عقل تمام بولہب
03 نومبر 2018 2018-11-03

ابولہب ، اولین شاتم رسولؐ کا بیٹا عتیبہ ، شام کے سفر پر جانے سے پہلے آیا۔ النجم کی آیات کا انکار کرتے ہوئے آپؐ کی طرح منہ کرکے تھوکا۔ نبیؐ نے بددعا دی: اے اللہ اپنے کتوں میں سے کوئی کتا اس پر مسلط کردے۔‘شام کے سفر میں پڑاؤ ڈالا۔ ابولہب بددعا سے خوفزدہ تھا۔ بیٹے کو اونٹوں کے پہرے میں محفوظ کرکے سلایا۔ رات کو شیر آیا، سب کے منہ سونگھتا ہوا عتیبہ تک پہنچا۔ سرپکڑ کر ذبح کرڈالا۔ چیر پھاڑ گیا۔ گستاخ رسول ؐ پر پہلی سزائیں اللہ نے خود نافذ فرمائیں۔ پہلے بیٹے اور بعدازاں خود ابولہب پر عبرتناک موت کی صورت۔ یہاں تک مدینہ کی ریاست قیام ہونے پر شاتم رسول کی سزا قانوناً نافذ ہوئی۔ کعب بن اشرف، ابورافع جیسے یہودی سرداروں اور دیگر ملعونین پر لاگو کی گئی۔ امام مالک ؒ کے قول کے مطابق : اس امت کے باقی رہنے کا کیا جواز ہے جس کے نبی کو سب وشتم کا نشانہ بنا ڈالا جائے۔ سوشان رسالتؐ امت، ملت، مملکت کی بقا کا سوال ہے۔ شاتم رسول کا جرم روئے زمین پر سب سے بڑا جرم ہے۔ یہود نے نبیؐ سے کعب بن اشرف کے قتل پر شکوہ کیا۔ (خوف کی لہر دوڑ گئی تھی ان کے رگ وپے میں ) آپ ؐ نے ان سے جوفرمایا ۔ وہی عین توہین رسالت کا قانون بھی ہے۔ اس نے ہمیں نقصان پہنچایا ۔ شاعری میں ہماری ہجوکی۔ اب تم میں سے جو کوئی یہ کام کرے گا ہم اس سے تلوار سے نمٹیں گے۔ یہ کفر نہیں گستاخی کی وجہ سے قتل ہوا۔ اس زمین پر سب سے بڑا جرم توہین رسالت ہے۔ جس پر مذاکرات، معافی، مفاہمت نہیں ہے۔ اسی لیے کفارویہود کو ایک دستاویز پر دستخط کے لیے بلایا کہ وہ جان لیں کہ وہ رسولؐ اللہ کے خلاف نہیں بولیں گے۔ یہ جرم ہے ۔ جو زبان سے اذیت دے گا۔ اس کا خون محفوظ نہیں۔ ہولو کاسٹ (یہود کی نسل کشی) کی عصمت پر شک کرنا جرم ہے۔ یہود نے دنیا کو پڑھا دیا۔ جو آزادئ اظہار ہولوکاسٹؐ پر گھگھیا جاتی دم سادھ لیتی ہے۔ رواداری برداشت، پرامن بقائے باہمی کے بھاشن نہیں دیتی، اسے شان رسالت بھی پڑھنی پڑے گی۔ عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بولہب!تمامتر احتیاط برتتے ہوئے، پھونک پھونک کر قدم رکھتے آسیہ ملعونہ کا کیس لاہور ہائی کورٹ تک پہنچا۔ تمام تر گواہیوں اور آسیہ کے بیانات /اقرار کی روشنی اور شفاف مقدمے میں اسے سزائے موت سنائی گئی۔ اور پھر یکایک قانون وانصاف پر سکتہ طاری ہوگیا۔ 295-Cکا گلا گھونٹتے ہوئے آسیہ بری ہوگئی۔ اچانک۔ یکایک۔ ممتاز قادری پر تو دن رات ایک کرکے پھانسی کی سزا صادر ہوگئی۔ آسیہ پر پورے دس سال لگادیئے اور پھر جورہائی دی تو پورا مغرب کھکھلا اٹھا۔ دادوتحسین کے ڈونگرے برسنے لگے۔ براؤن صاب میڈیا (پرنٹ، سوشل) نے خوشیاں منائیں۔ شاباش دی! لیکن ایسا کیوں ہے کہ سارے چینلز کو سانپ سونگھ گیا۔ گڑھے میں گری گائے پر بریکنگ نیوز لگانے والے۔ اس کاریسکیو آپریشن براہ راست نشرکرنے والوں نے گڑسے نہلا دھلا کر نکالی جانے والی آسیہ بی بی ، اور اس پر قوم کا ردعمل کیوں نہ دکھایا؟ فیصلہ جاری ہونے سے پہلے ہی سرکاری طورپر میڈیا کی زبان بندی کردی گئی ۔ اگر یہ فیصلہ شفاف اور برحق تھا توڈرکیسا ذی شعور قوم نے اتنا شدید ردعمل کیوں دیا ؟ تادم تحریر دودن ہوگئے۔ پوراملک معطل ہوگیا۔ قومی شاہراہیں ، مارکیٹیں بند، سکول کالج بند، امتحانات منسوخ، ٹرانسپورٹ بند، سگنل بند، دفعہ 144لاگو۔ ملک بھر سراپا احتجاج ۔ اگر آپ فیصلے پر اتنے پر اعتماد ہیں تو آپ نے میڈیا کا منہ کیوں باندھے رکھا ؟ اگر یہ فیصلہ مبنی برانصاف تھا تو قوم بیک زبان اتنی سیخ پا اور برہم کیوں؟ وزیراعظم کہتے ہیں : ریاست سے جنگ نہ کریں، نہ 

ٹکرائیں، آپ ریاست مدینہ کے نام لیوا، اللہ رسولؐ سے کتنی جنگوں کے متحمل ہوسکتے ہیں ؟سودی نظام والی جنگ تو جاری ہی تھی۔ (البقرۃ۔278-279) اب روئے زمین پر افضل الخلائق، سیدالانبیاء ، خاتم النبیین ، امام الانبیاؐء کی ناموس ایک چھوکری کے ہاتھ بیچ دی؟ زبان کپکپاتی ، وجود لرزتا اور جگرپاش پاش ہوتا ہے ہرصاحب ایمان کا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا تھا (ارتدادکی لہر پر) ایبدل ،الدین وانا حی‘‘ کیا میرے جیتے جی دین بدل دیا جائے گا ؟آج بحمد للہ ہرذی شعور (سوائے جہلاء کے) اسی تپش کو اپنے اندر محسوس کرتے ہوئے اٹھ گیا ہے۔ بلا استثناء تمام دینی جماعتیں یک زبان ہیں، یہ سیاسی ایشو نہیں ہے (اسی لیے سیاستدان تو اب بھی سیاست ہی کررہے ہیں۔ حکومت، اپوزیشن ایک عرصے بعد یک جا مفاہمتی انداز میں ہنستے مسکراتے دیکھے جاسکتے ہیں )آسیہ بی بی پر اتفاق رائے کی تصویر دیکھ لیجئے۔) کمزورترین ایمان کا مسلمان بھی اہانت رسول قبول نہیں کرسکتا۔ ادھر حکومتی اہتمام ملاحظہ ہوں۔ آسیہ کا خاندان پہلے ہی برطانیہ جاچکا۔ یہ معزز مہمان بن کر اب اپنی قیمتی متاع، ملعونہ آسیہ کو لے جانے پاکستان آئے ہیں۔ مکمل حفاظتی پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا جاچکا۔ آسیہ جیل سے سیدھا بذریعہ سرکاری ہیلی کاپٹر ایئرپورٹ پہنچا دی جائے گی۔ (دی نیوز یکم نومبر ) کے گمان، قیاس آرائی کے مطابق ۔ اقلیتوں سے حسن سلوک پر نوبل پرائز سے بھی بڑا انعام ان حکومتوں کا حق ہے۔ شان رسالتؐ ہی قربان نہ کی، ایک بھاری بھر کم گورنر نے اپنی جان اس دیہاتی عورت پر نچھاور کردی۔ ایک عاشق رسولؐ کو اس کی خاطر تختہ دار پر چڑھا دیا۔ عوام میں جس کی مقبولیت کا یہ عالم کہ تمام تر حکومتی روکاوٹوں ، میڈیا ئی بلیک آؤٹ کے باوجود اس گئے گزرے دور میں بھی لوگ امڈے چلے آئے۔ عاشقان عاشق رسولؐ نے شہید ناموس رسالت کا جنازہ پڑھا۔ حدنظر تک انسانوں کا سیلاب تھا! کیا عدالتوں میں شک کے سارے فائدے، دین اسلام کے امن ودرگزر کے سارے حوالے گستاخان رسالت ہی کے لیے ہیں؟ اس چھوکری کے مقابل وہ ہماری ایک بیٹی عافیہ جرم بے گناہی کے 81سال کاٹنے کو پھینک رکھی ہے؟ جس کے 20لاکھ ڈالر امن پسند ہضم کرگئے! اس فیصلے نے قوم کو بڑاواشگاف پیغام دیا ہے۔ 295-Cعملاً فریزکیا جاچکا۔ آئندہ فیصلہ خودہی چکا دینا۔ ہمارے پاس لاؤ گے تو ہم اس گھناؤنے جرم کو شاباش کی تھپکی دینے پر مجبور ہیں۔ یوں بھی حکومتی مجبوری سمجھنی چاہیے۔ ریمنڈ ڈیوس کیس میں حکمرانوں کی شرمناک فدویت یاد کرلو۔ بلا استثنا ء تمام حکمران کرسی پر بیٹھنے سے پہلے ایمان، جرأت، غیرت ، نظریہ ، قومی ملی حمیت سے ہاتھ دھولیتے ہیں تو بیٹھ پاتے ہیں۔ اسی لیے آسیہ کیس میں تمام کرسی طلب ایک پیج پر ہیں !توہین رسالت ؐکا ہرمجرم ، اسلام دشمنی کا ہر سورما مغرب میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ بلاگزرتا ملالہ۔ پاکستان نے انہیں معزز مہمان بناکر مکمل تحفظ دیا مغرب نے آؤ بھگت کی۔ گستاخی کے عالمی ایجنڈے پر ہمارا ہرلیڈر حصہ دار بنا۔ یہ تیرے عشق کے دعوے ، یہ جذبۂ بیمار، یہ اپنی گرئی گفتار، پستئ کردار ۔!یوں بھی یہ سانحہ 31اکتوبر کو پیش آیا ہے۔ مغربی دنیا میں یہ ہیلووین (جنات، بلاؤں، بھوتوں) کا دن ہے شیطان پرستوں کا دن ہے۔ شیطانی چرچ کے بانی کے مطابق، اپنی سالگرہ کے بعد یہ شیطانی مذہبی رسومات کا اہم ترین دن ہے۔ اسے ان کے ہاں شیطان کی سالگرہ کا دن بھی گردانا جاتا ہے ۔پاکستان میں چند سالوں سے ہم نے مغربی تہذیبی لنڈا بازار سے جو تہوار خرید کرسجائے ہیں یہ ان میں سے ایک ہے۔ جس پر نوجوان ، عیش کوش طبقے کے چھوٹے بڑے، شیطانی خوفناک حلیئے بناتے، آگ جلاتے، خوفناک فلمیں دیکھتے ہیں۔ گورے تو ایک آدھ دن ہی مناکر فارغ ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہیلوین ہفتہ بھر جاری رکھنے کے پروگرام سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ 26اکتوبر تا 3نومبر کے تماشے موجود ہیں۔ خوف بھری تفریح، کیجئے، مہنگے ریسٹورانٹوں ، ہوٹلوں، پوش علاقوں ، نجی سکولوں یونیورسٹیوں میں۔ سو حکومتی عدالتی سطح پر یہ شیطانیت آسیہ کی رہائی کی صورت سامنے آگئی سوئے اتفاق سے ہماری خوش باش نوجوان نسل کو ان تماشوں میں لگاکر دینی حمیت شل کرنے کے سارے اہتمام فراہم ہیں۔ مغرب میں اس کا مآل دیکھئے۔ وسطی فلوریڈا میں، گیارہ بارہ سالہ دولڑکیاں، جو شیطان پرست تھیں، سکول چاقو لے کر آئیں۔ (پکڑی گئیں بروقت ) خوفناک فلم دیکھ کر منصوبہ بنایا تھا، چھوٹے طلباء کو پکڑ کر ان کا خون پینے اور گوشت کھانے کا، بعدازاں خود کو بھی چاقو سے قتل کرنا تھا۔ ہمارے ہاں ابھی ایمان سے فراغت پانے کے مراحل جاری ہیں۔ یوم کشمیر پر اخبار میں ایک تصویر تھی۔ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی تصویری نمائش کی۔ شریک لڑکیاں کالے دیدہ زیب، کھلے گلے والے کشمیری نوعیت کے (ڈرامائی انداز) لباس زیب تن کئے، خود نمائی کا شاہکار بنی، نمائش میں تصاویر ملاحظہ فرمارہی تھیں۔ مظلوم کشمیری خواتین، نوجوانوں، بچوں کے خونچکاں حال پر بے دردی ، بے بسی کا یہ عالم ، کشمیر سے ہماری ہمدردی ، یک جہتی ،غم خواری کا مذاق ہی اڑایا گیا۔ چندنمائشی اقدامات، بیانات، مظاہرے ڈرامے۔ ہمارے سیرت وکردار کس درجہ مسخ ہوگئے ۔ نظریہ جاتا رہا۔ دنیا کے پچاری ، حرص وہوس مجسم، ایسے میں اسرائیلی طیاروں کا شوشہ، بڑھتے پھیلتے گریٹر اسرائیل کے لیے اقدامات (جومشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں) کا حصہ ہیں۔ پتھر پھینک کر لہریں گننے کا عمل ہے۔ فیلرز چھوڑے جاتے ہیں ایک دیوانی قوم کا ردعمل جانچنے کو !


ای پیپر