Khalid Minhas, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
03 May 2021 (11:38) 2021-05-03

اب آرام ہے(ہن آرام جے)۔ پاکستان کی پارلیمان نے ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کے نتیجہ میں پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی اور اس کے جواب میں ایک دوسری قرارداد یورپی پارلیمان میں پیش کی گئی جسے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم کوئی بھی کام پورے یقین کے ساتھ نہیں کرتے۔ دودھ میں کوئی دوسری چیز نہ ملائیں لیکن پانی ضرور ملاتے ہیں۔ فرانس کے سفیر کو ہم نے کیا نکالنا تھا یورپی یونین نے پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کر لیا ۔ اپنے وزیراعظم ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ یورپ کو کوئی نہیں جانتا ا ور میں اپنے طریقے سے توہین آمیز خاکوں کا مسئلہ حل کروں گا۔ کوئی انہیں بتائے کہ جناب جاگ جائیں ۔بنی گالہ کے محل میں رہنے والوذرا آنکھیں تو کھولو ، خواب خرگوش کے مزے لینے بند کرو اور دور حاضر کے مسائل کو حل کرنے کا جتن کرو۔ جی ایس پی پلس کا درجہ ختم ہونے جا رہا ہے ، پاکستان کو تجارت میں ملنے والی رعایتیں ختم ہونے جار ہی ہیں اور پاکستان کو وہ ملک قرار دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جہاں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ جہاں اقلیتوں کو مذہبی آزادیاں حاصل نہیں ہیں اور اسے ایک ایسا ملک قرار دیا جار ہا ہے کہ جہاں توہین مذہب کے قانون کو اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

برادر بزرگ افتخار چودھری کا پیغام موصول ہوا کہ عمران خان نے سچ کہا تھا کہ یورپ ہمارے خلاف متحد ہو جائے گا۔چوہدری صاحب کے ساتھ 

بھی لیلیٰ نظر آتا ہے او رمجنوں نظر آتی ہے والا معاملہ ہے ۔ ہر تان ہے دیپک کی طرح وہ بھی عمران خان سے عشق میں جان سے گزر جانا چاہیے والا معاملہ رکھتے ہیں۔چودھری صاحب کے لیے عرض ہے کہ عمران خان نے یہ راستہ تو خود یورپ کو دکھایا ہے۔ یورپ کو علم ہو گیا کہ پاکستان کی کمزوری کیا ہے اور انہوں نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا ہے۔ یہ درست ہے کہ اگلے برس تک جی ایس پی پلس والا درجہ ویسے ہی ختم ہو جائے گا تاہم یہ امید تھی کہ شاید نظرثانی میں پاکستان کو تجارت میں مزید رعایتیں مل جائیں مگر اب ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ یورپ جس طرح متحدہوا ہے اس کے بعد پاکستان کے پاس کیا آپشنز موجودہیں؟ہمارا دفتر خارجہ یہ کہہ رہا ہے کہ یورپ کے ساتھ بات چیت جاری ہے لیکن اس بات چیت کے نتیجہ میں ہم مزید کوئی رعایت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ منت ترلے کے بعد ہم موجودہ رعایتوں کو جاری رکھنے میں کامیاب ہو جائیں۔ہمارے وزیرخارجہ ملکوں کے باہمی تنازعات حل کرنے کے لیے سرگرداں ہیں مگر پاکستان کو درپیش مسائل ان سے اوجھل ہیں۔یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں پیش ہونے والی قرارداد کو رکوانے یا اپنے حق میں ووٹوں کی تعداد بڑھانے کے لیے انہوں نے کیا کیا ہے؟ ہمارے سفارت خانو ںکے پاس آپ نے کرنے کے لیے کچھ چھوڑا نہیں ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کر سکتے۔ پاکستان کی کمٹ منٹ کا اندازہ یورپ نے لگا لیا کہ آپ نے ٹی ایل پی کو دہشت گرد تنظیموں کی صف میں شامل کیا اور چوبیس 

گھنٹے کے اندر آپ نے شکست تسلیم کر لی ۔ ان سے معاہدہ کیا اور اس کے نتیجہ میں پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کر دی۔وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ میرا اور ٹی ایل پی کا مقصد ایک ہی ہے مگر ہمارا طریقہ کار مختلف ہے ۔ جناب وزیراعظم کیا بتا سکتے ہیں کہ یورپی یونین نے پاکستان کے حوالے سے جو قرارداد پیش کی ہے کیا پاکستان یورپ کے خلاف اس طرح کی کوئی قرارداد اسلامی ممالک کی تنظیم میں پیش کر کے پاس کرا سکتا ہے۔ کیا کوئی بھی دوسرا مسلمان ملک اس موقع پر پاکستان کی مدد کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار ہے۔ کیا اسلامی ممالک پاکستان کی خاطر یورپ سے اپنے تعلقات کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر یہ سب نہیں ہے تو پھر وہ کونسی سفارت کاری ہے جس کے لیے شاہ محمود قریشی ایک ملک سے دوسرے ملک جا رہے ہیں۔

پاکستان کی ٹیکسٹائیل کی برآمدات کا زیادہ حصہ یورپ کو جاتا ہے اگر یہ برآمدات روک دی گئیں اور پاکستان کو حاصل رعایتیں ختم کر دی گئیں تو کیا پوری صلاحیت پر چلنے والی پاکستان کی ٹیکسٹائل کی انڈسٹری ایک بار پھر نہیں بیٹھ جائے گی۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کے کھیلوں کے سامان کی فروخت پر چائلڈ لیبر کی آڑ میں پابندیاں عائد کر دی گئیں تھیں کیا اب ٹیکسٹائل کی باری ہے۔ ایک دن قبل ہی خوبرو وزیراعظم نے قوم کو خوش خبری دی تھی کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے اوپر جا رہے ہیں کہ یورپی یونین کی قرارداد سامنے آ گئی ہیں۔ اس کی آڑ میں اگر یورپ نے وہاں پر رہنے والے پاکستانیوں پر یہ پابندی عائد کر دی کہ وہ۔۔ انتہاپسندی کو فروغ دینے والے ملک پاکستان کو جمع پونجی ارسال نہیں کریں گے تو پھر کیا ہو گا؟ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا معاملہ چلنے والا نہیں ہے۔ دنیا اندھی نہیں ہے کہ آپ نے ایک طرف ٹی ایل پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور اس کا امیدوا ر ضمنی انتخابات میں کرین کے نشان پر الیکشن لڑ رہا تھا اور وہ پارٹی تیسرے نمبر پر رہی۔جوڑ توڑ کی صلاحیت اگر آپ میں ہے تو دنیا بھی آپ پر نظر رکھے ہوئے ہے اور حکومت کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کیا جاتا ہے۔یورپی یونین کی قراداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انتہاپسندی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ فرانس کے خلاف نفرت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ بالآخر فرانس کو اپنے شہریوں سے کہنا پڑا کہ وہ پاکستان سے چلے جائیں۔یورپی یونین کی اس قرار داد میں یہ کہا گیا کہ فوری طور پر پاکستان سے جی ایس پی پلس کا درجہ واپس لیا جائے۔ اس قرار داد میں شفت ایمونل اور شگفتہ کوثر کے مقدمہ کا بھی ذکر ہے جسے 2014میں ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے توہین مذہب کے مقدمہ میں سزائے موت سنائی گئی مگر اب تک ان کی اپیلو ں کی سماعت نہیں ہو سکی۔یعنی ایک اور آسیہ بی بی والا معاملہ سامنے آنے و الا ہے۔یورپ سے تجارت کرنا ہے تو ہمیں رعایتیں دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یورپ نے تجارت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہمارے خوبرو وزیراعظم کے بیانات کی وجہ سے ہوئی ہے۔پلے نئیں دھیلا تے کردی میلہ میلہ۔چلے ہیں اسلامی ممالک کی سربراہی کرنے اور کوئی ملک ان کی سننے کے لیے تیار نہیں۔کشمیر میں جو کچھ ہوا اس پر ہمارا ساتھ کس نے دیا ہاں اقوام متحدہ میں بغیر دیکھے تقریر کر دی۔خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں ایک فقرہ بہت مشہور ہوا تھا کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔جس کے پاس ایک یو سی چلانے کا تجربہ نہیں تھا اس سے ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ ملک چلائے گا۔

یہ درست ہے کہ ابھی یہ قراداد ہے اور اس پر عملدرآمد رکن ممالک کو یہ پابند نہیں کرتا کہ وہ فوری طور پر پاکستان کو دی جانے والی تجارتی رعایتیں ختم کریں لیکن جتنی بھاری اکثریت سے قرارداد پاس ہوئی ہے اس سے لگ یوں رہا ہے کہ یورپ پاکستان کے ساتھ اپنی مرضی اور شرائط پر آگے بڑھے گا۔طالبان کی حکومت یاد ہے جسے دنیا کے صرف دو ممالک تسلیم کرتے تھے ایک پاکستان اور دوسرا یو اے ای۔ کیا ہم بھی اسی طرف نہیں بڑھ رہے اور عالمی برادری میں تنہائی کا شکار نہیں ہو رہے۔ایک فرد کی غلطی صرف خاندان کو تباہ کرتی ہے اور حکمران کی غلطی قوم کا شیرازہ بکھیر دیتی ہے۔ کیا ہم صورتحال سے نکل آئیں گے اس سوال کا جوا ب بہت مشکل میں ہے۔ شاید جواب درست بھی ہو مگر دل ہے کہ مانتا نہیں ۔ منیر نیازی نے کیا خوب کہاتھا

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ


ای پیپر