ابدالیَن
03 مئی 2018 2018-05-03

میں بَیک وقت ابدالین، راوین، پنجابین اور نیشنل کالج آف آرٹس کو پتہ نہیں کیا کہتے ہیں؟خیر جو بھی کہتے ہیں وہ بھی تھا۔ ان اداروں میں باقاعدہ ایڈمیشن تو نہیں لیا تھا(ملتا تو لیتا)پھر بھی ان کا حصہ ضرور تھا۔ اپنی اسناد سے تو میں یہ بات ثابت نہیں کر سکتا ،البتہ اپنے دلائل سے میں آپ کو قائل کرنے کی پوری کوشش کرسکتا ہوں۔خود اپنے آپ کو بھی میں نے انہی دلائل سے ہی قائل کیا ہے ۔ سب سے زیادہ میراوقت کیڈٹ کالج حسن ابدال میں گزرا اور بہت خوبصورت گزر ا، پر بہت جلد گزر گیا۔
وہاں ایڈمیشن آٹھویں جماعت میں ملتا ہے، پر میں پہلی دوسری جماعت سے بھی پہلے ہی وہاں ایڈمیشن لے چکا تھا۔اصل میں ماموں جان کیڈٹ کالج حسن ابدال میں پڑھاتے تھے، اورہم گرمیوں کی چھٹیاں وہیں مناتے تھے۔ صبح لائبریری میں، دوپہر کو سوئمنگ پول ،شام ڈھلنے سے پہلے کالج کے پیچھے ندی اورنَدی کے پار پہاڑ پر ،شام کو بیڈمِنٹن، ٹیبل ٹینس اور رات کو Cycling۔ یہ ساری’’ غیر نصابی آوا رہ گردیاں‘‘ وہاں کے حقیقی طلباء کو بھی میسر نہیں تھیں۔ہم جب بھی ماموں کی طرف جاتے تو میرے کزن کی آنکھوں میں خوشی او رغمی (غصے)کے ملے جلے آثار پائے جاتے۔غصہ اسے اس بات کا ہوتا کہ یہ آگیا ہے اور اب اس نے تین ماہ تک میرا سائیکل اپنے قبضے میں کر لیناہے ۔ اس نے ماموں مامی کو اکثر کہنا کہ احمد بھائی مجھے سائیکل ہی نہیں دیتے۔ انہوں نے کہنا اَنس بیٹا وہ صرف دو ماہ کے لیے تو آتا ہے کونسا روز روز آتا ہے۔ اس نے کہنا ہمیں پورا سال اتنا سائیکل چلانے کو نہیں ملتا جتنا یہ روز روز نہ آکر چلا لیتا ہے۔
میرے لیے کالج کے ساتھ ہی جو نَدی تھی اور اس کے پار جو پہاڑ تھے وہ افسانوی سی حیثیت رکھتے تھے۔ جب بھی میں وہاں سے ہو کر آتا تو ایسے محسوس ہوتا کہ میں نے کوئی خواب دیکھا ہے ۔ اگلے دن پھر وہ خواب دیکھنے ندی پہ چلا جاتا ۔ میرے دوسرے کزن انیق نے ایک دو مرتبہ ماموں کو بتایا کہ ابو یہ اکیلا ندی پہ جاتا ہے اور ندی پار بھی کرتا ہے ۔ماموں اس طرح کے معاملات میں بڑے سخت تھے لیکن انہوں نے مجھے اکیلے ندی اور اس کے پار جانے پر کبھی کچھ نہ کہا۔ شاید انہوں نے میری آنکھوں میں وہ خوبصورت ندی اور دلکش پہاڑ دیکھ لیے تھے،یا وہ یہ جان گئے تھے کہ ’’ ڈنڈاپیر اے وِگڑیاں تگڑیاں دا‘‘ یعنی لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ خیر نہ انہوں نے مجھے باتوں سے منع کیا اور نہ ہی لاتوں سے۔ میں اُن پہاڑوں پر کبھی نہیں چڑھا تھا، اونچے ہی بہت تھے چڑھتا کیا؟ ایک دفعہ حوصلہ پکڑا ، پکڑاتو نہیں جا رہا تھا، لیکن پھر بھی آنکھیں بند کر کے پہاڑ پر چڑ ھنے کی ٹھان لی اور چڑھنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ پہاڑکی چوٹی کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ دل کیا کہ مڑ کر نیچے دیکھوں ۔ پر میں نے اپنے آپ کو بہت سمجھایا کہ تم سے تو اوپر نہیں دیکھ ہو رہا نیچے کیا دیکھو گے؟ پر اب دل نے کہہ جو دیا تھا، تو دیکھ لیا پیچھے مڑ کر، میری آنکھیں چندھیاگئیں اور مجھے ایسے لگا کہ میں پتھر کا ہو گیا ہوں۔ مجھے کیا پتا تھا کہ میں یہ ’’ کے ٹو‘‘ سرکئے بیٹھا ہوں۔ ہوش آیا تو سوچا اترنا کیسے ہے ؟یہ سن رکھا تھا کہ پہاڑ چڑھتے ہوئے نیچے نہیں دیکھنا چاہیے، پھر بندہ آسانی سے پہاڑ چڑھ جاتا ہے ۔ اب پہاڑ سے نیچے اترنے کے لئے کچھ نہیں سن رکھا تھا ۔دل نے کہا، پھر یہ ہی ہوگا کہ نیچے اُتر تے ہوئے اوپر نہیں دیکھنا چاہیے ۔ میں دل کی اس قسم کی نصیحت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا ۔ اس پہاڑ سے میں جیسے اترا وہ پہاڑ ہی جانتا ہے۔
’’ایف اے‘‘ کے بعد میں اپنے آپ کو ’’راوین ‘‘کہلوانے لگ پڑا ۔ ابھی داخلہ تو نہیں لیا تھا، پر Prospectus جولئے بیٹھا تھا وہاں کی ۔ شکر کریں آپ (اصلی راوین)کہ کہیں میں نے اپنے آپ کو وہاں کا پروفیسر نہیں کہنا شروع کر دیا۔ ایک دن میں پنجاب یونیورسٹی (اولڈکیمپس) میں بھی گُھس گیا’’پراسپیکٹس‘‘ لینے۔ آفس ڈھونڈتے ڈھونڈتے کچھ لڑکیاں ڈھونڈ لیں۔ ان سے پوچھا کہ مجھے فلاں آفس میں جانا ہے ۔ اُن میں سے ایک کہنے لگی کہ آفس دور ہے۔ پھر چند سیکنڈ وں کے لیے اس نے کچھ سوچا اور مجھے کہا کہ میں آپ کو وہاں لے جاؤں؟ دل نے کہا کہ آپ کہیں تو میں ٹیکسی کرا لیتا ہوں ،خیر وہ مجھے وہاں تک چھوڑنے آئی ۔ باتوں ہی باتوں میں اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے نمبر کتنے ہیں؟ یہ سوال سن کر میر ا’’ ترو‘‘ ہی نکل گیا۔ میں نے کہا میرا خیال ہے کہ Bیا Cگریڈ ہوگا۔ اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی میں نے بات کو اتنی تیزی سے موڑا جیسے بیگم آپ سے منہ موڑتی ہے ۔ کہنے لگا کہ آپ کا ادارہ ایک تاریخی ادارہ ہے۔ وہ کہنے لگی یہ بات کس کو نہیں معلوم؟ اس نے یقیناًیہ جواب BاورC گریڈ والی حرکت پہ دیا ہو گا۔ ورنہ جو اتنی دور چھوڑنے آئی اُس نے ایسے سیدھا ہی جواب تھوڑی دینا تھا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے سوچا ایسے ہی فرانس جانے کا سوچتا رہتا ہوں، بس لاہور لاہور اے۔ فارم وہیں فِل کر کے اسی وقت جمع کرائے اور سیدھا فیصل آباد آ گیا۔ انتظار کرتا رہا اور کرتا ہی رہا، پر چِٹھی نہ کوئی سندیس۔ اس سے پہلے کہ فیصل آبادمیں بھی کہیں ایڈمیشن نہ ملتا ،’’اوکھے سوکھے ‘‘ ہو کر یہیں داخلہ ڈھونڈنا شروع کر دیا ۔
’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘


ای پیپر