Dr Ibrahim Mughal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
03 May 2021 (11:33) 2021-05-03

کراچی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مِنی پاکستان ہے۔ یعنی پورے پاکستان کے ہر علاقے کے لوگ یہاں پر آباد ہیں۔ این اے 249 کراچی کا وہ حلقہ ہے جہاں پر خصوصاً ہر بڑی زبان کے لوگ رہائش پذیر ہیں۔ یہ حلقہ کراچی کے جنوب میں واقع ہے اور بہت گنجان بھی ہے۔ مسلم آباد، مومن آباد، پٹھان کالونی، نواب کالونی، سلیمان خیل، بجلی نگر وغیرہ اہم آبادیاں ہیں۔ اگر کراچی مِنی پاکستان ہے تو یہ حلقہ مائیکرو پاکستان سمجھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہاں پر مہاجر (اردو بولنے والے)، پنجاب، پٹھان اور سندھی بھی کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

29 اپریل کو فیصل واوڈا کے استعفیٰ کے بعد خالی ہونے والی سیٹ پر بہت دلچسپ الیکشن ہوا۔ اگرچہ کورونا اور رمضان المبارک کی وجہ سے ٹرن آئوٹ صرف 21% رہا  لیکن اس کے باوجود یہ الیکشن آنے والے جنرل الیکشن کی وہ شکل دکھا گیا جو پنجاب اور KPK کے گزشتہ مہینے ہونے والے 

الیکشن بھی نہیں دکھاسکے۔ ڈسکہ میں مسلم لیگ (ن) اس وجہ سے جیتی کیونکہ یہ ان کی خاندانی سیٹ تھی۔ نوشہر میں مسلم لیگ (ن) کی جیت کی وجہ پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں اور خلفشار تھی۔ یہ وجوہات بہت حد تک درست بھی تھیں اسی وجہ سے پی ٹی آئی کے ووٹرز، سپورٹرز کو ان حلقوں میں ہونے والی شکست بآسانی ہضم بھی ہو گئی۔ گو کہ (ن) لیگی اس دوران اپنی فتوحات کے شادیانے بجاتے رہے لیکن پی ٹی آئی نے ان کی فتح کوگھاس بھی نہیں ڈالی۔ یوتھ اپنے لیڈر عمران خان کی قیادت پر ہمیشہ کی طرح مطمئن نظر آئی۔ لیکن مارچ 2021ء میں حالات تبدیل ہونا شرع ہوئے جب جہانگیر خان نے باقاعدہ ہم خیال گروپ تشکیل دے دیا اور اس گروپ کی باقاعدہ میٹنگ جہانگیر ترین کی لاہور والی رہائش گاہ پر ہوئی جس میں آٹھ ایم این ایز اور بیس کے لگ بھگ ایم پی ایز شریک ہوئے۔ لیکن عمران خان اور ان کی کابینہ نے اس بات کو خاص اہمیت نہ 

دی۔ اگرچہ سیاسی تجزیہ نگار بار بار اس جانب اشارہ کر رہے تھے لیکن شبلی فراز نے بیان دیا کہ ہماری حکومت کا بیانیہ ہی انصاف قائم کرنا ہے۔ اگر شہباز شریف کے خلاف انکوائری عین انصاف ہے تو ترین کے خلاف کیوں نہیں؟ بظاہر بات میں وزن بھی تھا لیکن ترین بار بار عدالت میں پیشیوں کے دوران کہتے رہے کہ میرے خلاف جو تین ایف آئی آر ہیں ان میں سے کسی میں بھی میرے اوپر چینی کی ذخیرہ اندوزی وغیرہ کا کوئی الزام سرے سے ہے ہی نہیں۔ اسی معاملے کے ساتھ ساتھ چند دن قبل جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن حکومت کو فرق پڑا ہو یا نہ ہو لیکن معاونِ خصوصی شہزاد اکبر کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

 الیکشن این اے 249سے محض دو روز قبل سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے وزیراعظم آفس کی طرف سے جسٹس فائز عیسیٰ، شہباز شریف وغیرہ کے خلاف کیس بنا کر فوری گرفتار کرنے کے احکامات کے انکشافات نے شہزاد اکبر کو بڑا دھچکا دیا۔ حالانکہ اس واقعہ سے صرف دو روز قبل راجہ ریاض ہمراہ ہم خیال گروپ وزیراعظم سے ملاقات میں شہزاد اکبر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرچکے تھے۔ خیر! شہزاد اکبر نے فوراً بشیر میمن کو پچاس کروڑ ہرجانہ کا نوٹس بھیج دیا یا 14 روز میں تحریری معافی۔ ان پے درپے حکومت پر ہونے والے حملوں کے فوراً بعد 29 اپریل کو کراچی کے حلقہ این اے 249 میں ہونے والے الیکشن نے حکومت کو عبرتناک شکست سے دوچار کردیا۔ فیصل واوڈا جو 2018ء میں ٹی وی ٹاک شوز میں فقط دو سے تین ہفتوں میں ملک بھر میں تبدیلی کادعویٰ کرتے تھے وہ دو سے تین سال میں اپنے حلقہ میں پانی جیسا بنیادی مسئلہ بھی حل نہ کرسکے۔ یہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی پانچویں نمبر پر ووٹ حاصل کرسکی۔ مزید ستم یہ کہ وہ پارٹیاں جن کے سربراہان کو چور ڈاکو کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، دونوں نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ پیپلز پارٹی کے عبدالقدر مندوخیل 16156 ووٹ لے کر پہلے اور (ن) لیگ کے مفتاح اسماعیل 15473 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ یقینا یہ رزلٹ کراچی شہر سے چودہ ایم این ایز بنانے والی پی ٹی آئی کے لیے بہت بڑا سیاسی دھچکاہے۔ 2018ء میں کراچی نے جس ولولہ کے ساتھ پی ٹی آئی کو خوش آمدید کہا تھا، شاید اسی شدت کے ساتھ پی ٹی آئی کو کراچی سے واپس بنی گالہ بھیجنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اس رزلٹ نے پی ٹی آئی کوواضح پیغام دیا ہے کہ اگر تبدیلی کا نعرہ صرف نعرہ ہی رہا تو 2023ء میں عوام پی ٹی آئی کی قسمت میں حقیقی تبدیلی لے آئے گی۔ یعنی پی ٹی آئی دوبارہ KPK کی حد تک محدود ہوجائے گی۔

ان تمام معاملات کے باوجود حکومت کے پاس ابھی دو سال باقی ہیں۔ اگر حکومت صرف اور صرف مہنگائی پر قابو پالے تو اپنے لیے مستقبل میں پارلیمنٹ میں مناسب جگہ بناسکتی ہے۔ حکومت کا امکان پھر بھی نظر نہیں آرہا۔ گزشتہ ہفتے ایک بہت اہم شخصیت کے گھر صحافیوں کی افطار پارٹی میں اس بات کا عندیہ بھی دے دیاگیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مستقبل میں نیوٹرل رہنے کو ترجیح دے گی۔ ابھی تک پی ٹی آئی کے ووٹرز میں تبدیلی نظر آئی ہے لیکن سپورٹرز پُرامید ہیں کہ حالات بہتر ہوجائیںگے۔ پچھلی حکومتوں کی کرپشن کی سزا یہ حکومت بھگت رہی ہے اور سپورٹر کسی بھی جماعت کا ہو اس کی خصوصیت پاکستان میں تو یہی ہے کہ ان کا لیڈر جو بھی کہے گا صحیح کہے گا، جو کرے گا درست کرے گا۔ وہ فیصلہ ملک بدری کا ہو، آئین میں تبدیلی کا ہو، کسی دوسری پارٹی سے اتحاد کا ہو، کسی کو وزیر مشیر بنانے کا ہو۔ غرضیکہ سپورٹر کا کام صرف سپورٹ کرنا ہے اور یہی سب سے بڑا نقص ہے جسے جمہوریت کے اندر آمریت کہا جاسکتا ہے۔ جب تک کارکن یا سپورٹر اپنے لیڈر پر اس کے فیصلے کے مطابق تعریف کے وقت تعریف اور غیرمناسب فیصلوں پر تنقید کرنا نہیں سیکھے گا یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا اور کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آسکے گی۔


ای پیپر