صرف چائنیز زبان میں ان کا استقبال کیا بلکہ بادشاہی مسجد کی تاریخ اور اس کی اہمیت کے حوالے سے چائنیز زبان میں مکمل تفصیل سے آگاہ کیا۔ چائینیز چند منٹوں میں ہی پیر صاحب کی صلاحیتوں کے گرویدہ ہو گئے۔وزیراعظم عمران خان کی طرف سے قائم کردہ مذہبی سیاحتی کمیٹی میں پیر صاحب کی تجاویز دور جدید کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔

جسے وزیراعظم، گورنر پنجاب سمیت کمیٹی کے تمام ممبران نے سراہا ہے۔

داتا علی ہجویری کے عرس کے انتظامات پیر صاحب کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک پہلو ہے۔اوقاف ڈپارٹمنٹ کی بہتری کے لیے بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے منصوبے میں کرپشن ختم کرنے کے لیے تمام مزارات پر پیسے اکٹھے کرنے کے باکس ہٹا کر الیکٹرک کیش مشینیں نصب کرنا، مزاروں کے ملازمین کی ٹریک سسٹم کے ذریعے مانیٹرنگ کرنا، اوقاف کی ہزاروں ایکڑ زمین پر پودے لگانا، اوقاف کی زمین پر غیر قانونی قبضے ختم کروانا، باعزت اور مہذب طریقے سے درباروں پر لنگر کی تقسیم کو یقینی بنانا، تمام مزارات پر پناہ گاہیں بنانا، اولیا اللہ کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے تمام مزارات میں تصوف اکیڈمیوں کے قیام کو یقینی بنانا،لاہور میں سیرت اور تصوف یونیورسٹی کا قیام جیسے منصوبے شامل ہیں۔ جن کی تکمیل پاکستانی عوام کے لیے علم اور ٹرانپرنسی کی نئی راہیں کھولنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔وزیراعظم عمران خان نے بیس اکتوبر کو کرتار پور کوریڈور میں بابا گرونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا اور تقریب سے خطاب میں فرمایا ہے کہ تمام درباروں کی زمینوں پر یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنائے جائیں۔ یہ اوقاف کی زمینوں کا بہترین استعمال ہو گا۔ یہاں میں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم صاحب کو یہ تجاویز بھی صوبائی وزیر اوقاف و مذہب جناب حضرت پیر سید سعید الحسن صاحب نے دی تھیں، جن کی عملی شکل بابا گرونانک یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گئی ہے

کالم کے اختتام پر میں وزیراعظم پاکستان اور صوبائی وزیر مذہب و اوقاف حضرت پیر سید سعید الحسن صاحب کو عرس کی تقریبات کو احسن طریقے سے مکمل کرنے ، تصوف کی تعلیم کو حکومت کی ترجیحات میں شامل کرنے اور داتا علی ہجویری کے پیغامات کو عام کرنے کے لیے کوششیں کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کی زیر سرپرستی پاکستان میں صوفیا اکرام کا پیغام ہر گھر اور ہر دل تک پہنچ سکے گا۔


ای پیپر