چکور خوش ہے کہ بچوں کو آگیا اڑنا
03 نومبر 2019 2019-11-03

اندر کی باتیں کیا اور کیسے ہوتی ہیں یہ اندر والوں کو ہی پتا ہوتا ہے ۔ ہمارا مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اندر کی باتوں پر غلط فہمی کا غلاف چڑھاکر پرامید رہنے کی ایکٹنگ کرکے گھاٹے کا سودا کرلیتے ہیں اور یہ ہمارا برسوں کا نوحہ ہے ۔ اس عمل کو ہم قومی سطح پر بار بار دہراتے ہیں اور ایسے میں جب کوئی سیاستدان بپھرے ہجوم کے ساتھ سڑکوں پر آنکلتا ہے تو ہم خوش ہوجاتے ہیں کہ ہمیں لیڈر مل گیا لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

اقبال نے برسوں پہلے تصّور اورحقیقت کے ملاپ کے بعد فرمایا تھا ہزاروں سال نرگس جب اپنی بے نوری پر آنسو بہاتی ہے تب کہیں جاکر چمن میں دیدہ ور کی آمد ہوتی ہے ۔ سمجھنے سے قاصر اجتماعیت کا ایک معمولی حصّہ ہونے کے باوجود اتنا تو سمجھ بیٹھا ہوں کہ نرگس روئی تھبی تو چمن میں خوشی اور غم بانٹنے کا ساتھی ملا تھا۔پرانی کہانی ہے حجاج ابن یوسف نے طواف کعبہ کے دوران ایک اندھے شخص کو گڑگڑاتے دیکھا جو اللہ سے بصارت کی دعا مانگ رہا تھا۔ حجاج دیکھ دیکھ کرحیران ہورہا تھا۔ جاتے وقت اس شخص سے کہا میں یہاں اپنی تلوار چھوڑ کر جارہا ہوں صبح آؤں گا اگر تمہاری آنکھیں صحیح سلامت تمہیں نہ ملی تو میں تمہارا سر قلم کردوں گا۔ اب کیا تھا ڈر کے لبادوں میں جب خلوص دل سے پوری رات سچے دل سے گڑگڑایا تو صبح کی روشنیوں میں اندھے کو بھی بصارت کی روشنیاں مل چکی تھیں۔تلاش کے لئے جہد مسلسل کا عنصر ضروری ہوتا ہے لیکن کرہ ارض کے اس حصے پر جہاں ہمارا بسیرا ہے تلاش ناپید ہے اور اوپر سے اچھے دنوں کی امید نقصان میں اور بھی شدت پیدا کررہی ہے ۔

چوہدری رحمت علی کو سنا ہے دنیا کا پہلا پاکستانی کہا جاتا ہے ۔ پاکستان کا نام انہوں نے پہلے استعمال کیا۔ اپنے شہرہ آفاق پمفلٹ"Now or never or we to live or perish forever" میں پاکستان کی جغرافیائی حدود کا جو تعین اس نے کیا تھا تقسیم جب اس فارمولے پر نہیں ہوئی تو مرحوم نے آزادی کے بعد قائداعظم کے بارے میں اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ موقف اس کا یہ تھا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے ۔ جو حصّہ ہمیں ملا ہے یہ کم ہے ۔ میں نے جب تاریخ کے صفحات میں اس کا یہ گلہ پڑھا تو خود سے پوچھا۔ جس چھوٹے حصے کے بارے میں وہ پریشان تھے اس کا بھی ایک حصہ کاٹ دیا گیا ہے اور جو باقی بچا ہے وہ ہم سے سنبھالا نہیں جارہا تو بڑے حصے کو کیسے سنبھال پاتے۔

گلوں شکوں کا یہ انبار آج کا نہیں بہت پرانا ہے ۔ لیفٹیننٹ کرنل الٰہی بخش قائد کے آخری دنوں میں ان کے ساتھ تھے۔ اپنی کتاب"With Quaid-e-Azam during his last days" میں ان تمام کیفیات کا ذکر کیا ہے جن کا قائد نے سامنا کیا تھا۔ قائد کیا اپنے آخری دنوں میں خوش تھے ان سے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ انہی لوگوں نے آگے چل کر ملک کی بھاگ ڈور سنبھالنی ہے ۔ قیامت ہی تو تھا قائد کے لئے جو گھنٹوں ایمبولینس کراچی کے سنسان سڑک پر کھڑی تھی اور اندر وہ حبس کی وجہ سے برے حال میں تھے۔ آزادی کے بعد پہلے مارشل لاء تک چمن ہر لمحہ بکھرتا رہا لیکن نرگس کو احساس تک نہ رہا اور پھر جب طرز فغاں لٹ گئی تو نرگس کو چمن پر نہیں خود پر ترس آیا۔ لمبی دوڑ کے بعد سیاستدان جو خود کو ہمیشہ سے چمن کا نرگس سمجھتے ہیں جب سستانے بیٹھ گئے تو قریب ہی سے آواز آئی آج ہم نے دو قومی نظرئیے کو خلیج بنگال میں دفن کیا لیکن کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ مخبوط الحواس اجتماعیت بکھرنے کے ڈر سے سنبھل ہی پائی تھی کہ ایک بار پھر نرگس کو مستی سوجھی اور چمن کو ملیامیٹ کرنے کا ارادہ کرلیا۔ اس بار نہ نرگس کا کچھ پتا تھا اور نہ دیدہ ور کا۔ طرز فغاں جب ایک بار پھر بمطابق سیاستدانوں کے لٹ گئی تو عام لوگ سمجھنے لگے کہ شائد اب کی بار یہ لوگ ایک مرکز پر جمع ہو جائیں لیکن ابھی وقت نہیں آیا تھا سو دیدہ ور کا آنا ایک فرضی خیال ہی تھا۔گیارہ سال کی طویل دوڑ کے بعد تربیت کا تقاضہ تھا کہ یہ لوگ جو خود کوکبھی نرگس تو کبھی دیدہ ور کہتے ہیں سیکھ جاتے لیکن اب کی بار یہ اپنے کھیل میں غلاظت بھی لے آئے تھے اور لگ گئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں۔ ان سے سنبھل نہیں پارہا تھا وجہ کیا تھی یہ چمن کو اپنے فائدوں کے لئے تقسیم کرنے کے در پے تھے۔ لازمی تھا پھر ایک بار طرز فغاں کا لٹ جانا۔ نو سال بعد ان سے پھر اختیار چھینا گیا لیکن سیکھا پھر بھی کچھ نہیں۔بیس سال اس حادثے کو بھی ہوئے لیکن کوئی سیکھے تو تاریخ بانہوں میں جگہ دیں نا۔آج ایک بار پھر چمن کی فضائیں گرد آلود ہیں۔ ہم باتوں سے تقدیر بنانے کی کوشش میں لگے ہیں لیکن تقدیر بنانے والا یوں آسانی سے سب کچھ ٹھیک نہیں کرتا۔ایک شور بپا تھا اگست 2014 میں کہ ہم آئیں گے تو چمن کی ہریالی خود آجائیگی۔ دیدہ ور کا انتظار رہا اور جب اقتدار مل گئی تو آج چمن کا لالہ ،گل اور نرگس سب پریشان ہیں۔پانچ سال بعد آج ایک بار پھر شہر اقتدار میں شورمچا ہے حکمرانوں کو نکالو ان سے نہیں سنبھالا جا رہا یہ تو ہم ہیں جو چلاسکیں گے۔

برسوں سے یہی عمل دہرایا جارہا ہے اور ہر بار عام آدمی سڑکوں کے اس ہجوم سے خوش ہوجاتا ہے کہ شکر ہے ہمیں نجات دہندہ مل گیا لیکن اندر کی باتیں کیا اور کیسے ہوتی ہیں یہ اندر والوں کو ہی پتا ہوتا ہے ۔ ہمارا مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اندر کی باتوں پر غلط فہمی کا غلاف چڑھاکر برسوں پرامید رہنے کی ایکٹنگ کرکے گھاٹے کا سودا کرلیتے ہیں اور یہ ہمارا برسوں کا نوحہ ہے ۔


ای پیپر