خلع۔۔۔کھلم کھلا۔۔۔
03 مئی 2018 2018-05-03

دوستو،آج ایک حساس معاملے پر کچھ عام سی باتیں کرنے کا موڈ ہے،آپ نے دیکھا ہوگا کہ روز کسی نہ کسی جان پہچان والے ،رشتہ دار یا پھر دوست احباب کے ہاں سے طلاق یا خلع کی خبر سننے کو ملتی ہے۔۔۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ ہر شہر میں طلاق اور خلع کے کیسز میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔۔۔کراچی میں دوہزار دس میں طلاق کے چالیس ہزار سے زائد کیس رجسٹرڈ ہوئے،آٹھ سال بعد اس کی تعداد کا خود اندازہ لگاسکتے ہیں، اسی طرح پنجاب میں دوہزار بارہ میں طلاق کے تیرہ ہزار سے زائد، دوہزار تیرہ میں چودہ ہزار سے زائد، دوہزار چودہ میں سولہ ہزار سے زائد،دوہزار سولہ میں اٹھارہ ہزار سے زائد خلع کے مقدمات کا فیصلہ کیاگیا۔ صرف لاہور میں دوہزار سترہ کے دورن خلع کے واقعات اٹھارہ ہزار سے بڑھ کر بیس ہزار سے زائد ہوگئے۔۔۔سیشن جج گوجرانوالہ نے اپنے ایک فیصلے میں لکھا کہ، ماسٹرز کی طالبہ نے وین ڈرائیور کے چکر میں اپنے پڑھے لکھے، محبت کرنے والے شوہر سے طلاق لے لی۔۔۔پاکستان کے شہری علاقوں میں روزانہ ڈیڑھ سو سے زائد طلاقیں رجسٹرڈ ہورہی ہیں۔۔۔
ایک مرد شادی کے بعد شوہر، خاوند یا زیادہ سے زیادہ میاں بن جاتا ہے جبکہ شادی سے پہلے صرف لڑکی کہلانے والی بعدمیں بیوی،بیگم، منکوحہ، قبلہ ، اہلیہ ، رفیقہ حیات،بیاہتا، خاتون، خانم، جورو اور شریکِ حیات،ایسے کئی مترادفات اپنے نام کر لیتی ہے۔۔۔ ایک مظلوم شوہر سے جب پوچھاگیا کہ، خاتونِ اَوّل کے ان تمام ناموں میں کیا فرق پایا جاتا ہے تو جواب ملا، کوئی فرق نہیں ہوتا ،بس یہ سب ایک ہی دشمن کے کئی نام ہیں۔۔۔ایک صاحب اپنے دوست کو بتارہے تھے کہ ، میں نے شادی اس لئے کی تھی کہ شام کو گھر پہنچنے پر اکیلا گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔۔۔دوست نے پوچھا، پھر اب کون سی نئی پریشانی آگئی؟۔۔۔وہ صاحب کہنے لگے۔۔۔ اب بیوی اور گھر دونوں کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔۔۔ایک صاحب نے اپنے وکیل کو فون کیا، کہنے لگا، میں طلاق کا مقدمہ دائر کرنا چاہتا ہوں۔۔۔وکیل نے وجہ پوچھی تو وہ صاحب کہنے لگے، میری بیوی ایک سال سے مجھ سے بات نہیں کررہی، وکیل نے کہا۔۔۔اچھی طرح سوچ لیں جناب، ایسی بیویاں قسمت والوں کو ہی ملتی ہیں۔۔۔اسی طرح ایک خاتون خانہ نے اپنے وکیل سے کہا، میں اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہتی ہوں، ان کے اخلاق و آداب ٹھیک نہیں ہیں۔۔۔وکیل نے دریافت کیا، شادی کو کتنا عرصہ گزر چکا۔۔۔خاتون نے کہا ، تیس سال ہوگئے۔۔۔وکیل نے حیرت سے پوچھا، تیس سال بعد آپ کو طلاق لینے کا خیال کیوں اور کیسے آگیا،اگر آپ کو اپنے شوہر کے اخلاق و آداب سے اتنی ہی شکایت تھی توآپ نے پہلے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟۔ خاتون افسردہ لہجے میں کہنے لگیں، اس سے پہلے مجھے علم نہیں تھا، اخلاق و آداب والی کتاب میں نے کل ہی پڑھی ہے۔۔۔ایک شخص نے عدالت میں طلاق کی عرضی دی۔۔۔مجسٹریٹ نے وجہ دریافت کی تو وہ بولا، حضوروالا، میری بیوی مجھے بہت مارتی ہے۔۔۔مجسٹریٹ نے کہا، ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر طلاق نہیں دی جا سکتی ،اگر ایسا ہوتا تو میں خود اب تک کبھی کی طلاق لے چکا ہوتا۔۔۔
اچھا پہلے طلاق اور خلع میں فرق جان لیجئے۔۔۔اکثر لوگ ان دونوں کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں۔۔۔ خلع کا مطالبہ عموماً عورت کی جانب سے ہوتا ہے، اور اگر مرد کی طرف سے اس کی پیشکش ہو تو عورت کے قبول کرنے پر موقوف رہتا ہے، عورت قبول کرلے تو خلع واقع ہوگا، ورنہ نہیں جبکہ طلاق عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں، وہ قبول کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔دْوسرا فرق یہ ہے کہ عورت کے خلع قبول کرنے سے اس کا مہر ساقط ہوجاتا ہے یعنی خلع لینے پر اسے حق مہرنہیں ملے گا، طلاق سے ساقط نہیں ہوتا، البتہ اگر شوہر یہ کہے کہ تمہیں اس شرط پر طلاق دیتا ہوں کہ تم مہر چھوڑ دو اور عورت قبول کرلے تو یہ بامعاوضہ طلاق کہلاتی ہے اور اس کا حکم خلع ہی کا ہے۔ خلع میں شوہر کا لفظ ’’طلاق‘‘ استعمال کرنا ضروری نہیں، بلکہ اگر عورت کہے کہ ’’میں خلع (علیحدگی) چاہتی ہوں‘‘، اس کے جواب میں شوہر کہے کہ ’’میں نے خلع دے دیا‘‘ تو بس خلع ہوگیا، خلع میں طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے، یعنی شوہر کو اب بیوی سے رْجوع کرنے یا خلع کے واپس لینے کا اختیار نہیں۔۔۔
کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پربنتے ہیں،بالکل درست، کیوں کہ جو جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں انہیں خوشگوار زندگی گزارتے دیکھاجاسکتا ہے،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے درمیان علیحد گی ہوجائے یا طلاق ہوجائے توان کی ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے؟ کیا یہ قدرت کا کام ہے یا پھرہماری اپنی غلطیاں کہ نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ویسے توہمارے معاشرے میں طلاق کوایک گالی ہی سمجھا جاتا ہے۔ طلاق یافتہ لڑکی اورلڑکے کوعزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ شوبز کی دنیا پر نظر ڈالیں تو وہاں طلاق کو گالی نہیں اسٹیٹس سمبل یا پھر فیشن سمجھاجاتا ہے۔۔۔شوبزکی دنیا میں لومیرج کا رجحان بہت زیادہ ہے لیکن اس کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ پھر اس کی کامیابیوں کا تناسب بھی انتہائی کم ہے۔لوگ ایک دوسرے کی محبت میں اندھے ہوکرجلدبازی میں شادی کا فیصلہ تو کرلیتے ہیں لیکن چند سال گزرنے کے بعد وہ اپنے فیصلے پر پچھتانے لگتے ہیں،یوں جو کل تک ایک دوسرے کے بغیر سانس لینے کا تصور نہیں کرتے پھر ایک دوسرے کی شکل دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے۔شوبزکی دنیا میں نظر دوڑائیں تو محبت کی شادیوں کا کیا انجام ہوا یہ بھی سن لیجئے۔۔۔ملکہ ترنم نورجہاں‘ اعجاز‘ محسن حسن خان‘ رینا رائے‘ فریال گوہر‘ جمال شاہ‘ رانی‘ سرفراز نواز‘ جاوید شیخ ، سلمیٰ آغا کے علاوہ ہدایتکارہ سنگیتا کی دو شادیاں ناکام ہوئیں، نشو کی انعام ربانی سے شادی ناکام ،شکیلہ قریشی اور عمرشریف کی شادی بھی ناکام، اداکار شاہد کی اداکارہ بابرہ شریف اور زمرد کے ساتھ شادیاں ناکام ہوئیں، زیبا بیگم کی پہلی شادی ناکام رہی، اداکارہ بندیا نے اسد نذیر سے شادی کی جو چند سال ہی قائم رہ سکی، اسی طرح اداکارہ سونیا خان اور بابرخان کی لومیرج بھی چندسال بعد ختم ہوگئی۔اداکار فیصل قریشی کی پہلی شادی فلاپ، ماضی کی معروف اداکارہ عالیہ بیگم کی تین شادیاں ناکام، اداکارہ دردانہ رحمان کی چار شادیاں ناکام۔ عدنان سمیع خان اور زیبابختیار کی لو میرج کا انجام بھی ناکامی کی صورت نکلا ، اداکار نعمان مسعوداور عروج ناصر کی شادی بھی جلد ختم ہوگئی تھی، صبا پرویز کی پہلی شادی بھی ناکام ہوئی، نادیہ افگن کی پہلی شادی بھی ناکامی سے دوچار ہوئی،ثروت گیلانی، جویریہ عباسی، شمعون عباسی ، اداکارہ نرگس کی شادیاں بھی ناکامی کا شکار رہیں۔۔۔گلوکارہ فریحہ پرویز کی دونوں لومیرج ناکام رہیں، اداکارہ نوربخاری کی چارشادیاں بھی فلاپ رہیں۔۔۔
میاں بیوی طلاق کے لئے عدالت گئے، جج نے کہا، طلاق سے پہلے اپنا سارا سامان آدھا آدھا تقسیم کرلو۔۔۔سارا سامان تقسیم ہوگیا،جب بچوں کی باری آئی تو وہ تین تھے، جج پریشان ہوگیا کہ اب کیا کیا جائے؟ اتنے میں بیوی بولی،منے کے ابا گھر چلو اگلے سال آ جائیں گے۔۔۔ایک دوست نے ہم سے سوال کیا، یار غصے میں بیوی کو طلاق دے دی، اب کس طرح اس سے رجوع کروں؟۔۔۔ ہم نے اس سے الٹا سوال کیا، یار کبھی کسی شوہر نے پیار سے بھی اپنی بیوی کو طلاق دی ہے؟ کیا تم نے کبھی سنا کہ شوہر بیوی کو باہراچھے سے ریسٹورنٹ پہ لے گیا، شاندار ڈنر کھلایا اور طلاق بھی دے ڈالی؟۔۔۔ایک صاحب اخبار سے کچھ کاٹ رہے تھے، دوست نے پوچھا ،کیا کاٹ رہے ہو، وہ بولا۔۔۔خبر آئی ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو صرف اس لئے طلاق دے دی کہ بیوی اس کی جیبوں کی تلاشی لیتی تھی۔۔۔اب یہ خبر اپنی جیب میں رکھوں گا۔۔۔


ای پیپر