Chickens Have Come Home To Roost
03 نومبر 2018 2018-11-03

مولانا سمیع الحق جیسی جید علمی و دینی شخصیت کو جو پاکستان بھر سے لے کر امریکہ سے برسر پیکار افغان طالبان تک گہرے اثر و رسوخ کے مالک تھے اچانک اور نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کیے جانے والے واقعے نے پرسوں جمعہ کی شام حکومت اور تحریک لبیک دونوں کو سراسیمگی کا شکار کر دیا۔۔۔مذاکرات کا عمل جو پہلے سے جاری تھا اس میں تیزی آ گئی۔۔۔ معاہدہ ہو گیا حکومت نے مظاہرین کے تقریباً تمام مطالبات مان لیے۔۔۔ تحریک لبیک والوں نے بھی اس اندیشے کے پیش نظر اگر ناکے جاری رہے اور ہفتہ کے روز مولانا سمیع الحق کے جنازے میں شرکت کے لیے ملک بھر سے آنے والے لا تعداد افراد کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی رہیں تو دو فرقوں کے درمیان نا خوشگوار واقعات جنم لے کر تحریک کا رخ بدل سکتے ہیں۔۔۔ معاہدے پر دستخط کرنے میں دیر نہ لگائی۔۔۔ بعد میں رات گئے مولانا خادم حسین رضوی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کچھ مزید نکات پر بھی مفاہمت ہوئی ہے جن کا معاہدے میں ذکر نہیں۔۔۔ جب ان سے پوچھا گیا اس کی کیا ضمانت ہے کہ آسیہ بی بی کو معاہدہ ہونے سے پہلے ہی چپکے سے بیرون ملک روانہ کر دیا گیا ہو تو ان کا جواب تھا اس کے ردعمل میں وہ پورے ملک میں جنگ چھیڑ دیں گے۔۔۔ جو انقلاب لے آئے گی۔۔۔ وہ ایسا کر سکیں گے یا نہیں۔۔۔ سب اس وقت کی باتیں ہیں جب چڑیاں کھیت چگ گئی ہوں گی۔۔۔ تین دن تک حکومت کی رٹ بھی جس کا بہت ڈنکا بجایا گیا تھا کچھ کام نہ آئی۔۔۔ مظاہرین نے پورے ملک کے اندر معمول کی زندگی کو عملاً معطل کر کے رکھ دیا۔۔۔ کاروبار بند رہے۔۔۔ سرکاری اور نجی کمپنیوں کے دفاتر میں حاضری بہت کم رہی۔۔۔ سکول اور کالج بند ہو گئے۔۔۔امتحانات متاخر کرنا پڑے۔۔۔ اشیائے ضرورت کی شدید قلت پید ا ہو گئی، پٹرول نایاب ہونا شروع ہو گیا ہلاکتیں جو ہوئیں وہ مستزاد۔۔۔ ملکی معیشت جو پہلے سے نزع کے عالم میں ہے اور اس کے تنفس کو جاری رکھنے کے لیے ہمارے حکمران ملک ملک بھیک مانگ رہے ہیں اسے اربوں روپے کا مزید جھٹکا لگ گیا ہے۔۔۔ کیا اس سے اجتناب نہیں کیا جا سکتاتھا۔۔۔ 

ذرا غور کیجیے۔۔۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے بالغ نظر اور انتہائی مستعد اور خود کو عوامی کہنے والے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم تین رکنی پینل نے 8اکتوبر کو آسیہ بی بی کی بریت کے حوالے سے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔۔۔ اس کی بابت قوم کو بتا بھی دیا گیا۔۔۔ ملک بھر میں اس قیاس آرائی نے جنم لیا جو درست ثابت ہوئی کہ فیصلہ آسیہ بی بی کی رہائی کے حق میں آنے والا ہے۔۔۔کسے نہیں معلوم تھا کہ ردعمل شدید ترین ہو گا۔۔۔ سوشل میڈیا پر روزانہ کے حساب سے خبریں آ رہی تھیں کہ فیصلہ بریت کا آیا تو عوامی اور مذہبی سطح پر اس کی مخالفت بلکہ مزاحمت میں کوئی کمی روا نہ رکھی جائے گی۔۔۔ پیشگی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔۔۔ کیا حکومتی اور ہماری اعلیٰ عدلیہ کے محترم ترین ارکان اس سے بے خبر تھے۔۔۔ آپ نے مزاحمت کاروں اور مظاہرین کو اپنے امکانی فیصلے کے خلاف تیاری کے لیے پورے تین ہفتے دے دیے۔۔۔ 31 اکتوبر کو فیصلہ اس روز جاری کیا گیا جب ایک روز بعد وزیراعظم عمران خان چین کے اہم ترین دورے پر روانہ ہونے والے تھے۔۔۔ کیا اس حقیقت کا کسی کو علم نہیں تھا کہ وزیراعظم اپنے پیچھے کس قسم کے ملکی حالات کو چھوڑ کر جا نے پرمجبور ہوں گے اور میزبان ملک کے اندر استقبال کے تمام تر رسمی لوازمات کے باوجود ان کی حکمرانی کے بارے میں کس قسم کا تاثر قائم ہو گا۔۔۔ اس کے برعکس جو 

بھی فیصلہ تھا اگر اس کا اچانک اعلان کر دیا جاتا۔۔۔ مزاحمت کاروں کو تیاری کے لیے تین ہفتے نہ دیئے جاتے تو کیا ردعمل کے ساتھ نسبتاً بہتر طریقے سے نمٹا نہیں جا سکتا تھا۔۔۔ کم از کم قوم کو جسے اس ناخوشگوار فیصلے پر اتنا زیادہ نقصان برداشت نہ کرنا پڑتا۔۔۔ ازراہ کرم اتنا ضرور بتا دیجیے کہ اس قدر حساس نوعیت کے فیصلے کو محفوظ کر لینے اور کافی دنوں کے بعد اعلان کے پیچھے کون سی حکمت اور گہری سوچ کارفرما تھی۔۔۔ نہلے پر دہلے کا کام مذہبی جماعتوں کے شدید ترین ردعمل آنے کے بعد اسی روز شام کو وزیراعظم عمران خان کے قوم کے نام نشری خطاب نے کیا۔۔۔ اس میں ریاستی رٹ کے رو بہ عمل آنے اور اپنی طاقت دکھانے کے عزم کا تو بڑے رعب داب کے ساتھ اظہار کیا گیا اس کے ساتھ جناب وزیراعظم نے ایک بڑے مزاحمتی مذہبی لیڈر کے اس بیان کا بھی کھل کر حوالہ ان کے الفاظ میں دے دیا کہ فیصلہ کرنے والے جج واجب القتل اور آرمی چیف کافر ہیں۔۔۔ اگر تحریک لبیک کے ایک معروف مذہبی لیڈر نے غیر محتاط انداز میں جوان کا وتیرہ ہے یہ الفاظ کہہ بھی دیے تھے تو سوشل میڈیا تک محدود تھے۔۔۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں نے ان کی اشاعت عام سے درست طور پر گریز کیا لیکن ملک کے چیف ایگزیکٹو نے اپنے نشریے میں ان کو دہرا کر وہ بات جو نہیں کرنی چاہیے تھی پوری قوم کی زبانوں پر رواں کر دی۔۔۔ جس کو علم نہیں تھا وہ بھی آگاہ ہو گیا۔۔۔ وزیراعظم کی زبان سے ادا ہونے کی بنا پر ان الفاظ کو عالمی شہرت مل گئی۔۔۔ آخر اس کا کیا تک تھا۔۔۔ وزیراعظم کی تقریر نشر ہونے سے کچھ دیر پہلے ریکارڈ کر لی گئی تھی۔۔۔ کیا حکومت میں کوئی بھی صاحب دماغ یا دور اندیشی کا مالک ایسا شخص نہیں تھا جو اس جانب توجہ دلاتا۔۔۔ اگرچہ معاہدے میں پیر افضل قادری نے ان الفاظ کے ساتھ دستخط کر دیے کہ اگر کسی کی دلآزاری ہوئی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں۔۔۔ مگر ان ججوں کے لیے عمر بھر کے لیے سکیورٹی کے مسائل تو پیدا ہو گئے۔۔۔ چیف جسٹس ایک ڈیڑھ ماہ تک ریٹائر ہونے والے ہیں۔۔۔ ان کے لیے پرائیویٹ شخص کی حیثیت سے آزادی کے ساتھ گھومنا پھرنا آسان نہیں رہے گا جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ ان کی جگہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیں گے۔۔۔ ان کے لیے سخت ترین سکیوٹی انتظامات کے بغیر عدالت لگانا اور کسی قسم کا عوامی ربط و ضبط مشکل تر ہو جائے گا۔۔۔ آرمی چیف کے دین و ایمان پر جن خیالات کا غلط طور پر اظہار کیا گیا وزیراعظم کی تقریر نے انہیں چار دانگ عالم تک پہنچا دیا۔۔۔ ان پر ایسا کہنے والے کی عمومی الفاظ میں معذرت کے باوجود جو تاثر قائم ہوا اس کا مداوا آسان نہیں۔۔۔ پیپلزپارٹی کے پارلیمنٹیرین اور سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے قومی اسمبلی کے ایوان میں وزیراعظم کے انداز تقریر کو درست طور پر غیرمحتاط قرار دیا۔۔۔ حکومتی اراکین کے پاس اس نکتے کا کوئی جواب نہیں تھا۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر کسی اہم ترین سطح پر فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے بغیر اس حوالے سے عالمی دباؤ کا مقابلہ آسان نہیں اور پاکستان مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے تو اتنا سمجھوتہ کر لینے میں کیا حرج تھا تم عافیہ کو واپس کر دو ہم آسیہ جو اگرچہ ہماری شہری ہے تمہارے حوالے کر دیں گے۔۔۔ عافیہ صدیقی کا جو بھی قصور امریکی بتاتے ہیں وہ آسیہ بی بی پر لگائے جانے والے الزامات سے زیادہ سنگین تو نہیں تھا۔۔۔ آسیہ کے مقدمے نے تو پاکستان میں صوبے کے ایک گورنر کی جان لے لی۔۔۔ گورنر کے قاتل کی سزائے موت پر عملدرآمد ہوا تو ایک منتخب حکومت کی چولیں ہل کر رہ گئیں۔۔۔ عافیہ صدیقی کا معاملہ تو امریکیوں کے لیے اتنا نازک نہیں۔۔۔ پھر ہمارے مقتدر طبقوں اور حکومت نے اس پر غور کیوں نہ کیا۔۔۔ حقیقت یہ ہے اگر آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے ساتھ قوم کی مظلوم ترین بیٹی عافیہ صدیقی کی رہائی کی بھی کوئی یقین دہانی حاصل کر لی جاتی تو ردعمل میں اتنی شدت نہ آتی اور لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنا آسان ہوتا۔۔۔ پوری قوم اور خاص طور پر مقتدر طبقوں کی توجہ کے قابل ایک نکتہ یہ بھی ہے تحریک لبیک جس کی اٹھان اور غیرمعمولی حوصلہ افزائی میں جن عوامل نے کام کیا ہے ان میں سابق اور برطرف شدہ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے گرد مذہبی عناصر کا گھیرا تنگ اور ان کے ووٹ بینک کو توڑ کر رکھ دینا اہم تر تھا۔۔۔ 2017ء میں فیض آباد کے دھرنے کو جن عناصر کی پس پردہ پشت پناہی حاصل تھی اور پھر کھل کر سرپرستی کی گئی یہاں تک صاحبان اقتدارِ حقیقی کے ایک نمائندے دھرنے کے شرکاء میں آ کر ان میں پیسے بھی تقسیم کئے۔۔۔ اس قدر ’’ریاستی سرپرستی‘‘ کے بہرہ مند ان غیرریاستی عناصر سے 2018ء کے انتخابات مسلم لیگ (ن) کی نشستوں میں کمی واقع لانے کا بھی کام لیا گیا۔۔۔ بوتل سے نکلا ہوا جن موجودہ مظاہروں کے درمیان اب گلے کو لگا ہے تو آخری تجزیے میں اس کا ذمہ دار کون ہے۔۔۔ آخر ہم کب تک اس طرح کے حربوں کو کام میں لا کر امور ریاست کے اندر اتھل پتھل اور آئینی و جمہوری عمل کو تاراج کر کے رکھ دینے کا کام لیتے رہیں گے۔۔۔ انگریری محاورہ ہے Chickens always Come Home To Roost یعنی پالتو مرغیاں مزہ چکھانے کے لیے گھر کو لوٹ آیا کرتی ہیں۔۔۔ جو قادیانی کارڈ نواز شریف کے خلاف کھیلا گیا۔۔۔ اب اس نے کس کس کو نشانہ بنایا ہے۔۔۔ ایسی بلا جسے ہم دوسروں کے لیے تخلیق کریں گے وہ اپنے بھی سر آ سکتی ہے۔۔۔ کیا اس شغل سے مکمل طور پر اجتناب نہیں کرنا چاہیے۔


ای پیپر