Muhammad Awais Ghauri, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
03 May 2021 (11:25) 2021-05-03

آرکیڈیا جیسا شہرہ آفاق ڈرامہ لکھنے والے برطانوی دانشور ٹام سٹوپرڈنے اپنی ایک اور کتاب Jumpersمیں لکھا تھا ’’جمہوریت حق رائے دہی کو نہیں بلکہ گنتی کرنے کو کہا جاتا ہے ‘‘۔تبدیلی کے روح رواں عمران خان نے بھی کچھ ایسی ہی بات روسی آمر سٹالن سے منسوب کر کے کہی تھی ۔عمران خان نے اپنی سابقہ اہلیہ ریحام خان کو انٹرویو میں کہا ’’سٹالن نے جو روس کا ڈکٹیٹر تھا اس نے کہا تھا کہ یہ فرق نہیں پڑتا کہ ووٹ کون ڈال رہا ہے، کس کو ڈال رہا ہے، ووٹ گن کون رہا ہے ‘‘۔ اس کے ساتھ انہوں نے فرمایا تھا کہ ’’میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جب الیکشن رگ ہوتا ہے تو ووٹ لوگ کسی کو ڈالتے ہیں، جیت کوئی جاتا ہے ‘‘۔ 

سیاسی منظر نامے پر تبدیلیاں جاری ہیں لیکن غور کیا جائے تو وہی تبدیلیاں ہیں جو کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ محبان جمہوریت کی اکثریت بہت جلد بازی میں مبتلا نظر آتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ شاید ملک میں جمہوریت کا سفر رک سا گیا ہے، حقیقت میںشاید ایسا نہیں ہیں۔ جن اصحاب کا خیال ہے کہ وہ کسی روز صبح اٹھیں گے تو ملک میں جمہوریت کا دور دورہ ہو گا، تو شاید ایسا ابھی ممکن نہیں ۔آپ نے اگر لاہور سے وفاقی دارالحکومت جانا ہو تو بہت تیز رفتار ڈرائیور بھی چار گھنٹے سے پہلے کیا پہنچے گا۔ لیکن جمہوریت کے متوالوں کا خیال ہے کہ یہ سفر منٹوں میں طے ہو جانا چاہیے، وہ رکاوٹیں،اڑچنیں جو کئی دہائیوں کی ان تھک محنت کے بعد پاکستانی عوام کی ترقی کی راہ میں ڈالی گئیں، وہ ’’لقونے‘‘ جو شدید غفلتوں کی وجہ سے ہمارا نصیب ہوئے اتنی جلد حل ہونے والے تو ہیں نہیں۔

این اے 249 کراچی میں ابتدائی نتائج کے مطابق جیتنے والی مسلم لیگ(ن) کیسے ہار گئی، اکثر لوگ اس پر حیران و پریشان ہیں، خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید پیپلز پارٹی نے کوئی ڈیل کر لی ہے۔ قرین قیاس بھی یہی ہے کہ آصف زرداری شاید اگلی حکومت میں دوبارہ سب پر بھاری ہونے والے ہیں، لیکن کوئی یہ بتانے پر تیار نہیں کہ آخر اس جمہوری سفر کا اس کے علاوہ اور طریقہ ہے کیا ؟ اصحاب یہ بھی فرماتے ہیں کہ ترکی والا طریقہ ہونا چاہیے لیکن کیا وہ ماڈل پاکستان کیلئے بہتر ماڈل ہے؟۔

پاکستان میں اگر جمہوری عمل کو مضبوط کرنا ہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ ہر طرح سے یہ کوشش کی جائے کہ یہ عمل جاری رہے، نیتوں کے حال نہ جاننے کا اقرار کرتے ہوئے ہمیں پیپلز پارٹی کے طریقہ سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن درحقیقت یہ ایک بہترین طریقہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت جمہوریت کی بحالی کی کوشش کرنے والی دو جماعتیں الگ الگ طریقوں سے اس عمل کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ تو اب واضح ہو گیا ہے کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے کیلئے پر تول رہی ہے، پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ انہیں منتخب کیا جائے اور اگر مسلم لیگ(ن) ساتھ دیتی تو شاید اب تک ایسا ممکن بھی ہو جاتا۔

کئی ایسے مواقع آ چکے ہیں جب تحریک انصاف کی کمزور حکومت گھر جا سکتی تھی، پاکستان میں معاشی منظر نامہ جس طرح سے سامنے آیا ہے اس گرتی ہوئی دیوار کو دھکا دینا کچھ اتنا مشکل رہا بھی نہیں۔لیکن مسلم لیگ(ن) شاید اس کوشش ہے کہ یہ دیوار اگر ایک بار گرے تو پھر دوبارہ چنی نہ جا سکے، یہ حکومت جتنا زیادہ عوام کے سروں پر سوار رہے گی اتنا ہی پاکستانی عوام اس سے متنفر ہوتے جائیں گے، درحقیقت سوشل میڈیا پر حکومت کرنے والی اور سوشل میڈیا پر ہی ترقیاتی کام کرنے والی یہ حکومت اسی وقت کامیاب ہوتی سکتی تھی اگر این اے 249کے الیکشن بھی سوشل میڈیا پر بھی ہوتے ۔

بلدیہ کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی پوزیشن جس طرح سے سامنے آئی ہے، ڈسکہ میں جس طرح سے حکمران جماعت عوامی حمایت سے محروم ہوئی ہے اس سے معلوم ہو چکا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی حمایت نہ کی گئی تو اس کا کوئی کردار بھی پاکستانی سیاست میں نہ رہے گا ۔ حکمران جماعت کیونکہ یو ٹرن کو ایک رہنما اصول سمجھتی ہے اس لئے حکومت میں آنے سے پہلے عوام سے جو بھی وعدے کئے گئے کبھی ان کو نالائق ٹیم، کبھی اپنی ناتجربہ کاری کے کھاتے میں ڈالا گیا لیکن جس چیز نے سب سے بڑا نقصان پہنچایا وہ ایماندار اور عوامی سیاسی رہنمائوں کا فقدان تھا، فیصل وائوڈا کی پاکستانی سیاست میں موجودگی یہاں کے قانون و انصاف اور عوام کے ساتھ جذبات کے ساتھ کھلواڑ کی طرح ہے۔ان کی رعونیت، عوام سے لاتعلقی، حلقے سے بے پروائی تو ایک طرف رہی لیکن جس طرح انہوں نے اپنی دوہری شہریت کیس کو لیکر قانون کا مذاق بنایا اس نے پارٹی کی پوزیشن بہت کمزور کر دی، طرفہ تماشا یہ ہوا کہ انہوں نے قومی خزانے پر دوبارہ بوجھ ڈالا اور جب ان کی وزارت ختم ہونے کا وقت آگیا تو انہیں نے قومی اسمبلی کی نشست ہی خالی کر دی اور سینیٹر بنا دئیے گئے، عوام کو یہ سب نظر آتا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف مسلسل ناکامیوں کا منہ دیکھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2018کے عام انتخابات کے بعد اب تک جو نشستیں بھی کسی نہ کسی وجہ سے خالی ہوئیں اور ان پر دوبارہ انتخاب کرایا گیا وہاں پر تحریک انصاف کی پوزیشن بہت غیر مقبول جماعت کی رہی۔عمران خان نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی، دیگر کئی رہنمائوں نے ایک سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور جب دوبارہ ان نشستوں پر انتخاب ہوا تو حکمران جماعت یہ ساری نشستیں ہار گئیں، یہ واضح ہو گیا کہ یہ تمام نشستیں عوامی جذبات کے برعکس پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈالی گئیں یا بعد میں پی ٹی آئی کو اصل چہرہ دکھانا مقصود رہا، عمران خان نے میانوالی کے علاوہ باقی تمام نشستیں خالی کیں، اور ان کی چھوڑی ہوئی دو نشستوں پر پی ٹی آئی کو ناکامی ہوئی۔ این اے 131، این اے 35بنوں سے عمران خان کے نشست چھوڑنے کے بعد پی ٹی آئی ناکام ہوئی گئی۔

ملکی منظر نامے پر دوبارہ دھاندلی کا شور و غوغا ہے مگر مزے کی بات یہ ہے کہ اس شور میں تحریک انصاف بھی شامل ہیں جو حلقہ این اے 249میں جتنے والی پہلی تین جماعتوں میں بھی شامل نہیں، پیپلز پارٹی براستہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی منزل کی طرف گامزن ہے ۔ ان کے عزم مسلسل اور یقین محکم سے لگ تو یہ رہا ہے کہ وہ اقتدار کی راہدایوں میں نظر آنے والے ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی انتقام لینے کیلئے جمہوریت کو ہی بہترین سمجھتے ہیں ورنہ تو یہ انتقام دراصل پاکستانی عوام کے برے حالات کی شکل میں ہی سامنے آتا رہا ہے ۔


ای پیپر