حکومت پٹرول پر کتنا ٹیکس لے رہی ہے
03 May 2019 (20:08) 2019-05-03

اسلام آباد:سینیٹ میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ پیٹرول پر36.34،ڈیزل پر 47.17،مٹی کے تیل پر19.66،لائٹ ڈیزل پر 14.12روپے فی لیٹر ٹیکس اور چارجز وصول کئے جارہے ہیں،دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرکیلئے گزشتہ حکومت نے رواں مالی سالکیلئے بجٹ میں 23ارب 68کروڑ روپے مختص کئے تھے،نیلم جہلم سرچارج 30 جون کے بعد ختم کر دیا جائے گا

 سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی اور وزیر توانائی عمر ایوب خان نے ارکان کے سوالوں کے جواب میں کیا۔سینیٹر مشتاق احمد کے سوال کے جواب میں وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے ایوان کو بتایا کہ 1951 میں پاکستان میں سالانہ فی کس پانی کی دستیابی 5260 کیوبک میٹر تھی جو کہ اب کم ہو کر سالانہ 908 کیوبک میٹر رہ گئی ہے اس کی وجہ آبادی کا بڑھتا جانا ہے ،اگر یہ ایسے ہی رہا تو پانی کے تخمینے میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں پانی کی دستیابی مزید کم ہو کر سالانہ 800 کیوبک میٹر رہ جائے گا۔

سینیٹر طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں اعظم خان سواتی نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران چار درمیانے اور بڑے ڈیموں کی تکمیل کے ذریعے نظام میں 4.5 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی ، حکومت دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیئے زمین حاصل کر رہی ہے اس ڈیم کی قابل استعمال سٹوریج کیسپیٹی 6.4 ملین ایکڑ فٹ فٹ ہو گی ،اب تک 85 فیصد زمین حاصل کی گئی ہے ،تعمیری کام کے آغاز کے لیئے 23680 ملین روپے پی ایس ڈی پی 2018-19 میں مختص کیئے گئے ہیں۔

سینیٹر مشتاق احمد کے سوال کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے ایوان کو بتایا کہ نیلم جہلم پراجیکٹ مکمل کر لیا ہے اور اس کے چاروں یونٹس کمرشل آپریشن میں ہیں ،نیلم جہلم سرچارج کی مد میں 64.8ارب روپے جمع ہوئے،نیلم جہلم سرچارج 30 جون کے بعد ختم کر دیا جائے گااور اسکے بعدبجلی کے بلوں کے ذریعے نیلم جہلم سرچارج وصول نہیں کیا جائے گا۔سینیٹر سسی پلیجو کے سوال کے جواب میں وزیر توانائی عمر ایوب خان نے ایوان کو بتایا کہ سمندرمیں آف شور ڈرلنگ جاری ہے۔ 4800میٹرڈرلنگ ہوچکی جبکہ 5ہزار ہوناباقی ہے۔


ای پیپر