Sumera Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
03 May 2021 (11:30) 2021-05-03

 اس سال تاریخ میں پہلی دفعہ پنجاب کے سلطان ،وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کسان کارڈ کااجرا کرکے زراعت میں انقلاب برپا کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو 6ماہ کاوقت دیاتھا کہ وہ زرعی اصلاحات کا مشن مکمل کریں۔جس میں کسان کارڈ کااجرا بھی شامل تھا۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اس ٹاسک پر پورا اترے۔اس سے پہلے پاکستان میں 72 سال کے عرصے میں جتنی حکومتیں آئیں۔ وہ کسانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتی رہی ہیں۔ ماضی کے حکمران کسانوں کو جتنی سبسڈی دیتے رہے۔ اس کا ڈائریکٹ فائدہ کسانوں کے بجائے مڈل پرسن اٹھاتا رہا۔مثال کے طور پر انڈیا ،بنگلہ دیش اور چین میں زراعت کی صورتحال پاکستان سے بہتر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کا کسان ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔جس سے کرپشن کا امکان کم سے کم ہوتا ہے۔پاکستان میں زراعت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔68 فیصد لوگ براہِ راست زراعت سے وابستہ ہیں۔جو ملکی جی ڈی پی میں 16 فیصد اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود دالیں، کھانے کا تیل،گندم ،چینی ،کپاس بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔جس سے ملکی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔اگر ملکی زرمبادلہ بڑھانا ہے تو کسان کو مضبوط کرنا ہوگا۔

میں آپ کو بتاتی چلوں کسان کارڈ سے پہلے کسانوں کو زرعی قرضوں کے لیے ہر بار بینکوں اور پٹواریوں کے دفتر کے چکر کاٹنا پڑتے تھے۔یوریا کی بوری بغیر سبسڈی 1800 روپے میں اور ڈی اے پی 5500روپے کی مل رہی ہے۔مگر کسان کارڈ کے ذریعے کسانوں کو سبسڈی ڈائریکٹ ملے گی۔۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب کا کاشتکار کسان کارڈ سے کون کون سے اور کیا کیا فائدے اٹھا سکتا ہے۔سب سے پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ پنجاب کے 10 لاکھ کاشتکار کسان کارڈ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کے لئے بڑی سہولت ہے۔کسان کارڈ سے 17 ارب روپے کی ابتدائی سبسڈی حاصل کی جاسکتی ہے۔اس کے ذریعے کاشتکارقرض، بیج، کھادلینے کے قابل ہوگا۔یہی نہیں کارڈ کی بدولت کاشتکار آسانی سے زرعی قرضہ،بیج، کھاداور پیسٹی سائیڈ پر سبسڈی حاصل کر سکتا ہے۔جبکہ فصلوں کا بیمہ بھی ممکن ہو سکے گا۔

 وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی ہدایت پر محکمہ زراعت پنجاب نے صوبہ بھر میں 30 ہزار سروس شاپس قائم کی ہیں۔ جہاں کسان کارڈ استعمال کیا جا سکے گا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ خریف سیزن میں حکومت پاکستان کے اشتراک سے کسان کارڈ کے ذریعے 17 ارب روپے سبسڈی دی جا رہی ہے کاشتکار کو براہ راست سبسڈی کی ادائیگی کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وقت سے پہلے کسان کارڈکے اجرا کا پروگرام مکمل کر لیا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر کسان کارڈ پراجیکٹ لانچ ملتان میں اس لیے کیا کہ ماضی میں سب سے زیادہ استحصال کسانوں کا جنوبی پنجاب میں ہوا ہے اور اب ان کسانوں کی محرومی کا ازالہ سردار عثمان بزدار کریں گے۔

کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکار کو براہ راست سبسڈی کی ادائیگی کا مقصد اس منصوبے میں آسانی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ کاشتکار براہ راست سبسڈی لے کر بروقت خرید سکیں گے اور اپنی پیداوار اور منافع میں اضافہ بھی کر سکیں گے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے300 ارب روپے کے تاریخی زرعی ایمرجنسی پروگرام پر پنجاب میں تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ جس سے کھالوں کی اصلاح،ماڈل زرعی منڈیوں کا قیام، گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور تیل دار اجناس کا فروغ شامل ہے۔ حکومت پنجاب کاشتکاروں کو زرعی مشینری کی فراہمی پر سبسڈی دے رہی ہے۔ اسی طرح جدید ڈرپ اریگیشن پر 50 فیصد اور سولر سسٹم کی تنصیب پر 60 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے۔ پنجاب میں زرعی اصلاحات کو یقینی بنانے کے لئے ایگری کلچرل پالیسی لانچ کر دی گئی ہے۔ حکومت پنجاب جہاں کاشتکار کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے لئے کسان کارڈ لانچ کر رہی ہے وہاں اسے محکمہ ریونیو کی چیرہ دستیوں سے بچانے کے لئے پنجاب بھر میں 8 ہزار لینڈ ریکارڈ سنٹر قائم کر رہی ہے اور جنوبی پنجاب میں 3 ہزار سے زائد لینڈ ریکارڈ سنٹرپر ریونیو سنٹر میں قائم ہوں گے۔ کسان کارڈ کے اجرا پر صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی، سیکرٹری زراعت اور ان کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتی ہوں اور حبیب بینک، پی آئی ٹی بی اور پی ایل آر ایچ کی کاوشوں کو بھی سراہتی ہوں۔ جنہوں نے بہت اچھا کام کیا۔

کسان کارڈ ایک اچھا اقدام ہے اس طرح کسان کا بازو بننے کے لیے کسان کو بجلی کے بلوں میں رعایت دینا ہو گی۔ پاکستان کے کسانوں کا ڈیٹا کمپیوٹرائز کیا جائے تاکہ کسی ناگہانی صورتحال میں کسانوں کا ساتھ دے سکیں اس قسم کے کام کرنے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ہی عوام کے دل میں جگہ بنائیں گے۔ ہمیں بھارت سے سبق سیکھنا چاہیے کہ بھارتی کسانوں نے روڈ پر آ کر مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا جو پوری دنیا نے دیکھا۔۔ ایک وقت آئے گا پاکستان کا کسان خوشحال ہو گا اور ہم زراعت میں خودکفیل ہونگے۔۔۔


ای پیپر