اپنی مرضی کیسی؟
03 May 2019 2019-05-03

ان دنوں سیاست کے کوچے میں بڑی گرما گرمی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔پی ٹی آئی جو اقتداری جماعت ہے کے چیئر مین عمران خان وزیر اعظم بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں ان کے اور بلاول بھٹو کے علاوہ بھی دونوں اطراف کے سیاسی راہنما بیاناتی آگ کے گولے برسا رہے ہیں۔ فریق اول یہ کہہ رہا ہے کہ حکومت نے غریب عوام کو زندہ در گور کر دیا ہے۔ مہنگائی اور ٹیکسوں نے اخیر کر دی ہے۔ انتظامی معاملات میں بھی وہ بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام ہے۔ فریق دوم کے مطابق آج جس صورت حال سے حکومت اور عوام دوچار ہیں اس کی ذمہ داری گزشتہ حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے ملکی دولت کو اپنی تجوریوں میں منتقل کرنے کے بعد بیرون ممالک بھیج دیا جس سے معاشی بحران نے جنم لیا اور اس کے اثرات سماجی سطح پر بھی مرتب ہونے لگے۔ جو ظاہر ہے کسی طور بھی کسی ریاست کی بقاء کے لیے موزوں و مناسب نہیں ہوتا کیونکہ جب سماج کے اندر بے چینی کی لہر ابھرتی ہے تو اس کی مخالف قوتیں طاقت پکڑتی ہیں اور اسے مٹانے کے منصوبے تیار کرنا شروع کر دیتی ہیں لہٰذا پچھلی حکومتوں کی وجہ سے ہی یہ مشکلات نظر آتی ہیں۔ مگر وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو بالکل تیار نہیں اور شور مچا یا جا رہا ہے کہ عمران خان نے عوام کا بھڑکس نکال دیا ۔ اس شور میں مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہے اس کی طرف سے محترمہ مریم اورنگ زیب بھی صدائے احتجاج بلند کر رہی ہیں۔ حمزہ شہباز بھی شکوہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر جو انداز بلاول بھٹو زرداری نے اختیارکیا ہے انہوں نے نہیں کیا اس کے پیچھے کوئی حکمت ہے یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ امور سیاست طے پا گئے ہوں کہ آئندہ سیاست کاری کے لیے ضروری ہے کہ صرف موجودگی ظاہر کی جائے گی اور اودھم نہیں مچایا جائے گا مگر پی پی پی کا رویہ مختلف ہے وہ پوری طاقت سے حکومت کو جلی کٹی سُنا رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ اسے ضرور کہیں کچھ خاص نظر آ گیا ہے لہٰذا اس نے سوچا ہو گا کہ بد نام تو ایسے بھی ہے ایسے ہی سہی مگر اس کا یہ موقف کہ پی ٹی آئی کو نرم خانے میں کیوں رکھا جا رہا ہے۔ بڑی حد تک درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ اکثریت ایسے لوگوں کی حکومت میں موجود ہے جو ماضی میں قومی خزانے کے پہریدار رہے اور آنکھ بچا کر اپنی جیبیں بھرتے رہے اور اب ان کا حساب کتاب ہونا لازمی ہے مگر وہ اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ چار دن کی چاندنی میں وہ بے شک کھیلیں کودیں مگر اندھیری راتیں بھی آنا ہیں ان میں وہ بے حد بے چین و بے قرار ہوں گے لہٰذا دانشمندی یہی ہے کہ وہ خود کو نئے پاکستان میں نیا نویلا بنانے کی تدبیر کریں مگر ایسا کرنا ان کی تربیت میں نہیں ہے۔ پھر انہیں معلوم ہو گا شاید کہ انہیں ہمیشہ اقتدار میں رہنا ہے یعنی چاندنی جہاں ہو گی وہاں پہنچ جائیں گے؟

بہر حال حکومت ہو یا حزب اختلاف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ عمران خان کو مگر تھوڑی سی رعایت دی جا سکتی ہے۔ کہ وہ ذاتی طور سے بد دیانت و لالچی نہیں مگر کیا کیا جائے کہ وہ کھوتے گھوڑے کی پہچان سے نا بلد ہیں اور اب تو ان سے متعلق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ روایتی ہونے کی راہ پر گامزن ہیں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ بد عنوانی کے حق میں ہو گئے ہیں ایسا نہیں مگر یہ تاثر ضرور ابھر رہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے پُر جوش نہیں البتہ ٹیکس اور چیزوں کے مہنگا کرنے میں ضرور ہیں۔ اگرچہ مقصد ان کا بحران سے نکلنا بتایا جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضہ کس برتے پر لے رہے ہیں جو ماہانہ گھریلو بجٹ پہلے تھا اب اس میں پچاس فیصد اضافہ ہو گیا ہے کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ اُدھر موبائل سروس کے چارجز اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ کانوں کو ہاتھ لگانا پڑتا ہے جو پیکج پانچ سو بیس میں ہوتا تھا اب ایک سو ستر مزید میں ہوتا ہے۔ یہ حکمران طبقہ جو عمران خان کے گرد براجمان ہے عوام کے ساتھ سختی سے پیش آ رہا ہے اور ستم یہ کہ اس کے ساتھ دیگر طبقات بھی لوگوں کو دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں۔ جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ قرضہ دینے والے اداروں کے ہاتھوں مجبور ہیں اگر آئی ایم ایف والوں کی ہی شرائط پر عمل در آمد کرنا ہے تو لوگوں سے وعدے کیوں کیے جاتے ہیں۔ جلسوں میں چیخ چیخ کر اعلانات خدمت کیوں کیے جاتے ہیں۔ لوگ اس لیے محنت مشقت کرتے ہیں کہ ان سے ان کی ساری کمائی چھین لی جائے اور آئی ایم ایف ایسے بے رحم مالیاتی اداروں کے حوالے کر دی جائے اور ان سے پہلے اشرافیہ بھی اپنا دامن بھر لے۔ یہ حکومت حقائق سے صرف نظر کا ارادہ رکھتی ہے تو پھر آگے اندھیرا ہے جبکہ ہم لکھنے والے اس کے آنے کو اجالا کہتے رہے کیونکہ عمران خان جس طرح سے عوام سے مخاطب ہوتے اس سے لگتا کہ وہ ان کے لیے بہت کچھ کرنے کی ٹھان چکے ہیں مگر انہوں نے تو آتے ہی انہیں لتاڑ نا شروع کر دیا وہ تنہائی میں سوچیں کہ ان بے بس، مجبور، محروم اور لاچار لوگوں میں سکت ہے کہ وہ گرانیوں کا عذاب سہہ سکیں؟

دو برس کے بعد کی جو خوشحالی لانے کی نوید سُنائی جا رہی ہے اس پر کون یقین کرے گا اور کرے بھی کیسے کہ اُسے تو چند ماہ میں ہر مسئلے سے جان چھڑانے کا کہا گیا تھا پھر کیوں ایسا نہیں ہو سکا۔ اصل میں حکمران طبقہ ایک سُراب ہے۔یہ کبھی بھی غریب عوام کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس نے طے کر رکھا ہے کہ وہ اپنے سوا عام آدمی کو ایوانوں میں داخل نہیں ہونے دے گا ریاستی ذرائع پیداوار پر وہ خود قابض رہے گا اور اس سے مستفید ہو گا یہ پکڑ دھکڑ بقول جاوید خیالوی محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا ہے۔ یہ سارے طاقتور آزاد ہوں گے آزاد پھریں گے تڑپنا غریب کو ہے اور اس وقت تک ، جب تک وہ خود آگے نہیں آتا اس طبقے سے اپنا رخ نہیں پھیرتا اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر نہیں کرنا۔ ویسے ووٹ متنازعہ نہیں ہو گیا کہ ہر ہارنے والا کہتا ہے اس کو ہروایا گیا ہے دھاندلی کی گئی ہے پھر جیتنے والا اپنے منشور پر عملی جامہ پہنانے میں بھی آزاد ہوتا ہے۔ کیا نہیں ہرگز نہیں یہاں حکم آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا چلتا ہے۔ لہٰذا جو سیٹ اپ اب تک سامنے آیا ہے اس سے یہ قیاس تقویت پاتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ عوام اور عوامی نمائندے کوئی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ انہیں کیا معلوم کہ معیشت کیا ہوتی ہے اور اسے کیسے چلایا جاتا ہے۔؟

سو بلاول بھٹو زرداری غریب عوام کے لیے بیانات تو دے سکتے ہیں عملاً کر کچھ نہیں سکتے عمران خان بھی اقتدار میں آنے سے پہلے یہی کچھ کہتے تھے مگر اب بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ جب قرض لیکر اقتصادیات کے پہیے کو رواں رکھنا ہے تو پھر اپنی مرضی کیسی اور آپس میں الجھنا کیسا؟


ای پیپر