غربت سے نکلنے کا حکومتی عزم ۔۔۔مگر ممکن کیسے ؟
03 May 2019 (17:32) 2019-05-03

اقتصادی بحران سے چھٹکارہ پانے کیلئے اب باتوں سے بڑھ کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے

حافظ طارق عزیز

کہا جاتا ہے کہ کامیابی قدموں کے نشان چھوڑ جاتی ہے اور جو بھی ان پر چلنا شروع کر دے وہ بھی کامیاب ہو جاتا ہے بشرطیکہ پیروی کرنے والے کی نیت میں خلوص، عزائم میں بلندی اور عمل میں تسلسل ہو۔ اس بات کا اطلاق جیسے ایک فرد پر ہوتا ہے ویسے ہی کسی قوم پر بھی ہو سکتا ہے۔ دنیا میں کتنی ایسی اقوام کی مثالیں ہیں جو کسی دوسری ترقی یافتہ قوم کے ماڈل کو فالو کر کے اقتصادی خوشحالی اور خود کفالت کی منازل طے کر چکی ہیں۔ آج کل پاکستان میں تبدیلی کی باتیں ہر خاص و عام کی زبان پر ہیں اور حکومت بھی ملکی معیشت کو Status quo سے نکلنے لئے کاوشوں میں مشغول ہے۔ ان حالات میں اگر حکومت معاشی سدھار کے لئے چینی ماڈل پر بھروسہ کر لے تو عین ممکن ہے کہ ہم اقتصادی بحران کے بھنور سر باہر نکل آئیں۔ آج کے مضمون میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا واقعی چین پاکستان کو غربت سے نکالنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے؟

25 تا 27 اپریل کو چین کے شہر بیجنگ میں ”بیلٹ اینڈ روڈ فورم2“ کا انعقاد ہوا جس میں ایشیا، افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکاکے سربراہان نے شرکت کی۔ اس سے پہلے یہ فورم 2 سال پہلے 14 اور 15مئی 2017ءکو منعقد ہوا تھا، جس میں دنیا کے 29 ملکوں کے سربراہانِ مملکت اور حکومت، 130ممالک کے نمائندوں اور 70 بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ اس فورم کا پس منظر یہ ہے کہ چین دنیا کو اس بات پر متفق کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ انہیں ”اپنی سرحدیں تجارت کے لیے کھولنا ہوں گی“ ورنہ غریب ممالک غریب ہی رہیں گے۔ چین اس حوالے سے کامیاب بھی ہو رہا ہے کیونکہ حالیہ فورم کا انعقاد پہلے سے زیادہ کامیاب ہوا۔ اس فورم میں ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اور روس کے صدر ولادی میر پوتن سمیت 37 سربراہان جب کہ دنیا کے 122 ممالک اور 49 عالمی تنظیمیں بھی اس اہم فورم کا حصہ تھیں۔

اس فورم کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ابتدائی خطاب کرنے کا اعزاز ملا۔ اُنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید دنیا میں چین نے جو ترقی کی ہے، وہ مثالی ہے۔ چین نے ایک ارب انسانوں کو غربت سے نکالا ہے۔ ہمیں چین سے سبق حاصل کرنا ہو گا اور پاکستان کو بھی انہی اصولوں کے تحت غربت سے نکالا جانا چاہیے۔ جبکہ اس سے قبل بھی عمران خان یہی کہہ چکے ہیں کہ ہمیں غربت ختم کرنے کے لیے” چینی ماڈل“ سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔ اسی اثنا میں انہوں نے غربت مٹاﺅ پروگرام ”احساس“ بھی شروع کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ چین ہمیں غربت سے کیسے نکال سکتا ہے؟ یقینا یہ سوال اپنی جگہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ پاکستان اور چین کے گہرے تعلقات پر شائع ہونے والی اینڈریو اسمال کی معرکہ آرا کتابThe China-Pakistan Axis: Asia's New Geopolitics کا مطالعہ کرنے سے صحیح معنوں میں یہ ادراک ہوتا ہے کہ چین نے کیسے کیسے اور کس کس مقام پر پاکستان کی دستگیری کی ہے۔ یہ کتاب مگر ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اگر چین کے پاکستان پر بہت سے احسانات ہیں تو پاکستان بھی اپنی حدود و قیود میں رہ کر چین پر کئی احسانات کر چکا ہے۔ معاشی اعتبار سے چین زبردست طاقت بن چکا ہے۔ چنانچہ یہ مبالغہ نہیں ہے کہ امریکا بھی چین کی اس اقتصادی قوت کے سامنے سرنگوں بھی ہے اور اس سے خائف بھی۔ چین کے خزانے میں زرمبادلہ کے 4.2 ٹریلین ڈالر کے ذخائر پڑے ہیں۔ چین چاہتا ہے کہ پاکستان بھی اس کے نقوشِ قدم پر چلتے ہوئے عزت و ثروت کا یہ عالمی مقام حاصل کرے اور اس کی معیشت سے استفادہ کرے لیکن ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکمران قرضے پر چلنے والی ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بار بار آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اے ڈی بی کی طرف بھاگتے ہیں۔ مذکورہ تینوں مالیاتی ادارے بنیادی طور پر یہ چاہتے ہی نہیں کہ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک اپنے پاو¿ں پر کھڑے ہوں۔

مگر پاکستان اپنے ہمسایہ ملک کی معاونت سے جہاں غربت ختم کرنے کا ایک ادارہ بھی موجود ہے جس کی کامیابی کا تناسب یہ ہے کہ اُس نے حقیقت میں ملک سے غربت ختم کرنے کے ایسے ایسے پروگرام شروع کر رکھے ہیں کہ عوام چاہ کر بھی اُن سے ناطہ نہیں توڑ سکتی۔ اس حوالے سے عمران خان وہ واحد پاکستانی حکمران ہیں جو چین سے باقاعدہ درخواست کر چکے ہیں کہ چین پاکستان کی غربت ختم کرنے میں معاونت فراہم کرے ورنہ تو ہمارے سابق سیاستدان پہلی اور دوسری میٹنگ ہی میں اپنی ذاتی سفارشات لے کر پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں یہاں کوئی مل یا فیکٹری لگانے کی اجازت دی جائے وغیرہ وغیرہ بہرکیف چینی ماڈل کے مطابق پہلا نکتہ یہ ہے کہ غربت اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک حکومت اسے ختم نہ کرنا چاہے۔ لہٰذا سیاسی عزم غربت کے خاتمے کی طرف پہلا قدم ہے، اگر یہ نہیں ہو گا تو کچھ بھی نہیں ہو پائے گا اور غربت کے خاتمے لیے سیاسی اتفاقِ رائے پیدا ہو جائے تو پھر اس راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ دور ہو جائے گی۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غربت کے خاتمے کا آغاز منتخب دیہات سے کیا جائے۔ دیہی آبادی زراعت سے جڑی ہوتی ہے اور ان کے حالات میں آنے والی بہتری کا پہلا نتیجہ زرعی پیداوار کے اضافے کی صورت میں نکلتا ہے، جس کا فائدہ براہ راست ملکی معیشت کو پہنچتا ہے۔ چین نے اپنے ہاں غربت کے خاتمے کے لیے بیک وقت پورے ملک میں پروگرام شروع کرنے کی بجائے دس فیصد یا بیس فیصد دیہات کو منتخب کر کے کام شروع کیا۔ تیسرا نکتہ ہے کہ غریب علاقوں اور امیر علاقوں کے درمیان شراکت داری قائم کی جائے۔ اس کی مثال یوں لے لیجیے کہ کراچی شہر کے ذمے لگایا جائے کہ وہ ٹھٹھہ کے غریب علاقوں کے لیے کام کرے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر سے رضا کاروں کو تیار کیا جائے کہ وہ اپنے پڑوسی ضلعے کے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔ اسی طرح کسی ضلعے یا ڈویژن میں علاقے مختص کر کے کسی خوشحال علاقے کے ساتھ منسلک کر دیے جائیں۔

چوتھا نکتہ یہ ہے کہ امیر علاقوں میں کام کرنے والے افسروں کو غربت زدہ علاقوں میں بھیجا جائے تاکہ وہ یہاں کے ماحول کو بھی اپنے پسندیدہ معیار تک لانے کی کوشش کریں۔ چین کے تجربے کے برعکس پاکستانی تصور یہ ہے کہ اچھے سرکاری ملازم کو اس کی من پسند جگہ پر پوسٹنگ دی جائے۔ اب ذرا تصور کریں کہ پاکستان کے بہترین افسر تھرپارکر میں تعینات ہوتے تو کیا وہاں بھوک سے بچے مر رہے ہوتے، زرعی ملک کے ہی ایک حصے میں قحط پڑا ہوتا؟بلوچستان میں تجربہ کار افسر مقرر ہوتے تو کیا وہاں بہتری کے آثار نہ پیدا ہو چکے ہوتے؟پانچواں یہ کہ سرکاری اور نجی تجارتی اداروں کو غربت کے خاتمے کے پروگرام میں رضا کارانہ طور پر طے شدہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جائے۔ یہ تجربہ صرف چین نے ہی نہیں اس سے پہلے دنیا کے کئی ملکوں نے کیا کہ بڑی بڑی کمپنیوں کو دیہی علاقوں میں اپنے دفاتر بنانے کے لیے ٹیکس میں چھوٹ دی گئی۔ چھٹا نکتہ یہ کہ قانون سازی کے ذریعے یقینی بنایا جائے کہ مرکزی حکومت، صوبائی حکومتیں، حتیٰ کہ شہری حکومتیں بھی غربت کے خاتمے لیے سرمایہ مختص کریں۔ غربت کے خاتمے کے لیے نعرے بازی کی بجائے قانون سازی زیادہ موثر رہتی ہے۔اگر واقعی غربت ختم کرنا ہے تو پھر ہمیں وفاق سے لے کر نیچے تک بجٹ میں کسی علاقے کا نام بتا کر ہر سال کچھ پیسے رکھنا ہوں گے، تاکہ ساری کوششیں نتیجہ خیز بھی ہو سکیں۔ پھر ان پیسوں کا مناسب استعمال بھی یقینی بنانا ہو گا کیونکہ ہمارے ہاں پیسے تو بجٹ میں رکھ لیے جاتے ہیں مگر سال کے آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں سے کچھ لگا ہی نہیں۔

ساتواں نکتہ یہ کہ سرکاری ملازمین اور غربت کے خاتمے کے پروگرام سے منسلک افراد کو خصوصی تربیت دی جائے تاکہ وہ پالیسی سازی میں رائے دیتے ہوئے اور کسی مخصوص پالیسی کو نافذ کرتے ہوئے غربت کے خاتمے کو مدنظر رکھیں۔ پاکستان میں شاید اس سے اہم کام ہی کوئی نہیں۔ان لوگوں کو سمجھائیں کہ غریب علاقوں میں انہیں تعلیم و تربیت کا نظام کیا رکھنا ہے۔ طے شدہ اہداف حاصل کیسے کرنے ہیں، اداروں کے کام میں یکسانیت کیسے پیدا کرنی ہے۔ ورنہ سب کچھ جاننے کا دعویٰ کرنے والے دعوے کرتے رہیں گے اور ہو گا کچھ بھی نہیں۔آٹھواں نکتہ یہ کہ جو لوگ غریب ہیں انہیں سمجھایا جائے کہ غربت ان کا مقدر نہیں، انہیں روشن مستقبل کی امید دلائی جائے۔ یہ کام تبھی ممکن ہے جب لوگ اپنے لیے کچھ ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کھوکھلی تقریریں سن کر لوگ سمجھیں کہ وہ امیر ہو گئے ہیں۔ انہیں پولیس، ہسپتال اور دیگر سرکاری سہولیات تک عزت سے رسائی ملے گی تو صورتحال میں تبدیلی آئے گی۔

نواں نکتہ یہ کہ غربت کے خاتمے کے پروگرام کی سخت مانیٹرنگ کی جائے۔ اس پروگرام سے متعلق لوگوں کے لیے پہلی شرط ہی خود کو مسلسل احتساب کے لیے پیش کرتے رہنا ہے۔ پہلے سے طے کردہ پیمانوں پر کارکردگی جانچتے رہنا اس طرح کے پروگراموں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ مانیٹرنگ کا یہ نظام اندرونی بھی ہو سکتا ہے اور نجی شعبے کے ذریعے زمینی حقائق جاننے کا بھی کوئی نظام وضع کیا جا سکتا ہے۔ اصل بات یہ دیکھنا ہے کہ جو منصوبہ بنایا گیا تھا وہ رو بہ عمل ہے یا نہیں۔ دسواں اور آخری نکتہ یہ ہے کہ غربت کے خاتمے کا کوئی معیار اپنے ماحول کے مطابق بنائیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اسے بہتر بناتے جائیں۔ چین نے ابتدا میں غربت کی تعریف وہ رکھی جو ورلڈ بینک کے معیار سے نیچے تھی اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ آج وہاں غربت کا پیمانہ ورلڈ بینک کے طے کردہ معیار سے اوپر چلا گیا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی ضروریات کے مطابق غربت کی پاکستانی تعریف کرنا ہو گی تاکہ ہم عالمی اداروں کے ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ بھاگتے رہیں بلکہ اپنے طے کردہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

بہرکیف چین کا دعویٰ ہے کہ وہ 2020 تک یعنی اگلے سال تک اپنے ملک سے مکمل غربت ختم کردے گاجبکہ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی یعنی 10کروڑ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ورلڈ بنک کی رپورٹ اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے مطابق موجودہ حکومت کے آنے کے بعد غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے اجتماعی رویے بھی ترقی کرنے کے حوالے سے تعریف کے قابل نہیں ہیں۔ ادویات، دودھ، دہی، کوکنگ آئل غرض کھانے پینے کی ہر چیز جعلی ہونے کی وجہ سے لوگ جو کچھ کماتے ہیں وہ اُن کی ادویات پر خرچ ہوجا تاہے۔ مانیٹرنگ سخت نہ ہونے کی وجہ سے یا سزائیں نہ ملنے کی وجہ سے ہمارے اندر سے خوف ختم ہوچکا ہے۔ یہاں نہ تو کوئی ٹریفک سگنل توڑنے کی سزا ہے نہ اس حوالے سے شعور ۔ یہاں سزا اور جزا کا نظام ہی موجود ہی نہیں ہے۔ یہاں ہیلمنٹ پہنانے کے لیے لالچ دینا پڑتا ہے اور یہاں عوام کو بتانا پڑتا ہے کہ سچ بولنے کے کیا فائدے ہیں ۔ جب حالات یہ ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ ہمارے ملک سے غربت کا خاتمہ ہو سکے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان اس حوالے سے چین کے پیچھے پڑ جائیں اور پھر دیکھیے گا کہ خود بخود نوکریاں پیدا ہونا شروع ہوجائیں گی اور حقیقی معنوں میں پاکستان خط غربت سے باہر نکل آئے گا!


ای پیپر