Mushtaq Sohail, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
03 May 2021 (11:41) 2021-05-03

اللہ تعالیٰ جھوٹ سنوائے نہ بلوائے کیسی کیسی اندرونی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ سب کہانیاں ذرائع کے حوالے سے اقتدار کے ایوانوں اور غلام گردشوں سے سینہ بہ سینہ ہوتی ہوئی باہر آتی ہیں۔ کچھ چینلز والوں کا کمال کہ وہ اگلوا لیتے ہیں۔ ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن نیا کردار، نئی کہانیاں، ایک اور سیاسی طوفان پیدا کر گئیں۔ سمندر کی تہہ میں جانے کتنے طوفان پل رہے ہیں۔ تلاطم کسی نہ کسی سبب پیدا ہوتے ہیں۔ منہ زور طوفان سطح سمندر پر ساحل سے ٹکراتے اپنا سر پھوڑتے ہیں اور واپس مڑ جاتے ہیں۔ وقتی طور پر لہریں پُر سکون ہو جاتی ہیں۔ وفاقی کابینہ کی نصف سنچری مکمل، ڈھیروں وفاقی وزیر، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور ڈیڑھ درجن سے زائد ترجمان روزانہ اجلاس، بریفنگ، پریس کانفرنسیں اس کے باوجود سینہ گزٹ سے برآمد ہونے والی اندرونی کہانیاں۔ کابینہ میں بیٹھے اور غلام گردشوں میں گھومتے لوگ ’’پائوں نہیں ذہن سے اپاہج ہیں۔ ادھر چلیں گے جدھر رہنما چلاتا ہے‘‘ منہ پر ماسک چڑھائے اجلاسوں میں خاموش بیٹھے صرف آوازیں سنتے اور سر دھنتے ہیں کبھی کبھار کوئی وزیر مشیر پھٹ پڑتا ہے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے ذرائع کے حوالے سے سب کچھ یا بہت کچھ اگل دیتا ہے تو اندرونی کہانیاں منظر عام پر آتی ہیں، بشیر میمن تحقیقاتی ادارے کے خاموش کردار نے پچھلے دنوں جو کہانیاں سنائیں وہ عجیب غضب کہانیاں تھیں۔ ’’مجھے بلا کر کہا گیا جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف انکوائری کریں میں نے کہا یہ میرے ٹی او آرز میں نہیں ہے۔ ایف آئی اے تو قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے غیر قانونی کام کیسے کرسکتا ہوں وہ بھی ایک معزز جج کے خلاف ،کہا ’’محمد بن سلطان جو کہتا ہے وہ ہوجاتا ہے‘‘ میں نے کہا سعودی عرب میں بادشاہت ہے پاکستان میں جمہوریت، یہاں صرف گرفتار کرنا نہیں ہوتا، جرم بھی ثابت کرنا ہوتا ہے۔ یہ خواجہ آصف پر غداری کا کیس بنانا چاہتے تھے‘‘ غضب کہانی کے چار کردار،وزیر اعظم، شہزاد اکبر، اعظم خان اور فروغ نسیم، چاروں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کیس بنانے پر متفق، بشیر میمن ہمت والے افسر ہونے کے باوجود ڈر گئے۔ کہنے لگے میرا کام ہی نہیں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شریف، کیپٹن صفدر اور سلمان شہباز کے علاوہ احسن اقبال، جاوید لطیف، خواجہ آصف، خرم دستگیر، مریم اورنگزیب، خورشید شاہ، نفیسہ شاہ، مصطفی نواز کھوکھر اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں کیخلاف کیسز بنانے کا حکم دیا گیا۔ موقف تھا کہ اپوزیشن کو چھوڑنا نہیں ہے‘‘۔ کہانی طویل سچ جھوٹ اللہ جانے یا راوی، چاروں کردار اس تمام کارروائی سے انکاری، وزیر اعظم نے کہا جسٹس فائز عیسیٰ، مریم نواز، پیپلز پارٹی یا ن لیگ کے کسی لیڈر کے خلاف کیسز کے لیے نہیں کہا صرف خواجہ آصف کے اقامہ معاملہ پر تحقیقات کی ہدایت کی۔ شہزاد اکبر انتہائی غضبناک ایک ڈی جی کی یہ جرأت کہا 14 دن میں معافی مانگو ورنہ 50 کروڑ کا نوٹس،فروغ نسیم نے بھی کہا الزامات واپس نہ لیے تو عدالت لے کر جائوں گا۔ بشیر میمن اپنی باتوں پر قائم کہا جوڈیشل انکوائری کرائیں سب پتا چل جائے گا۔ انکوائری نا ممکن، کون پیشیاں بھگتے گا 100 سے زائد پیشیاں بھگتنے والا باہر چلا گیا، پیشیوں کا فائدہ کیا ہوا، وکیل چیختے چلاتے رہے جج نے سات سال قید سنا دی یہ الگ اندرونی کہانی، بعد میں جاتی امرا پہنچ کر معذرت کی حرمین شریفین میں بھی معذرت خواہانہ کہا کہ اوپر سے دبائو تھا میں نے آدھی سزا سنائی جج کے خلاف فوری کارروائی برطرفی عمل میں لائی گئی۔ برا 

ہو کرونا کا بے چارے جج کرونا میں مبتلا ہو کر جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ جج نہ رہے لیکن سزا باقی، بشیر میمن کی اندرونی کہانی کے بعد مسلسل پیش رفت اپوزیشن کا کون سا رہنما محفوظ رہا سب کے خلاف کیسز، ایک بشیر میمن نے انکار کردیا تو کیا ہوا وفاداروں کا ہجوم ہے فرماں برداروں کا اژدھام، سارے کردار جا بجا بکھرے لیکن حکم کے منتظر، پہلے شہباز شریف کی باری آئی ۔آمدن سے زائد اثاثوں کا ازلی ابدی فارمولہ کیس، صرف فائلوں سے مٹی جھاڑ کر تندرو والے پاپڑ والے کردار پیدا کرنے تھے چنانچہ محنت کی گئی محنت کرنے والوں پر آفرین، 110 گواہ بھی مہیا کر لیے گئے یہ الگ بات کہ صرف 10 ہی آسکے، شہباز شریف لاکھ مفاہمانہ احتیاط کے باوجود جیل بھیج دیے گئے حمزہ پہلے سے جیل میں تھے مریم نواز ضمانت پر لیکن طلبیاں جاری، امن و امان کے خوف سے ایک طلبی منسوخ، عوام کا سامنا کرنے سے خوفزدہ، خواجہ آصف بھی جیل بھیج دیے گئے ایک توانا آواز خاموش کردی گئی کسی نے نہ کہا کہ’’ کوئی شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے ‘‘کیپٹن صفدر نے ضمانت منظور ہونے پر عدالت ہی میں سجدہ شکر ادا کیا۔ شہباز شریف کی نو دس ماہ بعد ضمانت ہوئی عدالت عالیہ نے کہا کیس میں کچھ نکلا ہی نہیں پاپڑ والا غائب تندور والا دکان بڑھا کر چلا گیا۔ نیب اور شہزاد اکبر تلاش میں مصروف، بشیر میمن کی طرح حوصلہ ہارنے والے نہیں، کرپشن فری پاکستان کا نعرہ لیکن کرپٹ سارے اپوزیشن لیڈر اپنے سارے ڈرائی کلین ہونے کے بعد رحمتہ اللہ علیہ کی کھونٹیوں پر لٹکے ہوئے ہیں۔ تین سال بعد غلطیوں کا اعتراف، کہا کئی لوگوں کو ٹکٹ دینے میں غلطیاں ہوئیں۔ کچھ لوگ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے اقتدار میں آتے ہیں۔ بیرون ملک پیسہ لے جانے والے سب سے بڑے غدار، ایسے لوگوں کو ٹکٹ دینے کے لیے کس نے کہا تھا ؟ مخاطب کون، اشارہ کس جانب؟ ایک اور اندرونی کہانی جہانگیر ترین، یار خاص فیصلوں میں شریک، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت بنانے میں اہم کردار لوگ اے ٹی ایم کہنے لگے تھے اربوں خرچ کردیے تو اربوں کمانے میں کیا مضائقہ، چینی میں 4 ارب کمانے کا الزام، انہوں نے الزام مسترد کر دیا۔ کہا ایف آئی اے کے دائرہ کار میں نہیں آتا، 40 ارکان اسمبلی ساتھ ہو گئے سات آٹھ ارکان کے کندھوں پر تو اقتدار کا سنگھاسن قائم ہے 40 میں سے 11 ارکان قومی اسمبلی باقی کا پنجاب اسمبلی سے تعلق، دونوں حکومتوں کے دھڑن تختے کا خطرہ، مذاکرات کے لیے کمیٹی بنا دی، ارکان اور جہانگیر ترین نے کمیٹی کے ساتھ ملنے سے انکار کر دیا ملنا ہے تو خود ملیں مجبوراً ملنے پر رضا مند ہوئے جہانگیر ترین اپنے ڈیرے پر براجمان رہے، ارکان اسمبلی راجہ ریاض کی قیادت میں پہنچ گیے، وہی اندرونی کہانی باہر نکل کر راجہ ریاض نے نعرہ لگایا میچ جیت گئے 70 فیصد مطالبات مان لیے، اندر سے جواب آیا وزارت عظمیٰ چھوڑ دوں گا۔ بلیک میل نہیں ہوں گا۔ علی ظفر معاملات دیکھیں گے، اللہ میاں خیر کرے گا کوئی قانونی گنجائش نکل آئے گی۔ ایف آئی اے میں سارے بشیر میمن نہیں ہوتے خوش قسمتی ہے کہ اپوزیشن میں پھوٹ پڑ گئی۔ اوپر والا مہربان، اوپر والے قدردان، پیپلز پارٹی اور اے این پی، پی ڈی ایم سے نکل بھاگیں مولانا آوازیں لگا رہے ہیں واپس آ جائو کچھ نہیں کہا جائے گا سب فضول، اے این پی نے واپسی سے انکار کر دیا پیپلز پارٹی نے کراچی کا الیکشن جیتا اور الزامات کی راہ پر چل پڑی۔ پی ڈی ایم اتحاد خواب پریشان حکومت کو سہولت ہی سہولت کیسز بنانے میں آسانی، آصف زرداری کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر لیکن فکر کی بات نہیں فلاں کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور، دبائو میں رکھنے کے لیے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ شاید ان ہی کامیابیوں پر اترا کر کہا ہمیں اپنی کارکردگی پر فخر ہے ،کاہے کا فخر؟ پہلے نوشہرہ پھر ڈسکہ اب کراچی تینوں انتخابات میں ہار مقدر، کراچی میں پی ٹی آئی کی سیٹ پر شکست، حکمران پارٹی پانچویں نمبر پر رہی۔ اندرونی کہانیوں کو چھوڑیں، اصل کہانی یہ ہے کہ عوام مہنگائی سے جاں بلب، تبدیلی کے نعروں سے ناخوش، قوم کو نہ گھبرانے کا مشورہ دینے والے مایوس، قوم گھبرا گئی ہے گھبرا رہی ہے ہر بار کلین بولڈ ہوتے رہے تو انجام گلستاں کیا ہو گا کیا کریں شاخوں پر بیٹھے ہوئوں کو کون سمجھائے ابھی بلوچستان کی اندرونی کہانی باقی ہے اپوزیشن سے جنگ جیت چکے لیکن اب اپنے آپ سے مقابلہ ہے مشکل صورتحال درپیش ہے کرونا کی صورتحال تشویشناک، اموات میں اضافہ، پورا ملک مکمل لاک ڈائون کی طرف بڑھ رہا ہے۔ رمضان المبارک کی عبادات، اعتکاف، عید کی خوشیاں، چاند رات کی رونقیں سب گھروں تک محدود، کرونا کی صورتحال تشویشناک، ایف آئی اے کے سابق ڈی جی کے جاتے سمے انکشافات شرمناک، انتقامی اقدامات پر گرفتاریاں افسوسناک اور کراچی کے ضمنی الیکشن میں حکمران پارٹی کی شکست خطرناک گھبرانے کی کس کی باری ہے؟ کارکردگی روزانہ اجلاسوں اور صرف اعلانات سے قابل فخر نہیں ہوتی کیسے ہوتی ہے ارد گرد پھیلے ماہرین کے مجمع سے پوچھ دیکھیں ایک ماہر سیاسیات نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں کہا تھا۔ ’’تو پھولوں پر چلنے والا اور یہ رستہ کانٹوں کا ۔ان رستوں پر چلنے والے پائوں کہاںسے لائے گا۔‘‘


ای پیپر