2027میں دنیا تباہ ہونیوالی ہے
03 May 2019 (21:22) 2019-05-03

واشنگٹن: سائنسدانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 50کروڑ 70لاکھ کلومیٹر کے فا صلہ پر واقع ایک سیارچہ سال 2027 تک زمین سے ٹکرا سکتا ہے 300قطر کا آسٹرائیڈ نامی سیارچہ 14کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے نظام شمسی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم برائیڈن سٹرائن نے یونیورسٹی آف میری لینڈ میں چھٹی ڈیفنس کانفرنس پر کہا کہ یہ صورتحال کسی فلمی سین کا منظر نہیں ہے، دنیا بھر کے سائنسدانوں کو زمین کے دفاع اور تحفظ پر توجہ دینا ہوگی۔ یورپی خلائی ادارہ کے منیجر ڈیٹلت کوسچنی نے کہا خلامیں ایسے سیارچوں کی موجودگی حقیقت ہے 15فروری 2013کو بھی ایک ایسا ہی سیارچہ روسی علاقہ چلیا بنسک میں زمین سے 23کلو میٹر کی بلندی پر زور دار آواز کے ساتھ پاش پاش ہو گیا تھا جس سے ہزاروں عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں تھیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین کی طرف آنے والے ایسے کسی بھی سیارچہ کا رخ موڑنے کے لئے ڈیوائس تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نا سا کے حکام نے ریاست ایریزونا اور ہوائی میں واقع اپنے خلائی اداروں کی طاقتور دوربینوں کے ذریعہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ زمین کی طرف آنے والے سیارچہ آسٹرائیڈ کا پتہ چلایا ۔


ای پیپر