مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ادا ،بیٹے نے نماز جنازہ پڑھائی
03 نومبر 2018 (15:59) 2018-11-03

نوشہرہ:جمعیت علما اسلام(س )کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ اکوڑہ خٹک میں اد کرنے کے بعدمدرسہ حقانیہ میں موجود آبائی قبرستان میں والد کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ، مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ان کے بیٹے حامد الحق نے پڑھا ئی، نماز جنازہ میں ملک بھر سے سیاسی و مذہبی قائدین سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

اس موقع پر ان کی رہائش گاہ اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، خیبر پختونخوا میں سرکاری سطح پر سوگ منایا گیا ، قومی پرچم سرنگوں رہا ۔ تفصیلات کے مطابق تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں قاتلانہ حملے میں شہید مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ خوشخال خان خٹک کالج کے گرا ﺅ نڈ میں ادا کر دی گئی، مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ان کے بیٹے حامد الحق نے پڑھا ۔ نماز جنازہ میں رہنما مسلم لیگ (ن) راجہ ظفر الحق ، اقبال ظفر جھگڑا، غلام احمد بلور،علامہ احمد لدھیانوی ، امیر مقام ، مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، مفتی عدنان کاکاخیل، گورنر خیبرپختونخواشاہ فرمان ، سراج الحق ، لیاقت بلوچ،اشرف تھانوی سمیت نماز جنازہ میں مدارس اور مذیبی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی جس کے بعد شیخ الحدیث کو مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ان کے والد شیخ الحدیث مولانا عبدالحق کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مولانا سمیع الحق پر راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

مولانا کے بیٹے کا کہنا تھا کہ والد کو گھر پر چھریوں کے وار سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ مولانا سمیع الحق اسپتال منتقل کرنے سے قبل ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اہلخانہ نے مولانا کا پوسٹ مارٹم سے انکار کردیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں ان کے کمرے میں پہنچیں اور فرانزک لیب کے ماہرین نے تفتیشی افسران کے ساتھ مل کر شواہد اکھٹے کیے ،تفتیشی ٹیم نے مقتول رہنما کے زیر استعمال اور کمرے کی چیزوں سے فنگر پرنٹس کے شواہد لیے جبکہ ہاسنگ سوسائٹی کے ریکارڈ روم سے سی سی ٹی وی فوٹیج کا ڈیٹا بھی حاصل کیا۔

یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق ممتاز مذہبی اسکالر اور سینئر سیاست دان تھے۔وہ 18 دسمبر 1937 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے جبکہ وہ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام (س)کے امیر بھی رہے۔ مولانا سمیع الحق سینیٹر بھی رہے، وہ متحدہ دینی محاذ کے بانی تھے جو پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے۔ یہ اتحاد انہوں نے سنہ 2013 کے انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے بنایا تھا۔


ای پیپر