کاہل اور نکمے۔۔۔
03 نومبر 2018 2018-11-03

دوستو، کاہل، نکمے اور سست لوگوں کے لئے ایک اچھی خبر پیش خدمت ہے۔۔کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انسان اپنی پیدائش سے آج تک جتنی تبدیلیوں اور ترقیوں سے گزرا ہے اس کی ابتدا سستی اور کاہلی سے ہوئی تھی۔اگر تو آپ کو ہر وقت بیٹھے یا لیٹے رہنے کا دل کرتا ہے اور اٹھ کر کوئی کام کرنا ناگوار گزرتا ہے تو اب آپ کے پاس اس کا ٹھوس جواز موجود ہے کیونکہ انسانی دماغ جسمانی توانائی کو ضائع سے ہونے سے بچانے کے لیے پروگرام ہوا ہے۔۔جی ہاں! بات بڑی عجیب لگتی ہے لیکن ذرا گہری ہے اور شاید حقیقت سے قریب تربھی۔تحقیق میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ ہمارے وہ آباؤ اجداد جو پتھروں کے دور سے تعلق رکھتے ہیں ان کی خوراک کا دراومدار جانوروں کے شکار پر ہوتا تھا۔وہ جب ہی حرکت کرتے تھے جب انہیں شکار کرنا ہو تا تھایا اپنے مخالفین سے لڑنا ہوتا تھا۔شکار کے علاوہ باقی وقت وہ دن بھر بیٹھ کر یا لیٹ کر گزارتے تھے تاکہ اپنی جسمانی توانائی کو بچا کر رکھ سکیں۔اس تحقیق کے مطابق غیرضروری طور پر جسمانی توانائی ضائع کرنا پرانے زمانے میں انسانوں کو شکاری جانوروں کے سامنے کمزور بنا دیتا تھا،اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے ایک تحقیق کی گئی جس میں نوجوان رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں اور انہیں ایک کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بٹھا کر انہیں جسمانی طور پر متحرک یا سست پڑے رہنے کی مختلف تصاویر دکھائیں۔رضاکاروں کو ٹاسک دیا گیا کہ جسمانی طور پر متحرک افراد کی تصاویر کو ہر ممکن تیزی سے حرکت دیں جبکہ سست افراد کی تصاویر سے دور رہیں، اس تجربے کے دوران ان کے ذہنی سگنل بھی ریکارڈ کیے گئے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے ذہنوں کے لیے خود کو سست افراد کی تصاویر سے دور رکھنا بہت زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ریسرچرز کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہمارا دماغ سست رہنے کی جانب زیادہ کشش محسوس کرتا ہے۔۔ سست افراد کو عام زندگی میں زیادہ پسند نہیں کیا جاتا ہے مگر سائنس کا اس منفی رائے سے کچھ لینا دینا نہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ سستی اور کاہلی تو درحقیقت انتہائی ذہانت کی علامت ہوتی ہے۔جی ہاں یہ دعویٰ بھی امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔فلوریڈا گلف کوسٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بیشتر ذہین ترین افراد اپنے متحرک ساتھیوں کے مقابلوں میں زیادہ وقت سستی یا کاہلی کے ساتھ گزارتے ہیں۔تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ زیادہ آئی کیو کے مالک افراد اپنا زیادہ وقت اپنے خیالات میں گم رہتے ہوئے کاہلی کے ساتھ گزارتے ہیں۔۔اس حوالے سے بھی تحقیق کی گئی۔جس میں ساٹھ رضاکاروں کو دو گروپس میں تقسیم کرکے ایک ہفتے تک تجربات کیے گئے اور ان کی کلائیوں پر ایک ڈٰیوائس باندھی گئی جو ان کی جسمانی سرگرمیوں اور حرکات کو ٹریک کرے ڈیٹا فراہم کرتی تھی۔نتائج سے معلوم ہوا کہ غور و فکر میں گم رہنے والے افراد جسمانی طور پر دوسرے گروپ کے مقابلے میں بہت کم متحرک تھے۔ ریسرچرز کے خیال میں کم غور و فکر کرنے والے افراد جلد بیزار ہوجاتے ہیں تو انہیں اپنا وقت گزارنے کے لیے جسمانی سرگرمی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔دوسری جانب کاہل مگر ذہین افراد پر ان کے سست طرز زندگی کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی صحت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ریسرچرز کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا چاہئے ورنہ موٹاپا، ذیابیطس اور دیگر جان لیوا امراض انہیں اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں۔یہ تحقیق سائنسی جریدے جرنل آف ہیلتھ سائیکولوجی میں شائع ہوئی۔۔

سردار جی جو بہت ہی زیادہ سست اور کاہل الوجود تھے، مساج سینٹر کھول بیٹھے، مگر وہ ذرا نہیں چلا، وجہ صرف یہ تھی کہ۔۔مساج سینٹر پر انہوں نے لکھا تھا۔۔سیلف سروس۔۔ایک صاحب اتنے سست الوجود تھے کہ کبھی اپنی گاڑی کو صاف تک نہیں کیا،ایک صبح گھر کے باہر سے ان کی گاڑی چوری ہوگئی۔۔ لیکن شام ڈھلتے ہی وہی گاڑی صاف ستھری حالت میں مکمل پالش کے ساتھ اسی جگہ کھڑی پائی گئی جہاں سے چوری ہوئی تھی۔ وہ صاحب بہت خوش ہوئے، گاڑی کے اندر ایک خط پڑا تھا جس پر تحریر تھا۔۔میں تہہِ دل سے معذرت خواہ ہوں کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔ میری بیوی کی ڈیلیوری کے باعث حالت تشویش ناک تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آپا رہا تھا کہ کیسے اسے ہسپتال پہنچاؤں۔ بس اس وجہ سے میں نے چوری جیسا گھناؤنا قدم اٹھایا مگر میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں اور امید کرتا ہوں آپ مجھے میری اس حرکت پر معاف کر دیں گے۔میری طرف سے آپ اور آپ کی فیملی کے لیے ایک عدد تحفہ۔ آج رات کے شو کی ٹکٹیں اور ساتھ میں کچھ کھانے پینے کی چیزیں بھی قبول کیجیے۔ یہ سب اس مدد کے بدلے میں ہے جو آپ کی گاڑی کے ذریعے سے ہوئی۔گاڑی کا مالک یہ سب پڑھ کر مسکرایا۔ بغیر محنت گاڑی بھی دھلی دھلائی ملی اور مفت میں رات کے شو کی ٹکٹیں۔ رات کو جب فیملی فلم دیکھ کر واپس آئی تو ان کے گھر ڈکیتی کی واردات کی جاچکی تھی۔ پورا گھر سامان سے خالی کیا جاچکا تھا اور وہیں پر ایک خط پڑا ملا جس پر لکھا تھا:۔۔ امید ہے ’’فلم ‘‘پسند آئی ہوگی۔۔

ہمارے وزیراعظم چین کے دورے پر ہیں، پہلے سعودی عرب گئے تو ایک بیل آؤٹ پیکیج لائے، اب چین سے کچھ امیدیں کہ خالی ہاتھ لوٹنے نہیں دے گا۔۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں۔۔ہر پاکستانی ایک لاکھ پچیس ہزار کا مقروض ہے ۔۔آبادی کا بڑھنا، مطلب قرضداروں کی تعداد کا بڑھنا ہے۔ زیادہ قرضداروں پر تقسیم ہونے کے بعد قرضہ کم ہو جایا کرتا ہے۔ اگر پاکستان کی آبادی دو ارب تک پہنچ جائے تو ہر شخص پر قرضہ صرف پچاس روپے رہ جائے گا۔ لہٰذا ہمت کیجئیے ،آبادی بڑھائیے ،اپنے لئے۔۔ قوم کے لئے۔۔۔ بس یہی ایک صورت ہے قرض کم کرنے کی۔۔بچوں پر یاد آیا آج کل کے بچے اتنے تیزا ور طرار ہیں کہ ہم نے دوننھے منوں کی گفتگو اچانک ہی سن لی۔۔بچہ کہتا ہے، میں پانچ سال کا ہوں اور تم؟ بچی نے کہا، میں ابھی چار سال کی ہوں،بچے نے کہا، تو پھر چلیں بائیک پر؟ بچی نے شرماتے ہوئے پوچھا، کہاں؟ بچے نے بڑی معصومیت سے کہا۔۔پولیو کے قطرے پینے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ہرنی شیر سے زیادہ تیز رفتار ہوتی ہے، لیکن شکار ہو جاتی ہے کیونکہ بار بار وہ پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتی ہے کہ شیر کہاں تک پہنچا، ایسا کرنے سے اسکی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جب ہم زندگی کے سفر پر رواں دواں ہوں تو بار بار ماضی میں جھانکنے سے ہمارا صرف اور صرف نقصان ہوتا ہے۔ جیسے بائک چلانے والا شخص اگر بلا وجہ پیچھے مڑ مڑ کر دیکھے تو نقصان اٹھاتا ہے۔ اس لئے ماضی میں جھانکنے کے بجائے مستقبل کی فکر کریں اور اپنے حال میں مست رہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔


ای پیپر