70سال کا سفر 7ماہ میں…!
03 May 2019 2019-05-03

یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ذرا کھُل کر بولنا ہی نہیںشروع کر دیا بلکہ پچھلے چھ سات ماہ میں کم بولنے یا نہ بولنے یا بوجوہ بول نہ سکنے کی کسریں بھی نکالنی شروع کر دی ہیں۔ملتان میں شجاع آباد روڈ پر نشتر ہسپتال کے سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ حکومت چھ ارب روپے کی لاگت سے اس کا پہلا مرحلہ مکمل کرے گی۔ رواں بجٹ میں اس کے لیے اڑھائی ارب روپے فوری طور پرمہیا کر دئیے گئے ہیں۔ جناب وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر اپنے خطاب میںصوبے کے میڈیکل کالجز میں سو نشستیں بڑھانے ،ڈیرہ غازی خان میں کارڈیالو جی انسٹیٹیوٹ قائم کرنے اور تونسہ شریف میں ڈیڑھ ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوںکے سنگِ بنیاد رکھنے کا جہاں اعلان کیا وہاں نے اُنہوںنے جنوبی پنجاب کی عوام کو یہ خوشخبری بھی سُنائی کہ جلد ہی ملتان میںجنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا کام شروع کر دے گا ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے جنوبی پنجاب کے مرکزی مقامات ملتان، ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف میںشروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوںکے یہ اعلانات اور ان میں سے بعض کے سنگِ بنیاد رکھنے کے اقدامات یقینا خوشکن ہیں ان کے ساتھ جنوبی پنجاب کے بعد دیگر شہروںاور قصبات کے لیے ترقیاتی منصوبوںکے اعلانات بھی حوصلہ افزا ہیں۔ ان سے وزیراعلیٰ کے صوبے کے معاملات و مسائل اور عوامی مطالبات سے آگاہی کا ہی پتہ نہیں چلتا ہے بلکہ اُنکے تحرک اور تیز رفتاری سے کام کرنے ولولے اور جذبے کا اظہار بھی ہوتا ہے تاہم اُنکے اس ارشاد کے 70سال کا سفر 7ماہ میںکر دِکھایا کی کچھ سمجھ نہیں آئی ۔یہ درست ہے کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب ذمہ داریاں سنبھالے جناب بزدار کو سات آٹھ ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن اس دوران جناب والا نے کونسا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ آپ یہ دعویٰ کر سکیں کہ 70برسوں کا سفر سات ماہ میں کر دِکھایا ۔ایک بڑا ہسپتال جو چھ سات دہائیاں قبل قائم ہوا تھا جو بقول آپ کے 1700بستروں کی گنجائش ہونے کے باوجود کئی گنا زیادہ مریضوں کی ضروریات پوری کرتا چلا آرہا ہے اُس کے فیز IIیا نشتر ہسپتال IIکا محض سنگِ بنیاد رکھنے پر اگر آپ یہ دعویٰ کرنے لگے ہیں کہ ستر برسوں یا 25550دنوںکا سفرسات ماہ یا 210دنوںمیںیا 121دنوںکا سفر ایک دن میں یا 24گھنٹوںکا سفر صرف11منٹوں میں طے کرنے کا ریکارڈ بنایا ہے تو اس دعوے کو کون سنجیدگی سے لے گا ۔جناب والا کوئی بڑا منصوبہ ، بجلی بنانے کا کوئی کارخانہ ، موٹروے یا کِسی شاہراہ کے کسی سیکشن کی تعمیرو کشادگی یا کوئی پُل ،کوئی چاہ،کوئی نہر ،کوئی ٹیوب ویل ،سڑکوں کی کوئی مرمت ،پورے صوبے میں کہیںبھی ،کسی شہر میں ،قصبے میں یا دیہات میں کچھ بھی کام مکمل ہوا ہو یا کوئی کام شروع ہوا ہو تو پھر بھی کوئی اعلان کرنے یا دعویٰ کرنے کا جواز ہو سکتا ہے ۔آٹھ ماہ کے عرصے میں صوبے کے تین آئی جی پولیس یا محتلف اضلاع کے آر پی او اور سی پی اوتبدیل کرنے سے 70برسوںکے سفر کو 7ماہ میں طے کرنے کے دعوے نہیں کیے جاسکتے ۔

ہماری خواہش ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اپنے عہدے پر قائم رہیں اور اپنے تحرک ،تیز رفتاری ،سامنے نظر آنے والی کارکردگی اور بہتر گورنس کا ثبوت مہیا کر سکیں تاہم اُنہیں ہم سے بڑھ کر علم ہو گا کہ کون کون سے حلقے اور کون کون سی شخصیات اُن کی حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔جناب جہانگیر ترین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی تائید اور حمایت انہیں حاصل ہے تو گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور بظاہر ان کی حمایت کے اعلان کرتے ہوئے بھی وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی کے ساتھ مل کر ان کے پتے کاٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ سردار عثمان بزدار کا بظاہر ’’کلہ‘‘مضبوط ہے کہ انہیں ’’حرم بنی گالہ‘‘کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہے لیکن یہ کب تک ؟ جناب عثمان بزدارکو جان لینا چاہیے اگر وہ پنجاب جیسے صوبے میں جہاں کوئی مانے یا نہ مانے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے تحرک ، بھاگ دوڑ اور ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل ،تعمیل اور تکمیل کے شاندار ریکارڈ قائم کر رکھے ہیں اپنی اعلیٰ کارکردگی کا رنگ جمانے میں (جو ابھی تک جما نہیں سکے ہیں)کامیاب نہیں ہوتے تو پھر انہیں کتنی بڑی کسی شخصیت کی حمایت اور سرپرستی کیوں نہ حاصل ہو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر ان کا قائم رہنا یقینا دشوار سے دشوار تر ہوتا جائے گا ۔

70برسوں کا سفر 7ماہ میں کرنے کی بات چلی تو پوچھا جا سکتا ہے کہ پانچ چھ سال قبل ملک میںبجلی کی پیداوار کی صورتحال کیا تھی۔ابھی رمضان کا مہینہ شروع ہونے والا ہے تو وفاقی وزیر بجلی و توانائی جناب عمر ایوب کا بیان آیا ہے کہ ملک میں زیرولوڈشیڈنگ ہے بجلی کی پیداوار کھپت سے زیادہ ہے صرف ان علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جہاں بجلی کی چوری اور واجبات ادا نہ کرنے کے مسائل ہیں ۔اس معروضی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے 2013کی گرمیوں اور رمضان کو یاد کرتے ہیں تو یاد پڑتا ہے کہ لودشیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کی چیخیں نکل رہی تھیں۔ ہر طرف بجلی کی پیداوار میں کمی اور پچھلے کئی عشروں میں بجلی کی پیداوار کے نئے منصوبوں پر کام نہ کرنے کا شور مچا رہتا تھا ۔ ان حالات میں مُسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک میں بجلی کی پیداوار کے نئے منصوبوں کی تشکیل ، تعمیل اور تکمیل کو اپنے ترقیاتی کاموں میں سرِ فہرست رکھا۔ میاں محمد نواز شریف اور اُن کی ٹیم جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اُنکے ہراول دستے کے سالار کے طور پر شامل تھے نے دن رات ایک کر کے بجلی کے منصوبوں کو مکمل کیا۔ پنجاب میں ساہیوال کول پاور پلانٹ ،حویلی بہادر شاہ گیس پاور پلانٹ،شیخوپورہ گیس پاور پلانٹ ،نندی پور پاور پلانٹ اور قائداعظم سولرپراجیکٹ سمیت بجلی کی پیداوار کے کتنے ہی منصوبے مکمل کیے گئے ۔ اس کے ساتھ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جو کئی عشروں سے زیر التوا یا سُست روی کا شکار تھا اُس کو بھی مکمل کیا گیا ۔2018کی گرمیوں میں مسلم لیگ ن کی حکومت اقتدار سے محروم ہوئی اور تحریک انصاف کوحادثاتی طور پراقتدار نصیب ہوا تو گیارہ ہزار میگا واٹ پیداواری صلاحیت رکھنے والے بجلی کے منصوبے اپنی پیداوار شروع کر چکے تھے جس کا نتیجہ جیسے اوپر کہا گیا ہے ملک میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی صورت میں سامنے آچکا ہے ۔مسلم لیگ ن بجلی کی پیداوار کے ان منصوبوں کی تکمیل پر اگر یہ دعویٰ کرے کہ ستر برسوں کا سفر پانچ برسوں میں مکمل کیا تو حق بجانب ہو سکتی ہے لیکن بزدار صاحب آپ کس برتے پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں ۔کچھ کر کے دِکھائیے ۔ کچھ منصوبے مکمل کیجئے ۔صوبے میں تعمیر و ترقی کے کچھ نقش اُجاگر کیجئے ۔لوگوں کی خدمت کی مثالیں قائم کیجئے اور گڈ گورنس کے سلسلے کو قائم کرنے میں کامیابی حاصل کیجئے تو پھر آپ اگلے برسوں میں کہیں یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ آپ نے بھی 70سالوں سے منزل کی تلاش میں سفر پر رواں دواں عوام کو منزل پر پہنچانے کے لیے اپنا کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا ہے ۔


ای پیپر