دل صاحب اولاد سے انصاف طلب ہے
03 May 2019 2019-05-03

میری ملاقات محبت اللہ، حُسن پری، ہلال احمد اور دیگر بچوں سے چلڈرن ہسپتال لاہور کے مسافر خانے میں ہوئی، یہ بچے اتنے ہی خوبصورت تھے جتنے ہمارے اور آپ کے بچے ہو سکتے ہیں بلکہ سچ پوچھئے تو ان سے بھی کچھ زیادہ کہ پختونوں، افغانیوں اور گلگت بلتستانیوں کے بچے واقعی بہت دلکش ہوتے ہیں۔ اصل بات پوچھئے تو وائے ڈی اے پنجاب کے سیکرٹری انفارمیشن ڈاکٹر عمر شفیق نے جان عذاب کر رکھی تھی کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ میں بڑے ہسپتالوں کو ملنے والی خود مختاری ( وہ اسے نجکاری اور ٹھیکیداری کہہ رہے تھے) میڈیکل کمیونٹی کے لئے کم اورغریبوں کے لئے کہیں زیادہ زہر قاتل ہے ۔ میں اپنے دو عشروں سے زائد کے تجربات کی بنا پر ان کے بہت سارے مشاہدات اور خدشات سے متفق تھا مگر میرے ذہن میں یہ سوال تو موجود تھا کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہی یہی ہے کہ اس نے خیبرپختونخوا میں صحت، تعلیم، بلدیات اور پولیس میں اصلاحات کی بنیا د پر ہی اس صوبے کی حکمرانی دوبارہ حاصل کی ہے اور اگر ایم ٹی آئی اتنا ہی برا ہے تو وہاں اسے خوش آمدید کیوں کہا گیا ہے ؟

میرے سوال کا جواب حیران کن تھا، بتایا جا رہا تھا کہ خیبرپختونخوا میںہسپتالوں کو بورڈ کے حوالے کرنے کے بعد وہاں تیس کے قریب ڈی ایچ کیوز اور ٹی ایچ کیوز بند ہو چکے ہیں۔ تحریک انصاف نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے ایم ٹی آئی کو ڈاکٹروں کی اپنی ذیلی تنظیم قائم کرتے ہوئے تجرباتی بنیادوں پر منظور کروایا مگر اس تجربے کے ناکام ہونے کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جن اداروں میں اس ایکٹ کے تحت بورڈز کو قائم کیا گیا وہاں سے نصف کے قریب سینئر پروفیسرز اور دیگر سٹاف رخصت ہو چکا ہے اور وہاں کی تمام تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ کے تحت ہسپتالوں کی نجکاری کی مخالف ہو چکی ہیں اور وائے ڈی اے پنجاب کے ساتھ مل کر ہڑتال اور احتجاج کررہی ہیں۔ میرا ایک اور سوال تھا کہ عمومی تاثر ہے کہ ڈاکٹر کام نہیں کرتے اور مریض رُلتے رہتے ہیں لہٰذا اگر وہ کنٹریکٹ پر ہوں گے تو کم از کم نکالے جانے کے خوف سے کام تو کریں گے، مجھے اس سوال کے دوجواب ملے، ڈاکٹر عمر شفیق نے مجھے 29 اپریل کی میڈیکل یونٹ ون کی پیشنٹ پوزیشن دکھائی جس میں 48 بیڈز پر 304 مریضوں کا علاج کیا گیا، ان کا موقف تھا کہ یہ سب مریض ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرامیڈکس نے ہی دیکھے اور ان کا علاج کیا گیا، بیڈز پورے کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر یہ پروپیگنڈہ غلط ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج نہیں ہو رہا اور دوسرا جواب کچھ زیادہ تلخ تھا کہا اگر کنٹریکٹ سسٹم اتنا ہی اچھا ہے تو اسے بیوروکریسی اور فوج میں کیوں لاگو نہیںکر لیا جاتا؟

مجھے کالم لکھتے ہوئے یاد ہی نہیں رہا کہ میں تو آپ کو محبت اللہ، حسن پری ، ہلال احمد اور دیگر بچوں سے ملوا رہا تھا۔ میری یہ ملاقات اس وجہ سے ہوئی کہ اگر میں بھی ٹھنڈے ائیرکنڈیشنڈ سٹوڈیو میں بیٹھ کر پروگرام کر لیتا یا اپنے گھر میں بیٹھ کے کسی وزیر، مشیر کو خوش کرنے کے لئے کالم لکھ لیتا تو میرے سامنے حقائق کبھی نہ آتے، میں اپنی لفاظی سے واہ ، واہ تو کروا لیتا مگر اپنے لوگوں کا حق کبھی ادا نہ ہوتا۔ مجھے ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس نے بتایا کہ چلڈرن ہسپتال کے بعض شعبوں میں خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ افغانستان تک سے آنے والے مریضوں کا رش چالیس سے ستر فیصد تک ہوتا ہے ۔ میرے لئے یہ ناقابل یقین تھا کہ لوگ خیبرپختونخوا کے مثالی بنا دئیے گئے ہسپتالوں کو چھوڑ کر پنجاب کے کرپٹ ہسپتالوں میں آتے ہیں۔ وہ کیوں آتے ہیں ، میرا سوال تھا اور جواب عملی تھا کہ چلئے آپ چل کے خود ہی ان سے پوچھ لیں۔ یہ مناسب نہیںتھا کہ میں کیمرا لے کر وارڈوں میں گھس جاتا مگر چلڈرن ہسپتال کی نئی عمارت کے ساتھ ایک مسافر خانہ بھی ہے اور جب میں وہاں پہنچا تو وہاں انہی مریضوں کاڈیرہ تھا۔ یہ بچے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں، شمالی وزیرستان، باجوڑ ایجنسی ، گلگت بلتستان اور افغانستان تک سے آئے تھے۔ ان میں سے اکثریت کو بلڈ کینسر تھا مگر ان کے والدین بتا رہے تھے کہ پشاور اور ایبٹ آباد کے ہسپتالوں میںا ن کے علاج کے لئے اٹھارہ، بیس لاکھ روپے تک طلب کئے جا رہے تھے جو غریب والدین کے لئے ادا کرنے ناممکن تھے اور اگر وہ خیبرپختونخوا کے مثالی ہسپتالوں میں ہی بیٹھے رہتے تو علاج نہیں ہونا تھا اور انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے سامنے سسک سسک کرمرتے ہوئے دیکھنا تھا اور یہی وہ ٹھیکیداری سسٹم ہے جس کو نوشیرواں برکی پنجاب کے ہسپتالوں میں بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں جس کے بعد کسی بھی حکومتی پالیسی سے آزاد ہوتے ہوئے اس ہسپتال کا بورڈ فیصلہ کرے گا کہ کس مریض سے کتنے پیسے وصول کرنے ہیں، اس طرح عملی طور پر ہمارے ٹیکسوں کی کمائی سے بنے ہوئے یہ ہسپتال پرائیویٹ ہوجائیں گے۔

اشفاق، پیرامیڈیکس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ہیں، وہ مجھے مریض بچوں اور ان کے والدین سے ملوا رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ لاہور کے چلڈرن ہسپتال میںبون میرو ٹرانسپلانٹ بھی شروع کر دیا گیاہے، تین کروڑ کا یہ علاج غریبوں کے بچوں کے لئے بالکل مفت ہے ۔ افغانستان اور گلگت بلتستان سے آئے والدین بتا رہے تھے کہ انہیں خیبرپختونخوا نزدیک پڑتا ہے مگر وہاں بہت پیسے مانگتے ہیں۔ لہذا وہ مزید پانچ سو کلومیٹر دور لاہور آجاتے ہیںاور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہاں کے ڈاکٹر خودکہتے ہیں کہ اگر تمہارے پاس پیسے نہیں تو لاہورچلے جاﺅ، وہاں علا ج مفت ہوجائے گا، اشفاق نے کہا کہ مفت علاج ہی نہیں ہوتا بلکہ تین وقت مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے ۔مجھے تمام مریضوں نے بتایا کہ وہ علاج اور مہمانداری دونوں سے ہی بہت مطمئن ہیں۔ ایک دوست نے اعتراض کیا کہ صحت کے لئے ہر صوبے کااپنا اپنا بجٹ ہے ، پنجاب کا بجٹ خیبرپختونخوا والوں پر کیوں خر چ کیا جا رہا ہے کہ ا س سے ملتی جلتی صورتحال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور میو ہسپتال سمیت پنجاب کے دیگر بڑے ہسپتالوں میں بھی ہے ۔ میں نے کہا، ان بچوں کو دیکھو، اگر تمہارے بس میںا نہیں زندگی دینا ہے تو تم انکار کرسکتے ہو، کیا تم اتنے ہی ظالم ہو جتنے خیبرپختونخوا میں ہسپتالوں کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے والے ہیں؟

گالم گلوچ اور پروپیگنڈہ بہت ہو چکا، اب تعلیم اور صحت ہی نہیں معیشت سمیت ہر جگہ اعدادوشمار اور حقائق کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے ۔ میں اس کالم میں ڈاکٹروں، نرسز اور پیرامیڈکس کی جاب سیکور ٹی ڈسکس نہیں کروں گا کہ ہمارے پروفیشنلز کی بیرون ملک بہت ڈیمانڈ ہے ، وہ باہر چلے جائیں گے۔ کیا ہم یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ پنجاب میں رہنے والوں کے بچوں کو بھی پی ٹی آئی حکومت کے ایم آئی ٹی ایکٹ کے نافذ ہونے کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔ اب ہمارے پاس بیڈز، وینٹی لیٹرز، ڈاکٹرز اور نرسیں تعداد میںسب کم ہیں مگر وہ علاج سے انکار نہیں کرتے، اڑتالیس بستروں پر تین سو چار مریضوں کو بھی لٹا لیا جاتا ہے لیکن اگر یہ ایکٹ پنجاب میں بھی نافذ ہو گیا توخیبر پختونخوا کے غریب تو پنجاب اور لاہور آجاتے ہیں مگر جب پنجاب اور لاہور والے بھی اس نام نہاد خود مختار مثالی نظام کی فیسیں ادا نہ کر سکے تو وہ اپنے مہلک امراض میں مبتلابچوں کو قبرستانوں کے علاوہ کہاں لے جائیں گے، کیا آپ کے پاس اس سوال کا جواب ہے ؟


ای پیپر