جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری میں میرٹ کی پامالی
03 مئی 2018 2018-05-03

کسی قوم کی ترقی و خوشحالی کا دارومدار اس کے افراد کی قابلیت، صلاحیت، خدمت اور اخلاقی اقدار سے وابستہ ہوتا ہے۔ قوموں کا عروج و زوال ایک قدرتی عمل ہے مگر وہ قومیں جن کے افراد کے ضمیر مردہ ہو جائیں، جو برائی کو برائی کے بجائے اپنی ذہانت اور صفت سمجھنے لگیں وہ پھر تنزلی کے بعد عروج کی طرف آنے سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جاتی ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں سیاست، حکومت سے لے کر محنت و مزدوری تک ہر جگہ بد عنوانی کی نہ صرف نشاندہی کی جا رہی ہے بلکہ ہر شخص بوکھلایا ہوا ہے ہر زبان پر سیاستدانوں، حکمرانوں، وزراء کی بد عنوانی کے چرچے عام ہیں۔ ایسے میں اعلیٰ عدلیہ معاشرتی خامیوں کی بڑی گہرائی و جانفشانی سے نشاندہی اور وضاحت کر رہی ہے۔ مختلف ادوار کی کارکردگی، خامیاں منظرِ عام پر لا رہی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ سب کچھ غلط ہونے کے باوجود ابھی بھی اس ملک میں جہاد کرنے والے موجود ہیں تو وہ زوال پزیر قوم کو شائد ایک بار پھر ترقی کی کی سمت رخ موڑنے پر آمادہ کر دیں۔
ہر قوم کی بنیاد اس کا نظامِ تعلیم ہوتا ہے جس میں سرِ فہرست طلباء کو محبِ وطن بنانا، محنت کی عظمت، ہر کام کی قدر و قیمت ان کے دل میں پیدا کرنا، ایمانداری، انسانی مساوات جیسے درس شامل ہونا از حد ضروری ہے۔ مگر جس ملک کی اعلیٰ ترین درسگاہوں میں ہی میرٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہو تو گویا اس کی بنیاد ہی ٹیڑھی رکھی جا رہی ہے۔ ملک میں اعلیٰ و معیاری تعلیم و تحقیق کو رائج کرنا ایک مشکل ترین مرحلہ بن گیا ہے۔ہمارے اربابِ اختیار نے گزشتہ 3دہائیوں سے یونیورسٹیوں کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے یہاں نہ صرف نااہل، ناتجربہ کار افراد کو وائس چانسلر شپ کا علمبردار بنایا بلکہ ان کو اس حد تک پاورز دیں کہ یونیورسٹیز کے قیام کا اصل مقصد ان کے مفادات کی زد میں آ گیا۔ آج یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا عہدہ اس لئے نہیں لیا جاتا کہ یہاں بیٹھ کر تعلیم و تحقیق کے کام کو پروان چڑھایا جائے بلکہ باقاعدہ ایک ریاست کا ملک بننے اور اپنے اختیارات کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کے لئے کے لئے کیا جاتا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ کئی یونیورسٹیز میں تعینات وائس چانسلرز بار بار مدتِ ملازمت میں توسیع لئے جا رہے تھے۔ اس عمل میں بے شمار اہل، قابل اور سینئر اساتذاہ اپنی باری اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کے منتظر ریٹائر ہو چکے ہیں۔ اب ایک بار پھر میرٹ کو نظر انداز کر کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کا مسئلہ اٹھا ہوا ہے۔ پنجاب کی تقریباً تمام ہی بڑی یونیورسٹیز میں سینئر اور اہل اساتذاہ کو نظر انداز کر کے کم اہلیت کے افراد کو تعینات کیا گیا ہے۔ تعلیمی میدان میں میرٹ کی پامالی نے پورے ملک میں تعلیم کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں میں تعینات کئے گئے وائس چانسلرز صاحبان کی تقرریوں یکسر مسترد کرتے ہوئے چار سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی جگہ یونیورسٹیوں کے سینئر ترین پروفیسروں کو قائم مقام وائس چانسلر تعینات کئے جانے کا حکم جاری کرتے ہوئے ان یونیورسٹیوں میں چھ ماہ میں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کا کہا ہے۔ان تقرریوں میں اقرباء پروری اور من پسندی بد ترین صورت میں واضح نظر آئی ہے۔ اس عمل نے پورے نظام کو ہی سبوتاژ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سے نہ صرف وہ متاثر ہوئے جنہیں نظر اندازکیا گیا بلکہ وہ بھی جنہیں میرٹ کو نظر انداز کر کے تعینات کیا گیا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد ہمیں جو لیڈر شپ ملی وہ انتہائی نااہل صلاحیت کی مالک تھی، ان میں سے چند ہی اہل لیڈر شپ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہماری لیڈر شپ نے میرٹ پر محض لفاظی کے سوا کچھ نہ کیا۔ میرٹ کے اس طرح قتل ہونے سے ملک کو بڑا نقصان یہ ہوا کہ اہل اور قابل افراد مایوسی کا شکار ہو گئے اور انہوں نے ملازمت کرنے کی بجائے بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دی چونکہ بیرونِ ملک میرٹ ایک انعام اور قدر کا درجہ رکھتا ہے۔ اس سے بھی برا حال جب ہوتا ہے کہ میرٹ پر آنے والے شخص کے بارے میں یہ خوف ہو جائے کہ یہ اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر کہیں نمایاں مقام نہ بنا لے اور پھر ایسے افراد کا راستہ روکنے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں گویا میرٹ ایک بڑی ڈس کوالیفکیشن بن جاتی ہے۔ میرٹ کے حامل افراد کو دوہری شخصیت اختیار کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے یعنی سینئر کے لئے ایک چہرہ تو ماتحت کے لئے دوسرا چہرہ۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی اہلیت کی بنیاد پر اعلیٰ مقام پر پہنچ پاتے ہیں اور اگر کوئی اعلیٰ مقام حاصل کر بھی لے تو کردار کشی کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی اعلیٰ اہلیت کی حامل شخصیات اپنی پوری صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ نہیں کر پاتیں اور ایسے افراد کو سسٹم سے باہر کر دیا جاتا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ بد قسمتی سے جس طرح دوسرے شعبوں میں ہم وقت کے تقاضے پورے نہیں کر سکے اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی کما حقہ ترقی نہیں کر سکے۔ اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں تعلیم و تحقیق کی بنیاد پراہل اور قابل منتظر اساتذاہ میں سے ان یونیورسٹیز میں نئے وائس چانسلرز کو منتخب کیا جائے اور ماضی کے سفارش اور اقرباء پروری کے کلچر کو دفن کر دیا جائے۔ کہا یہی جا رہا ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کے عہدہ پر تعیناتی کے لئے حکومتِ پنجاب نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات مسترد کر کے اپنی مرضی سے تعیناتیاں کی تھیں۔ پنجاب بھر کی یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کے عہدہ کی تعیناتی کے لئے ایچ ای سی اور ایچ ای ڈی کی جانب سے امیدواروں کی اہلیت کا ایک معیار قائم کیا ہوا ہے مگر حالیہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے مسترد کی جانے والی تقرریوں میں ان شرائط کو یکسر مسترد کر دیا گیا اور وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کو پسند و ناپسند کی بنیاد پر عملی جامہ پہنایا گیا تھا۔ اسی لئے مجبوراً چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کو مداخلت کرنا پڑی کہ وائس چانسلر جیسے اہم عہدے کے لئے سینئر اور عہدہ کی اہلیت رکھنے والے اساتذاہ کو میرٹ کی بنیاد پر تعینات کیا جائے تا کہ نا صرف یونیورسٹیز کو حقیقت میں تعلیم و تحقیق کا مرکز بنایا جائے بلکہ ان کی شہرت کو بھی بلند کیا جائے۔ اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے تعلیمی نظام کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے، معیارِ تعلیم پر خصوصی توجو دی جائے، تدریسی اورا نتظامی شعبوں میں سیاسی تقرریاں بند کی جائیں اور خالصتاً میرٹ پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائے۔


ای پیپر