2018 میں تقریباً 20 ہزار امریکی فوجی خواتین پر جنسی حملے ہوئے
03 مئی 2019 (20:58) 2019-05-03

واشنگٹن:امریکا کی بری، بحری، فضائیہ اور مرین فورسز میں سال 2018 کے دوران خواتین اہلکاروں کے ساتھ زبردستی ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنے کے 20 ہزار 500 واقعات پیش آنے پر قائم مقام سیکریٹری دفاع نے فوج میں جنسی ہراساں کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ برس امریکی مسلح افواج میں خاتون ساتھی کے ساتھ عدم رضامند پر مبنی جنسی تعلق قائم کرنے کے 20 ہزار 500 واقعات پیش آئے جبکہ سال 2016 میں ایسے واقعات کی تعداد 14 ہزار 900 ریکارڈ کی گئی تھی۔ 85 فیصد سے زائد واقعات میں متاثرہ فوجی خواتین کو اپنے حملہ آوار کے بارے میں معلوم تھا اور بیشتر حملہ آوار ان کے سینئر افسران تھے۔

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی مسلح افواج کا حصہ بننے والی 17 سے 24 برس کی خواتین ہلکار اپنے ہی ساتھی فوجیوں کے ہاتھوں جنسی ہراساں ہوئی۔سروے رپورٹ میں ایک تھائی جنسی ہراساں کے واقعات میں شراب نوشی بڑا سبب قرار دیا گیا۔ 95 فیصد اعتماد ہے تاہم سروے میں ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو شامل کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنسی ہراساں کے 3 واقعات میں سے صرف ایک ہی فوج کے متعلقہ حکام کے پاس رپورٹ ہوئے۔


ای پیپر