جماعۃ الدعوۃ کا مقدمہ
03 مئی 2018 2018-05-03

حکومت پاکستان نے رواں سال فروری میں نیا صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھاجس کے مطابق اقوام متحدہ جس تنظیم یا شخصیت پر پابندی عائد کرے گی پاکستان میں بھی اس پر پابندی ہو گی۔ اس آرڈیننس کے بعد حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا اور یو این کی قرارداد کی بنیاد پر جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے ملک بھر میں قائم تعلیمی ادارے، ہسپتال، ڈسپنسریاں، ایمبولینسیں اور مدارس سرکاری تحویل میں لیکر ایڈمنسٹریٹر تعینات کر دیے گئے۔حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقداما ت سے پورے ملک میں جماعۃالدعوۃ اور ایف آئی ایف کی ریلیف سرگرمیوں کونقصان پہنچا اور تھرپارکر سندھ، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں رفاہی و فلاحی منصوبہ جات جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے ۔ صدارتی آرڈیننس جاری کئے جانے کے بعد اسے باقاعدہ قانونی شکل دینے کیلئے حکومت نے اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔جب صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا توسیاسی و مذہبی قائدین، وکلاء اور تاجروں سمیت قوم کے ہر طبقہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہاتھا کہ یہ آرڈیننس کسی ایک جماعت کیخلاف نہیں بلکہ پورے ملک کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ کل کو اگر اقوام متحدہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو انڈیا اور اسرائیل کیلئے خطرہ قرار دیکر بین الاقوامی تحویل میں دینے یا پاکستانی فوج کی ڈاؤن سائزنگ کی بات کرتی ہے تو کیا حکومت اس پر بھی عمل درآمد کروائے گی؟ لیکن افسوس کہ ان خوفناک حقائق کی جانب توجہ نہیں دی گئی اوراس وقت بھی مسلسل ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن سے ملکی سلامتی و خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہو۔
اقوام متحدہ کی قرارداد1267میں جن افراد اور تنظیموں کو نامزد کیا گیا ہے ان کے اثاثے منجمند کرنے، اسلحہ لائسنس کی منسوخی اور بیرون ملک سفر پر پابندی کی بات کی گئی ہے جبکہ پاکستان یو این کی قرارداد کے تحت ان تمام باتوں پر پہلے دن سے عمل کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں کہیں نامز شخصیات کی نظربندیوں ، جیلوں میں ڈالنے یا ان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی بات نہیں کی گئی لیکن حکومت کی جانب سے یہ سب کچھ بھی کیا گیااور ابھی تک ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس کا یو این کی قرارداد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے تحت1997کے دہشت گردی ایکٹ کی شقوں میں ترمیم کی ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایکٹ 1948کی زد میںآنے والی نامزد تنظیموں یا شخصیات کو بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے مختلف ملکوں کی جانب سے اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں پر مختلف اوقات میں یہ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں کہ نامزد شخص کا موقف سنے بغیر اس کیخلاف فیصلہ کر دیا جاتا ہے جو کہ آئینی، قانونی اور اخلاقی لحاظ سے کسی طور درست نہیں ہے۔یہی وہ بنیاد ہے جس کی بناء پر اکثر ممالک کی طرف سے یو این کی قراردادوں کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کیا جاتا رہا ہے۔پاکستان کی وہ تنظیمیں یا شخصیات جن کے حق میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالتیں واضح فیصلے دے چکی ہیں انہیں اقوام متحدہ کی قرارداد کی بنیاد پر دہشت گردقرار دینا پاکستان کے عدالتی نظام پر کھلا حملہ ہے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کا یہ بیان آن ریکارڈ موجود ہے جس میں انہوں نے کہاتھا کہ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے عدالتیں ان لوگوں کو بری کر دیتی ہیں اس لئے یو این کی قراردادوں کے حوالہ سے پاکستانی قانون میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں تاکہ اس سقم کو دور کیا جاسکے۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور اس کے آئین میں یہ بات موجود ہے کہ یہاں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بن سکتا۔اسلام نے کسی شخص کیخلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود اوراس کا موقف سنے بغیر کسی کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ بلا وجہ کسی کو سزا دے۔حکومت کی طرف سے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے والی تنظیموں یا شخصیات کیخلاف اقدامات اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کیلئے نہیں بلکہ بیرونی دباؤ پر کئے جارہے ہیں۔ یو این کی قرارداد میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ آپ اپنے قانون میں تبدیلیاں کریں اور نہ ہی پہلے کسی اور ملک کی جانب سے ایسا کیا گیا ہے۔ انڈیانے تو آج تک کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی کسی قرارداد پر عمل درآمد نہیں کیالیکن پاکستانی حکومت ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات اٹھانے میں بڑی گرم جوش ہے ہے۔سرکاری کاربرداران مخالفت کرنے والے ممبران پر زور دے رہی ہے کہ وہ لازمی طور پر اس کی حمایت کریں۔ اگر آپ اس کے حق میں ووٹ نہیں ڈالیں گے تو اقوام متحدہ آپ کیخلاف بھی پابندیاں لگا سکتی ہے۔ اگر یہ بل جو بظاہر صرف جماعۃالدعوۃ کیخلاف کاروائی کیلئے لایا جارہا ہے اسمبلی سے بھی منظور ہو جاتا ہے تودشمن ملکوں کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں، فوج اور دفاعی اداروں کیخلاف سازشوں کا موقع مل جائے گا۔ یو این کی جانب سے پاکستانی قومی سلامتی اداروں سے وابستہ شخصیات کو بھی متنازعہ لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے اور پھر پاکستان ان کیخلاف کاروائی پر مجبور ہو گا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جماعۃالدعوۃ اور حافظ محمد سعید کیخلاف قرارداد پر سابقہ حکومتوں کو چاہیے تھا کہ وہ ان کا دفاع کرتیں اور پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے یواین کے سامنے رکھے جاتے اور ان تنظیموں اور شخصیات کو دہشت گردی کی فہرستوں سے خار ج کروایا جاتالیکن بیرونی دباؤ پر ایسا نہیں کیا گیا جبکہ جماعۃالدعوۃ اقوام متحدہ میں ڈی لسٹنگ کیلئے خود اپنا کیس لڑ رہی ہے جو کہ تاحال زیر سماعت ہے۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور اپنے ملک کے شہریوں کا دفاع کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ان کا مقدمہ صحیح معنوں میں پیش کرے۔جماعۃالدعوۃ پاکستان اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدارتی آرڈیننس کیخلاف رٹ پٹیشن دائر کی ہیں اور ان میں موقف اختیار کیا ہے کہ یہ آرڈیننس پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور وقار کے خلاف ہے۔ ہم اس ملک میں اپنے قانون پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بل کی قومی اسمبلی سے منظوری سے تحریک آزادی کشمیرکو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گااوراس سے کشمیریوں کی کمر
میں بھی خنجر گھونپا جا رہا ہے ، شاید بعد میں پھر اس کا ازالہ نہ کیا جاسکے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تحریک آزادی کشمیرعروج پر ہے۔کشمیری نوجوانوں کا قتل عام روز کا معمول بن چکا۔ بھارتی دہشت گردفوج مسلمان بچیوں اور خواتین سے عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ پوری کشمیر ی قوم سڑکوں پر ہے اور پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے سینوں پر گولیاں کھا رہی ہے۔ ان حالات میں چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کا مقدمہ صحیح معنوں میں پیش کرتی لیکن افسوس کہ ایسا کرنے کی بجائے کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آواز کو بھی خاموش کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔پاکستان اللہ کی بہت بڑی نعمت اور ایک آزاد و خودمختار ملک ہے۔ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیایہ خطہ کسی ملک یا بین الاقوامی ادارے کی جاگیر نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کا ہر طبقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متعلق اسمبلی میں پیش کئے جانے والے اس بل کیخلاف پوری قوت سے آواز بلند کرے تاکہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو سبوتاژ ہونے سے بچایا اور ملک کے ایٹمی اثاثوں ، پاک فوج اور دفاعی اداروں کا تحفظ کیا جاسکے۔


ای پیپر