اپنے من میں ڈوب کر تلاش کر… اس کی جس نے یہ عزت پائی
03 May 2019 2019-05-03

موجودہ ملکی حالات، روزبروزبڑھتی مہنگائی اور بحیثیت قوم دنیا میں اپنی نا قدری جیسے کئی عوامل کے باعث دل بہت اداس تھا اسی کیفیت میں بوجھل قدموں کے ساتھ استاد جی کی طرف جانا ہوا تو وہ سادہ روٹی پرشکراوردیسی گھی ڈال کر کھا رہے تھے میں نے کہا استاد جی کیا بات ہے آج توموجیں ہو رہی ہیں۔استاد جی نے ایک نظر مجھے دیکھا اورسر جھکا لیا لیکن کچھ بولے نہیں۔ میں نے دوبارہ استاد جی کو پکارا انہوں نے سراٹھایا توان کی پلکوں کے نیچے نمی تیر رہی تھی۔ وہ بھاری آواز میں بولے ‘بچہ جی، ایک میرے رب کی ذات ہے جوعزت کے ساتھ روٹی دیتی ہے باقی تو بس رسوا ئی رسوائی ہیـ؛

میں نے حیرت سے پوچھا استاد جی روٹی تو سب کھاتے ہیں اس میں عزت ذلت والی کیا بات ہے؟ کہنے لگے عزت والا رزق حلال ہو جواللہ تعالی اپنے بندوں کو دیتا ہے اور اس کو کھانے والا اسے ذہنی سکون اورعزت سے کھاتا ہے‘ تو بس اس رزق کی تلاش کر ’۔ بچہ جی وہ بھی کوئی روٹی ہوئی جسے کھانے کے بدلے بندوں کا شکر ادا کرنا پڑے یا جیل جانے کا ڈر ہو یا پھرایروں غیروں کی خوش آمد درکار ہو۔

استاد جی کی بات سن کر ذہن میں ہزاروں سوال جنم لے رہے تھے کہ استاد جی نے ایک جھوٹی سی پرچی تھما دی جس پریہ تحریر تھا۔

’اسلام میں ہی عزت ہے‘

صحابہ رسول ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!

جو مسلمان اپنی نسبت و تعلق کافروں کے ساتھ جوڑے گا اور کفریہ اعمال میں عزت تلاش کرے گا قیامت میں اس کا حشر کافروں کے ساتھ ہو گا۔ طارق بن شہاب کہتے ہیں، ایک وفد خلیفہ المسلمین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بیت المقدس کی زیارت کے لیے روانہ ہوا،حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے جب ہم بیت المقدس کے قریب پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اونٹنی سے اترکر پیدل چلنے لگ گئے اوراپنے جوتے اتارکربغل میں لے لیے۔ خلیفۃ المسلمین کی بے نیازی کو دیکھ کر حضرت ابوعبیدہ نے عرض کیا امیرالمومین! بڑے بڑے یہودی ربی عیسائی پادری اورمسلم زعماء آپ کے استقبال کے لیے آ رہے ہیں آپ کی سادگی دیکھ کر وہ لوگ کیا سوچیں گے حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے ابوعبیدہ اگر یہ بات کوئی دوسرا کرتا تو میں اسے عبرت ناک سزا دیتا کیا تمیں معلوم نہیں ہم لوگ روئے زمین پر سب سے زیادہ ذلیل اور پست تھے اللہ نے اسلام کی برکت سے ہمیں عزت بخشی جب ہم غیراسلامی طور طریقوں اور عادات و اخلاق میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ تعالی ہمیں لوگوں کی نظروں میں ذلیل اور پست کر دیں گے(رواہ الحاکم فی المستد رک)

یہ پڑھ کر یوں لگا گویا کوئی تیر دل پرجا لگا ہے۔سب سے پہلے توخیال آیا کہ کیا جو روٹی کھا رہے ہیں وہ عزت والی ہے یا نہیں؟ پاکستان کے قیام سے اب تک کی صورتحال سامنے آگئی کہ کون سے حکمران تھے جنہوں نے ہمیں عزت کا نوالہ کھلایا یا اسلام پرعمل پیرا ہونے میں قوم کی عزت سمجھی ہو۔

خلاصہ یہی ہے کہ ہم نے جو بھی کام کیے وہ غیرمسلموں کی خوش آمد کے لیے کیے اوراس کے بدلے آج تک ذلت والی روٹی کھا رہے ہیں اتنا مکمل دین، قرآن جیسی آفاقی کتاب، حضرت محمدؐ کے امتی اورعالمگیر نظام حیات سے وابستہ ہونے کے باوجود ہم احساس کمتری میں مبتلا لوگ ہیں جوغیرملکی آقائوں کی خوش آمد میں اتنا مگن ہوگئے کہ اپنی عزت تک نیلام کردی۔ہم تو یہ بھی بھول گئے کہ عزت نام کس بلا کا ہے؟

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ لیکن 72سال سے اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کرنے کے بعد بھی ہم غیروں کے درپراپنی عزت تلاش کررہے ہیں اوردربدر کی ٹھوکریں ہمارا مقدرہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ ان کو خوش کرنے کے لیے ہم نے اپنے اللہ اوررسول کو کتنا ناراض کیا ہیَ؟ اپنے دینی احکامات سے کتنی روگردانی کی ہے؟ لال مسجد کا آپریشن ہو یا قبائلی علاقوں میں معصوم لوگوں کا قتل عام، ممتاز قادری کی پھانسی ہو یا آسیہ بی بی کی رہائی،نصاب سے جہاد اورختم نبوت کے مضامین نکالے جانے کا معاملہ ہو یا قرآن کی تعلیم دینے والوں پر سختی اور پابندی یہ وہ سب کام ہیں جو ہم باطل کو خوش کرنے کے لیے کر رہے ہیں اور اس کے بدلے بھیک لیتے ہیں لیکن یاد رکھیں بھیک منگوں کو پھرعزت نہیں ملتی ہے۔ وہ مدینہ کی ریاست جہاں تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کی کھلے عام اجازت ہو لیکن درس قرآن پرپابندی ہوتوپھراس پرصرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے؟

اس بات سے تو کسی کو اختلاف نہیں ہوگا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اوراس کے قیام کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ ملک جہاں مسلمان اپنے تشخص اوردین کے مطابق زندگی گزار سکیں تو اب کیا ہم اسلام کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں کیا واقعی ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟ کیا آج تک کسی حکمران نے اس کو حقیقی اسلامی ملک بنانے کے لیے کوشش کی ،فوجی آمر ہوں یا جمہوری پادشاہ سب نے غیر ملکی آقائوں کے ایما اورصرف پانچ فیصد سے بھی کم سیکولر پسند یا لبرل ازم کے حامی لوگوں کے مطابق نظام بنانے کی کوشش کی اوروہ تمام اقدامات اٹھائے جن سے ہمارا تشخص زیادہ سے زیادہ پامال ہوا۔اگر کسی جماعت کی کوشش سے کوئی اچھا کام ہو بھی گیا جیسے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا تو اب یہ اس کے بھی درپے ہیں۔تشویش ناک بات تو یہ ہے کہ فیشن ناچ گانابے حیائی تو ایک طرف رہ گئی یہ تو ہمارے دین کی بنیادوں کو ہی ہلانے کی کوشش کر رہے ہیں،ختم نبوت، جہاد، قربانی،ایثار، سودکے خلاف جنگ، یہ سب اسلام کے بنیادی اصول ہیں جن کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے نئی نسل کو ان سے بالکل بے بہرہ کیا جا رہا ہے۔ مگر کیا ایسا کرنے سے ہمارے حکمران وہ عزت کی روٹی حاصل کر پائے؟

وہ ایک لقمہ جسے ہم حلال کہہ سکیں کیا وہ ہے نصیب میں ؟

ارے وہ جس کے پیچھے ہم اللہ رسول کی ناراضی مول لے رہے ہیں اپنے دین کی شکل بگاڑ رہے ہیں وہ تو ایک منٹ نہیں لگاتے آپکی پتلون اتروانے میں ۔ تف ہے ایسی عزت پر۔

آخر میں بس یہی کہنا ہے کہ جب تک اپنے دین سے دوررہیں گے ذلت و خواری ہمارا مقدر رہے گی۔

دین کیا ہے ؟ حاکمیت اعلی ٰ ا للہ کی ذات ، عدل و انصاف ،ایمانداری ،اخوت ،حیا،رواداری ،مساوات اور سود سے پاک معیشت !

تو پھر اس کو اپنانے میں ڈر کس بات کا ہے ؟

اگر ہم نے دوبارہ اس دنیا میں سر اٹھا کر جینا ہے تو پھر اسی نظام کو اختیار کرنا ہو گا جو ہمارے نبی آخرالزمانؐ نے ہمارے لیے ترتیب دیا ہے۔


ای پیپر