وائس پرنسپل اور پیپسی
03 May 2019 2019-05-03

لاہور کے ایک کالج میں میری جوائننگ تھی۔ مجھے بتایا گیا۔ میں جوائن کرنے کی درخواست لکھوں۔ اور محترم وائس پرنسپل کی خدمت میں پیش ہو جاوں۔ میں نے درخواست لکھی اور وائس پرنسپل کی خدمت میں پیش ہو گیا۔ جناب وائس پرنسپل صاحب انتہائی تپاک اور محبت سے مجھے ملے۔ کھڑے ہو کر میرا استقبال کیا۔ کرسی آفر کی۔ نائب قاصد کو بلوا کر فوری طور پر ایک ٹھنڈی ٹھار بوتل لانے کا کہا۔ اور مجھ سے بہت محبت اور احترام سے باتیں کرنے لگے۔ میری فیملی کی خیریت دریافت کی۔ دفتر کے معاملات کا پوچھا۔ میرے کام کی زیادتی کے حوالے سے خود ہی میری تعریف بھی فرما دی۔ میں حیران، کونسا دفتر کونسا کام اور میٹھی میٹھی باتیں کرتے رہے۔ تب تک مجھے اندازہ ہو چکا تھا۔ محترم وائس پرنسپل صاحب میرے لیے جو تعریفی دال پکا رہے ہیں۔ اس دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ چناچہ تجسس کے مارے پوچھ لیا۔ سر ! لگتا ہے آپ کو میرے متعلق کوء غلط فہمی ہو رہی ہے۔ چونک کر کہنے لگے۔ تو کیا آپ ڈائریکٹر کالجز نہیں ہیں۔ جنہوں نے آج ہمارے کالج کا دورہ کرنا تھا۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ آپ کے منہ میں گھی شکر، وہ دن بھی آ ہی جائے گا۔ فی الحال تو میں ایک غریب اور نادار لیکچرار ہوں۔ اور کالج جوائن کرنے آیا ہوں۔ میری عرض سن کر ان کے منہ میں گھی شکر کیا آنا تھا۔ کڑواہٹ ضرور آ گئی۔ چہرے کے تمام نرم تاثرات گرم محسوسات میں تبدیل ہو گئے۔ میٹھی میٹھی باتیں یک لخت کڑوی کسیلی ہو گئیں۔ منہ ٹیڑھا کرکے بولے۔ درخواست جا کر کلرک کو جمع کروا دیں۔ اور کل تشریف لائیں۔ اس کے ساتھ ہی وہاں رکھی نو بیاہتا پیپسی کی تھنڈی بوتل جو ابھی تک کنواری تھی اور ہمارے ہونٹوں کے لمس کے انتظار میں تھی۔ ہمارے سامنے سے اٹھا کر ایک طرف رکھ دی۔ اور نائب قاصد کو بلا کر ڈانٹتے ہوئے کہا۔ ہر ایرے غیرے کے لیے بوتل نہ لے آیا کرو۔ نائب قاصد جو ہمیں جانتا تھا۔ اس نے مسکرا کر ایک نظر ہمیں دیکھا۔ ایک نگاہ ہمدردی کی محترم وائس پرنسپل صاحب پر ڈالی اور ہونٹوں میں کچھ بڑبڑاتا باہر نکل گیا۔ ہماری اچھی خاصی عزت افزائی ہو چکی تھی۔ ازالے کے طور پر یہ اطمینان بھی مل چکا تھا۔ اس جھکڑ بھرے کمرے میں کم از کم نائب قاصد تو ہمیں جانتا ہے۔ لیکن جس بات کا قلق اور دکھ آج تک ہے۔ وہ اس کنواری رہ جانے والی ٹھنڈی پیپسی کا ہے۔ اس دن گرمی بہت تھی۔ اور ہماری نظر جناب وائس پرنسپل صاحب کی بجائے اس پیپسی پر زیادہ تھی کہ ابھی اسے ہونٹوں سے لگائیں گے اور جگر کی گرمی مٹائیں گے۔ حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے۔ شاید وائس پرنسپل صاحب ہماری نگاہوں کے مرکز کو بھانپ چکے تھے۔ مرجھائے ہوئے قدموں سے پرنسپل آفس گئے۔ جو ہمارے پرانے دوست اور کولیگ تھے۔ انہیں جا کر ساری رام کتھا سنائی۔ وہاں بیٹھے دوسرے کولیگز اور پرنسپل صاحب ہنس ہنس کر دہرے ہو گئے۔ میرے لیے فوری طور پر دو پیپسی کی بوتلیں منگوائی گئیں۔ لیکن ہم نے تڑپ کر کہا۔ وہ جو پیار کا پہلا شہر ہم نے پہلی پیسی کے ساتھ بسایا تھا۔ وہ تو بسنے سے پہلے ہی اجڑ گیا۔ اب کوئی پیپسی کبھی دل کو نہیں بھائے گی۔ پرنسپل صاحب نے مسکرا کر تقریباً ڈانٹتے ہوے کہا۔ وہاں کیا لینے گئے تھے۔ سیدھے میرے پاس کیوں نہیں آئے۔ میں نے معصوم سا چہرا بنا کر کہا۔ میں قانون اور قائدے کی پیروی کر رہا تھا۔ ایک اور قہقہہاس دوران غالبا نائب قاصد نے وائس پرنسپل صاحب کو یہ بتا دیا تھا۔ جن صاحب کی آپ نے اپنی جنونی کیفیت میں اتنی عزت فرمائی ہے۔ ان کی سروس اگر آپ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہو گی۔ محکمے کی پرانی مڈھی ہیں۔ جنون کی کسی لمحاتی کیفیت میں انگلستان کے جنگلوں کی جانب نکل گئے۔ پھر وہیں کسی درخت کے نیچے دھونی لگا کر بیٹھ گئے۔ ہوش آئی تو واپس آ گئے ہیں۔ اپنے پرنسپل صاحب کے پرانے دوست ہیں۔ راوی بیان کرتا ہے۔ ہماری یہ دردناک داستان سن کر جناب وائس پرنسپل صاحب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ان کی جنونی کیفیت بھی ختم ہو چکی تھی۔ چنانچہ بھاگم بھاگ پرنسپل آفس تشریف لائے۔ مجھے گلے لگایا۔ انتہائی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ بس پپی لینے کی کسر رہ گئی۔ ہم نے گھبرا کر دوسری پیپسی ان کے ہونٹوں میں فٹ کر دی۔ جو وہ غٹا غٹ پی گئے اور پھر بیٹھ کر تا دیر مسکراتے رہے۔ پتہ نہیں یہ مسکراہٹ دو پیپسیوں کے پینے پر تھی۔ اپنی سادگی پر تھی۔ ہماری پپی نہ لینے پر تھی۔ راوی اس متعلق بھی خاموش ہے۔


ای پیپر