اک طرف اُس کا گھر اک طرف میکدہ
03 May 2019 2019-05-03

تخت و تاج کی قدیم تاریخ میں ہمیں ایک ایسے نایاب پرندے کا ذکر ملتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اگر کسی کے سر کے اوپر سے گزر جاتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ شخص ایک نہ ایک دن بادشاہ بنے گا اور پھر جب وہ شخص واقعی بادشاہ بن جاتا تھا تو یہ مفروضہ ایک عقیدے کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔ دورِ حاضر میں یہ بات اب تک مضحکہ خیز سمجھی جاتی رہی کیونکہ جمہوریت میں ایسے کسی پرندے کا وجود نہیں جو کسی کو بادشاہ بنا دے مگر جب سے سردار عثمان بزدار پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں، پرانی روایات اور نظریات درست ثابت ہوتے جا رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ صدیوں پرانا وہ پرندہ اب بھی زندہ ہے اور کہیں نہ کہیں ایسی اڑان بھرتا ہے کہ جس کو بادشاہ بنانا مقصود ہو وہ اس کے سر کو اپنا ہدف بناتا ہے۔ حکمران تحریک انصاف میں وزراء اور عہدیداروں کی اعلیٰ منصب پر آمد و رفت جاری ہے پرانے وزراء گھر جا چکے ہیں ان کی جگہ نئے آ چکے ہیں مگر پنجاب کی حکمرانی کا حق ابھی تک عثمان بزدار سے چھینا نہیں جا سکا حالانکہ سب سے زیادہ تنقید وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پر ہوتی رہی ہے مگر وفاقی کابینہ میں تبدیلی سے پہلے یا بعد میں اب تک کوئی بھی عثمان بزدار کا بال بیکا نہیں کر سکا۔ ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ عثمان بزدار کا ستارہ ابھی اپنی جگہ پر ثابت نظر آتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب میں تبدیلی کی خبریں دم توڑ رہی ہیں۔

دوسری جانب نظر دوڑائیں تو لگتا ہے کہ اپوزیشن کیمپ کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ قطعاً نہیں بلکہ اس کے پیچھے بھی مقاصد کارفرما ہیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہباز شریف نے اپنے لندن میں قیام کا دورانیہ بڑھا دیا ہے اور ان کی جگہ پارٹی نے قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر تعینات کر دیا ہے۔ شہباز شریف کا بیٹا سلمان اور داماد علی عمران پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور نیب کو مطلوب ہیں۔ خواجہ آصف کی نامزدگی کے پیچھے بھی اسی لاپتا پرندے کا ہاتھ ہے جس نے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنوایا ہے۔ اسی اثناء میں سیالکوٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے تحریک انصاف نے سیالکوٹ سے اپنی ہاری ہوئی لیڈر فردوس عاشق اعوان کو مشیر اطلاعات مقرر کر دیا جو جمہوری یا صحت مند روایت نہیں ہے۔ اس پس منظر کے بعد اپوزیشن کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ توازن برابر رکھنے کے لیے پارلیمانی لیڈر کی سیٹ ایسے

بندے کو دے جو سیالکوٹ سے بھی ہو اور مشیر اطلاعات کو شکست دے چکا ہو لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ خواجہ آصف کے خلاف نیب میں مقدمہ زیر سماعت ہے جس کی بناء پر الزامات ثابت ہونے پر وہ نا اہل ہو سکتے ہیں پھر بھی انہیں اپوزیشن پارٹی کا اعلیٰ ترین منصب دے دیا ہے۔ (ن) لیگ سمجھتی ہے کہ اگر وہ نا اہل ہوتے رہیں گے تو عوام کو باور کرانا آسان ہو گا کہ (ن) لیگ کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید نے آج سے کئی ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ شہباز شریف نے حکومت کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ اس لیے بند کر رکھا ہے کہ وہ سمجھوتہ کے لیے گفت و شنید کر رہے ہیں ان کی بات کچھ کچھ درست نظر آتی ہے۔ شہباز شریف (ن) کے اہم ترین لیڈر ہیں اور ان کا اس طرح منظر سے غائب ہونا بہت سارے سوالوں کا جواب ہے لیکن یہ تو (ن) لیگ کا ایک Promo ہے اصل کہانی تو میاں نواز شریف کے گرد گھومتی ہے جو پارٹی کا مرکز و محور ہیں لیکن حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ وہ شہباز شریف سے زیادہ خاموش ہو چکے ہیں۔ ان کی ضمانت اور خاموشی دونوں کو ملا کر پڑھا جائے اور ان کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کا ذکر کیا جائے تو لگتا ہے کہ ان کی اگلی منزل بھی لندن ہے۔

وزیراعظم عمران خان ہر فورم پر NRO کی تردید کرتے نظر آتے ہیں یہ ایک عام فہم بات ہے کہ اگر گہرے بادل چھائے ہوئے ہوں اور موسمیات والے کہیں کہ بارش نہیں ہو گی تو شک کے ساتھ ان کی بات مانی جا سکتی ہے مگر جب موسمیات والے جہاں کھڑے ہو کر بارش کی تردید کر رہے ہوں اور اوپر سے بارش آجائے تو پھر کوئی کیا کر سکتا ہے۔ لگتا ہے کہ احتساب کا عمل پورا ہونے میں کافی مشکلات در پیش ہیں۔

ان مشکلات میں سیاسی اور معاشی دونوں قسم کی مشکلات حکمران جماعت کو گھیرے ہوئے ہیں۔ اسد عمر گھر چلے گئے مگر ان کے اقدامات سے عام آدمی کو جو نقصان پہنچا ہے، ابھی تو محض آغاز ہے۔ ملک میں افراطِ زراور مہنگائی نے کہرام مچا دیا ہے کہاں گئے ان کے حاضرین جو کہتے تھے کہ ایک دفعہ ہمیں موقع دیں اور پھر دیکھیں۔ ادویات اور خوراک کی قیمتوں میں سب سے زیادہ افزائش دیکھنے میں آئی ہے۔ جون کے بجٹ کے بعد صورت حال مزید خراب ہونا یقینی ہے۔ آج تک کوئی ایسا بجٹ نہیں آیا جس میں قیمتیں کم ہوئی ہوں۔

یکم مئی سے پہلے اوگرا نے پٹرول میں 14 روپے فی لٹر اضافے کی سمری وزیراعظم کو بھیجی جس کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ جب فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ 7 روپے بڑھانے ہیں تو اوگرا سے 14 روپے کی سفارش کروائی جاتی ہے اور عوام کو واضح کیا جاتا ہے کہ دیکھو ہم عوام کا کتنا درد رکھتے ہیں کہ ہم نے 14 روپے اضافہ منظور نہیں کیا بلکہ اسے آدھا کر دیا ہے۔ یہ شعبدہ بازی نہیں تو اور کیا ہے۔ اس دفعہ اوگرا کی سفارش نے انہیں مشکل میں ڈال دیا کیونکہ جس دن قیمت بڑھنا تھی وہ مزدوروں کا عالمی دن تھا سب نے کہنا تھا کہ دیکھو یوم مئی پر حکومت نے کیا تحفہ دیا ہے۔ دوسرا چند دن بعد رمضان شروع ہونے والا ہے لہٰذا اس increase کو رمضان المبارک کا تحفہ بھی سمجھا جانا تھا حکومت نے اضافہ عارضی طور پر روک لیا جو کسی بھی وقت نافذ ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔ حفیظ شیخ کو آئی ایم ایف اپنا بندہ سمجھتی ہے جبکہ وہ پاکستان کا مشیر خزانہ ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے وفاداری نبھاتا ہے یا پاکستان کے ساتھ۔ حفیظ شیخ کے لیے یہ نازک صورت حال ہے ’’ اک طرف اس کا گھر اک طرف میکدہ ‘‘ یہ سننے میں آرہا ہے کہ ایک ہزار ارب کے نئے ٹیکس لگانے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

حکومت کے لیے اچھی خبر یہ تھی کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارتیں تتر بتر ہو چکی تھیں اور بری طرح احتساب کے شکنجے میں جکڑی نظر آتی تھیں، اس لیے ان کے پاس موقع تھا اپنا ایجنڈا نامزد کرنے کا لیکن امر واقع یہ ہے کہ اس حکومت کو کسی اپوزیشن کی ضرورت نہیں رہی۔ پارٹی کے اندر اختلافات اتنے زیادہ ہیں کہ یہ خود ہی حزب اقتدار اور خود ہی حزب اختلاف ہیں پارٹی کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور نا اتفاقی انتہائی کو پہنچ چکی ہے۔ پارٹی کے اصل امور اس وقت اگر (ن) لیگ کے ساتھ خامو سمجھوتہ ہو گیا جو کہ نظر آ رہا ہے تو سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف جاری احتساب کا سلسلہ بھی متاثر ہو گا۔ یہ حکومت احتساب کے نام پر بر سر اقتدار آئی تھی اگر وہ اپنے وعدے پورے نہ کر پائے تو موجودہ حکومت کے لیے اپنی مدت پوری کرنا آسان نہیں رہے گا۔ عوام کے صبر کا پیمانہ دن بہ دن لبریز ہو رہا ہے۔ حکومت کے لیے اس وقت آسمان اور کھجور کے درمین والی منزل ہے اور اگر کھجور میں اٹکنے سے بچ بھی گئے تو بھی زندگی گلزار نہیں ہو گی۔


ای پیپر