باتیں کرکٹ ورلڈکپ کی !
03 May 2019 (17:58) 2019-05-03

ورلڈکپ 2015ءمیں کینگروز نے پانچویں بار ٹائٹل اپنے نام کیا

مدثرنذر

کرکٹ کا آٹھواں ورلڈکپ (2003ئ)

(گزشتہ سے پیوستہ) کرکٹ کا آٹھواں عالمی کپ 2003ءمیں 9مئی سے 23مارچ تک جنوبی افریقہ، زمبابوے اور کینیا میں منعقد ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار 14ٹیموں نے شرکت کی، جنہیں 7،7ٹیموں کے 2گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ دونوں گروپس سے پہلی ٹاپ تھری ٹیموں نے سپرسکس مرحلے کےلئے کوالیفائی کیا۔ اس میگاایونٹ میں اُس وقت کے مطابق کرکٹ ورلڈکپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ 54میچز کھیلے گئے۔ اس ٹورنامنٹ میں بہت سارے اپ سیٹ دیکھنے کو ملے، مثلاً پاکستان، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں گروپ سٹیج مرحلے سے ہی باہر ہوگئیں۔ زمبابوے اور کینیا جیسی کمزور ٹیموں نے سپرسکس مرحلے کےلئے کوالیفائی کرلیا، تاہم اگلے مرحلے میں قسمت ان کا ساتھ نہ دے سکی۔ آسٹریلین ٹیم نے اپنی کامیابی کا سفر جاری رکھا اور لگاتار دوسری بار جبکہ مجموعی طور پر تیسری بار کرکٹ ورلڈکپ جیت کر تاریخ میں اپنا نام جلی حروف میں لکھوایا۔ ٹورنامنٹ کا فائنل آسٹریلیا اور بھارت کے مابین جوہانسبرگ (جنوبی افریقہ) میں 23مارچ کو کھیلا گیا۔ بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50اوورز میں آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کے 140ناقابل شکست اننگز کی بدولت 359رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کردیا۔ جواب میں بھارت کی پوری ٹیم 39.2اوورز ہی کھیل پائی اور 234رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ یوں آسٹریلیا نے میگاایونٹ کا فائنل 125رنز سے جیت کر لگاتار دوسری بار جبکہ مجموعی طور پر تیسری بار ورلڈکپ ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر نے 673رنز بنائے اور مین آف دی سیریز کا ریکارڈ اپنے نام کیا جبکہ بولنگ میں سری لنکا کے فاسٹ بولر چمنداواس نے سب سے زیادہ 23وکٹیں حاصل کیں۔

کرکٹ کا نواں ورلڈکپ (2007ئ)

کرکٹ کا نواں عالمی کپ 2007ءمیں 13مارچ سے 28اپریل تک ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار 16ٹیموں نے شرکت کی، جنہیں 4،4ٹیموں کے 4گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ اس میگاایونٹ میں کُل 51میچز کھیلے گئے۔ اس ٹورنامنٹ میں بھی آسٹریلیا کی ٹیم چھائی رہی اور اپنے مقابل آنے والی ہر ٹیم کو شکست سے دوچار کرتی رہی۔ اس ٹورنامنٹ میں بھی اپ سیٹ دیکھنے کو ملے۔ بھارت کی ٹیم بنگلہ دیش اور پاکستان کی ٹیم آئرلینڈ جیسی کمزورترین ٹیموں سے گروپ سٹیج مقابلوں میں شکست کھاگئے اور دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے کےلئے کوالیفائی نہ کرسکیں۔ دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ 1999ئ، 2003ءاور 2007ءکے ورلڈکپ کے فائنل میچ میں آسٹریلیا کے مدمقابل تینوں بڑی ایشیائی ٹیموں پاکستان، بھارت اور سری لنکا کو باری باری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹورنامنٹ کا فائنل آسٹریلیا اور سری لنکا کے مابین کنسنگٹن (بارباڈوس، ویسٹ انڈیز) میں 28اپریل کو کھیلا گیا۔ آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، تاہم وقفے وقفے سے بارش کی وجہ سے اوورز کو کم کرنا پڑا۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 4وکٹوں کے نقصان پر 38اوورز میں آسٹریلوی بلے باز ایڈم گلکرسٹ کی 149رنز کی ناقابل شکست اننگز کی بدولت 281رنز کا بڑا ٹارگٹ کھڑاکردیا، لیکن مزید بارش کی وجہ سے 2اوور مزید کم کر کے سری لنکا کو 36اوورز میں 269کا ٹارگٹ ملا۔ جواب میں سری لنکا کی ٹیم 8وکٹوں کے نقصان پر صرف 215رنز ہی بناسکی۔ یوں آسٹریلیا نے مسلسل کرکٹ ورلڈکپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ آسٹریلیا نے میگاایونٹ کا فائنل 53رنز سے جیت کر لگاتار تیسری بار جبکہ مجموعی طور پر چوتھی بار ورلڈکپ ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز آسٹریلوی بلے باز میتھیو ہیڈن نے 659رنز بنائے جبکہ بولنگ میں آسٹریلیا ہی کے فاسٹ بولر گلین میگراتھ نے سب سے زیادہ 26وکٹیں حاصل کیں اور مین آف دی سیریز کا ایوارڈ جیتا۔

کرکٹ کا دسواں ورلڈکپ (2011ئ)

کرکٹ کا دسواں عالمی کپ 2011ءمیں 19فروری سے 2اپریل تک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں کھیلا گیا۔ ٹورنامنٹ کے 14میچز پاکستان میں ہونا تھے، مگر 2009ءمیں لاہور میں ہونے والے سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد یہ میچز پاکستان سے ملتوی کرکے بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں ان کا انعقاد کیا گیا۔ یاد رہے کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد جہاں پاکستان میں اب تک انٹرنیشنل کرکٹ منسوخ ہے کیونکہ کوئی بھی بڑی انٹرنیشنل ٹیم پاکستان میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کھیلنے کو تیار نہیں، وہیں اس کا براہ راست فائدہ بھارت اور بنگلہ دیش کو پہنچا۔ کیونکہ پاکستان میں کرکٹ کی جتنی بھی سیریز اور میگاایونٹس کے میچز منعقد ہونا تھے، وہ سب کے سب بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں ہوئے جس سے پاکستان کو مالی طور پر بھی نقصان پہنچا اور کرکٹ کو بھی۔ ورلڈکپ 2011ءکا سیمی فائنل میزبان بھارت اور پاکستان کے درمیان موہالی میں کھیلا گیا، جس طرح پاکستانی ٹیم نے جیتا ہوا میچ بھارت کو پلیٹ میں رکھ کر دیا، اس سے بھی پاکستانی عوام اور شائقینِ کرکٹ کو بہت مایوسی ہوئی۔

دسویں عالمی کپ میں کُل 14ٹیموں نے شرکت کی، جنہیں7، 7ٹیموں کے 2گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ اس میگاایونٹ میں کُل 49میچز کھیلے گئے۔ دسویں عالمی ٹورنامنٹ کا فائنل بھارت اور سری لنکا کے مابین ممبئی(بھارت) میں 2اپریل کو کھیلا گیا۔ سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ50 اوورز میں 6وکٹوں کے نقصان پر 274رنز بنائے۔ جواب میں بھارت کی ٹیم نے 4وکٹوں کے نقصان پر 48.2اوورز میں ہدف پورا کرلیا اور دوسری بار کرکٹ ورلڈکپ اپنے نام کیا۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز سری لنکن بلے باز تلک رتنے دلشان نے 500رنز بنائے جبکہ بولنگ میں پاکستان کے شاہد آفریدی اور بھارت کے ظہیرخان نے 21، 21وکٹیں حاصل کیں۔ مین آف دی سیریز کا ایوارڈ بھارتی آل راﺅنڈر یووراج سنگھ کو ملا۔

کرکٹ کا گیارہواں ورلڈکپ (2015ئ)

گیارہویں ورلڈکپ کی میزبانی 14فروری سے 29 مارچ 2015ءتک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے مشترکہ طور پر کی۔ اس میں کُل 14 ٹیموں نے شرکت کی۔ گیارہویں ورلڈکپ کے 14 میدانوں پر کُل 49 میچز کھیلے گئے۔ آسٹریلیا کے میدانوں پر 26 میچ ایڈیلیڈ، برسبین، کینبرا، ہوبارٹ، ملبورن، پرتھ اور سڈنی جبکہ نیوزی لینڈ میں 23 میچ آکلینڈ، کرائسٹ چرچ، ڈونیڈن، ہملٹن، نیپئر، نیلسن اور ویلنگٹن میں کھیلے گئے۔ فائنل مقابلہ ملبورن کرکٹ گراو¿نڈ پر کھیلا گیا۔ حیرت انگیز طور پر دونوں میزبان ٹیمیں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہی فائنل میں پہنچیں۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی ورلڈکپ کے فائنل میں یہ پہلی رسائی تھی تاہم آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں سے ہرا کر پانچویں بار کرکٹ ورلڈکپ اپنے نام کیا۔ فائنل میچ کو 93ہزار 13افراد نے سٹیڈیم میں بیٹھ کر جبکہ ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ ارب انسانوں نے لائیوٹیلی ویژن پر دیکھا۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو عالمی کپ کی میزبانی دوسری بار ملی، اس سے پہلے دونوں ممالک کو کرکٹ عالمی کپ 1992ءکی میزبانی ملی تھی۔ سچن ٹنڈولکر کو آئی سی سی نے اس بار پھر عالمی کپ کا سفیر نامزد کیا، اس سے پہلے 2011ءکے عالمی کپ میں بھی وہی سفیر تھے۔ عالمی کپ 2015ءکا ایک اہم مقابلہ 15فروری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان میں کھیلا گیا، اس میچ کے ٹکٹ صرف 12 منٹ میں فروخت ہو گئے تھے۔

ورلڈکپ 2015ءکا پہلا سیمی فائنل جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا، جس میں کیوی ٹیم نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پروٹیز کو صرف 4رنز سے شکست دی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ دونوں ٹیمیں ہی پہلی بار فائنل میں رسائی کیلئے نبردآزمارہیں تاہم قسمت نے کیوی ٹیم کا ساتھ دیا اور وہ فائنل میں پہنچی۔ پہلے سیمی فائنل میں بارش کے باعث میچ کو محدود کرکے 43اوورز تک کردیا گیا ۔ جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 43اوورز میں 5وکٹوں کے نقصان پر 281رنز بنائے۔ فاف ڈوپلیسی 82اور اے بی ڈی ویلیئرز 65رنز بناکر نمایاں رہے۔ نیوزی لینڈ کو 43اوورز میں 298رنز کا ہدف ملا جسے اس نے 42.5اوورز میں 6وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔ کیوی بلے باز گرانٹ ایلیٹ نے84، برینڈن میکولم نے 59 اور کورے اینڈرسن نے 58رنز کی اننگز کھیلی۔گرانٹ ایلیٹ کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

دوسرا سیمی فائنل آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا جس میں میزبان کیوی ٹیم نے بھارتی سورماﺅں کو 95رنز سے عبرتناک شکست دی۔ آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مقررہ 50اوورز میں 7وکٹوں کے نقصان پر 328رنز بنائے۔ سٹیون سمتھ نے 105، ایرون فنچ نے 81رنز کی شاندار اننگز کھیلیں۔ بھارتی بولر عمیش یادیو نے 4وکٹیں لیں۔ 329رنزکے ہدف کے تعاقب میں بھارتی سورما 46.5اوورز ہی کھیل پائے اور پوری ٹیم 233رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ بھارتی بلے باز ویرات کوہلی صرف 1سکور ہی بناکر پویلین لوٹ گئے۔ مہندرسنگھ دھونی نے 65، شیکھردھون 45، اجنکیارہانے 44رنز ہی بناسکے۔ یوں آسٹریلیا نے دوسرا سیمی فائنل 95رنز سے جیت کر فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔

گیارہویں ورلڈکپ کے فائنل میچ میں آسٹریلیا کے خلاف نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا جو درست ثابت نہ ہوا اور پوری کیوی ٹیم 45اوورز ہی کھیل پائی اور 183رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے گرانٹ ایلیٹ نے سب سے زیادہ 83 اور روزٹیلر نے 40رنز کی اننگز کھیلی۔ مارٹن گپٹل، برینڈن میکولم، کین ولیمسن، کورے اینڈرسن، لیوک رونکی جیسے مایہ ناز بلے باز فائنل میں بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ آسٹریلوی بولر مچل جانسن اور جیمز فالکنر نے 3، 3وکٹیں جبکہ مچل سٹارک نے 2اور گلین میکسویل نے ایک وکٹ لی۔184رنز کا آسان ہدف آسٹریلیا نے 3وکٹوں کے نقصان پر 33.1اوورز میں پورا کرلیا اور پانچویں بار ٹرافی اپنے نام کی۔ آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک نے 74رنز، سٹیون سمتھ 56 اور ڈیوڈوارنر 45رنز بناکر نمایاں رہے۔ا یرون فنچ فائنل میں صفر پر آﺅٹ ہوئے۔ جیمز فالکنر کو 9اوورز کرواکر36رنز کے عوض 3وکٹیں لینے پر مین آف دی میچ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

گیارہویں ورلڈکپ میں مین آف دی سیریز کا ایوارڈ آسٹریلوی بولر مچل سٹارک کو دیا گیا جنہوں نے میگاایونٹ میں 8میچز کھیل کر کُل 22وکٹیں حاصل کیں۔ کیوی بولر ٹرینٹ بولٹ نے بھی میگاایونٹ میں 9میچز کھیل کر22وکٹیں حاصل کیں۔ بلے بازوں میں سب سے زیادہ رنز نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل نے 9میچز کھیل کر 547رنز بنائے۔ اس میں گپٹل کی 2سنچریاں اور ایک نصف سنچری شامل تھی۔ مارٹن گپٹل نے ہی ورلڈکپ تاریخ کی سب سے بڑی اننگز 237رنز کی ویسٹ انڈیز کے خلاف اسی ورلڈکپ میں کھیلی۔ سری لنکن بلے باز کمارسنگاکارا نے 7میچز 541رنز بنائے اور دوسرے نمبر پر رہے۔ کمارسنگاکارا نے ورلڈکپ 2015ءمیں کُل 4سنچریاں اور 2نصف سنچریاں سکور کیں۔ جنوبی افریقن بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز 8میچز کھیل کر 482رنز بناکر تیسرے نمبر پر رہے، ڈی ویلیئرز نے میگاایونٹ میں 2سنچریاں اور ایک نصف سنچری سکور کی تھی۔زمبابوے کے بلے باز برینڈن ٹیلر بھی میگاایونٹ میں پیچھے نہ رہے اور صرف 6میچز کھیل کر 2سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 433رنز بنا کر چوتھے نمبر پررہے۔ بھارتی بلے باز شیکھردھون 8میچوں میں 412رنز بناکرپانچویں نمبر پررہے۔

٭٭٭


ای پیپر