شیر میسور، سرنگا پٹم کا مردِ آہن ٹیپو سلطان شہید

03 مئی 2018

عبدالستار اعوان

آج 4مئی ہے اورشیر میسور ٹیپو سلطان کا یوم شہادت ہے۔یہ دن اس عظیم حکمران کی یاد دلاتا ہے جس نے فرنگی کو طویل عرصے تک ناکوں چنے چبوائے اور آخر کا ر جب وہ اپنوں کی غداری کے نتیجے میں انگریز کے محاصرے میں آیاتو ہتھیار ڈالنے کے بجائے مردانہ وار لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
ٹیپو کہا کرتاکہ انگریز ایک مکار قوم ہے جو سازشوں کے جال بچھا کر عیاری کے ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ فرنگی ایک ہی فن جانتا تھا کہ بے ضمیر وں کو خرید کر ان سے کام کیسے لینا ہے ۔ پلاسی کی لڑائی میں’کلائیو‘نے میر جعفرومیر قاسم کو خرید کر نواب سرا ج الدولہ کوبیدردی سے شہیدکیا اوربعد میں ٹیپو سلطان کو میر صادق جیسے غدارسے مل کر شکست دی۔
ٹیپوایک عظیم بطل جلیل ، عہد ساز حکمران اورعزم و استقلال کا پیکر شخص تھا جس کی تلوار کی دھاک سے تخت برطانیہ بھی لرزہ بر اندام تھا۔ یہ مرد آہن پورے جنوبی ہندوستان کا مستحکم ترین مسلمان حکمران تھا۔ انگریز نے اسے لالچ دے کر خریدنا چاہا تووہ دوسرے نوابوں کی طرح بکنے کے بجائے انگریز کے خلاف برسرپیکارہوا اور اپنی سرزمین کی جانب اس کے ناپاک قدم کبھی نہ بڑھنے دیے۔
ٹیپو سلطان 20مئی 1750ء کو ریاست میسور کے حکمران حیدر علی کے گھر پیدا ہوا۔اس کا نام ایک بزرگ’ ٹیپو مستان‘ کے نام پررکھا گیا۔ٹیپوکا پورانام ’فتح علی ٹیپوسلطان‘ تھا۔فتح علی انہیں اپنے دادا فتح محمد کی نسبت سے پکارا جاتا ہے۔ ٹیپو کے والد حیدرعلی نے کئی دہائیوں تک جنوبی ہندمیں انگریزکو نہ گھسنے دیا ۔حیدر علی نے ٹیپو کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی اور فوج ، سیاسی و سفارتی امور اور عربی، فارسی، اردو، فرانسیسی، انگریزی سمیت بہت سی زبانوں پراسے مہارت دلوائی۔ ٹیپو نے والد کی وفات کے بعد 1782ء میں ریاست میسور کی حکمرانی سنبھالی اور 17سال تک حکمران رہا۔ہر قسم کی علمی اور سائنسی کتابوں کا مطالعہ خصوصی ذوق تھا۔ سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھا۔ پیدل فوج کو سواروں اور توپ خانوں کے ذریعے جدید اور منظم کیا۔
ٹیپو سلطان جس وقت تخت نشین ہوا اپنے پہلے خطاب میں فرمایا: جب تک میں زندہ رہوں گا میری سانسیں عوام کی خدمت کے لیے وقف رہیں گی۔خدا کی قسم میں دنیا کی کسی بھی طاقت سے نہیں ڈرتا ، اگر کسی شئے سے ڈرتا ہوں تو وہ فقط رب ذ والجلال کی ذات ہے ۔ٹیپونے ریاست میسور کا نام بدل کر ’’سلطنت خدادا د‘‘رکھا۔اس دن سلطان نے اعلان کیا تھا کہ میری سلطنت میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا، کسی کا حق نہیں مارا جا ئے گا۔ہر فریادی کے لیے محل کے دروازے کھلے رہیں گے۔
ریاست میسور ایک مثالی ریاست تھی ۔ بلاتخصیص رنگ ،نسل اور مذہب بوڑھوں ، بیواؤں اور بیماروں تک ماہانہ وظیفہ پہنچتا۔ تعلیم و صحت کی سہولتیں مفت تھیں، اس سنہری دور میں ہندوؤں اور دیگر غیر مسلموں کو تمام مذہبی و سماجی حقوق ان کی دہلیز پر میسر تھے۔
ٹیپو سلطان ہر وقت باوضو رہتا،تلاوت قرآن اس کا معمول تھا ۔ظاہری حاکمانہ نمودو نمائش میں اسے دلچسپی نہ تھی۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتا۔ اسے موت سے محبت تھی ، وہ کہتاکہ ایک مومن کبھی موت سے نہیں ڈرتا۔ وہ گناہوں ، فحش کاموں اور بدکاری سے سخت نفرت کرتا۔ اپنا جسم ہمیشہ ڈھانپ کر رکھتا،اس نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم خواتین کی عزت اور آبرو کی بھی حفاظت کی۔
سلطان نے سرنگا پٹم میں خوبصورت مسجد بنوائی اور اعلان کیا کہ مسجد کا افتتاح وہ شخص کرے گا جس نے زندگی بھر نماز قضا نہ کی ہو ۔کافی دیر تک کوئی بھی شخص آگے نہ آیا تو سلطان خود اٹھ کر آگے بڑھااور کہا‘ خدا کا شکر ہے میری آج تک کوئی نماز قضا نہیں ہوئی ۔پھر والی میسور مسجد میں داخل ہوا ،اذان دی اور جماعت کروا کر مسجد کا افتتاح کیا ۔
ٹیپو سلطان نے انگریز اوراس کے اتحادیوں کو مسلسل ہزیمت سے دوچار کیے رکھا ۔جنرل اسٹیورڈ اور جنر ل لانگ کے فوجی دستے اس کے آگے خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔جرات اور استقامت کے اس امام نے انگریز کے تین بڑے حملے پسپا کیے اور آخر کار میسور کی چوتھی لڑائی میں خون کے آخری قطرے تک انگریز کے آگے سد سکندری بنا رہا ۔ اس آخری حملے میں جب سلطان کی شکست یقینی تھی ایک افسر نے اسے بھاگ جانے کا مشورہ دیا لیکن شیر میسور نے ایسی زندگی پر موت کو ترجیح دی ۔اس موقع پر اس نے تاریخی جملہ کہا کہ:
’’ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے ‘‘۔
سلطان کو جب چہا ر اطراف سے دشمن نے گھیر لیا تو اس نے سرنگا پٹم کے قلعہ میں بند ہو کر کئی روز تک انگریزوں کا مقابلہ کیا اورآخر کار غداروں کی مددسے انگریز قلعہ میں داخل ہو ا۔ تاریخ میں ان غداروں کے نام میر صادق ، پورنیاں، غلام علی اور بدر الزمان ملتے ہیں ۔
شیر میسور نے داد شجاعت دیتے ہوئے کئی انگریزوں کو جہنم واصل کرنے کے بعد سرنگاپٹم قلعہ کے دروازے پر مورخہ4 مئی 1799 ء کو 49 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا ۔اس کی شہادت کے بعد کئی گھنٹے تک انگریز کو اس کے پاس جانے کی جرات نہ ہوئی۔ دوسرے دن سلطان کے ایک وفادار احمد خان نے ملت اسلامیہ کے غدار میر صادق کو بھی واصل جہنم کردیا۔
ٹیپو کا جنازہ اس شان سے سرنگا پٹم کے قلعہ سے اٹھا جیسے وہ آج بھی حکمران ہو۔جنازے میں ہزاروں مسلمان تھے ،اس کی رعایا میں شامل غیر مسلم بھی رو رہے تھے۔ اس دن ابر بھی ٹوٹ کر برسا تھا جیسے وہ بھی سلطان کی موت پر رو رہا ہو۔ قلعہ میں موجود ٹیپو کے پچاس قیمتی شیربھی دھاڑیں مارکر بے چین ہو رہے تھے۔ انگریزوں نے ٹیپو کا جسد خاکی دیکھا تو واشگاف نعرہ لگایا کہ ’’ آج سے سارا ہندوستا ن ہمارا ہے‘‘ ۔
کہاجاتا ہے کہ اگر سلطان کو شکست نہ ہوتی تو آج اس خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔ ٹیپو کے حوالے سے دانش وروں ا ور مورخین کا موقف ہے کہ ایسا بہادر اورجری حکمران مائیں روز نہیں پیدا کرتیں۔ بلاشبہ یہ ٹیپو کے خون کی برکت تھی کہ اس کے بعد بھی انگریز کے خلاف لڑنے والے مجاہد پیدا ہوتے رہے۔ شاہ اسماعیل شہید ،حاجی امداد اللہ ،مولوی احمد اللہ شاہ،احمد خان کھرل ، مراد فتیانہ اور دیگر لاتعداد سرفروشوں نے اس کے مشن کو اپناتے ہوئے انگریز کے خلاف جدو جہد کی ۔ ٹیپو کے متوالوں نے جنگ آزادی1857ء بھی لڑی اور اس قوم کو انگریز سے نفرت کا درس دیا۔
ٹیپو کی شہادت کے بعد انگریزوں نے ریاست بھر میں لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔فوجی دستے سرنگا پٹم کے قلعے میں داخل ہوئے اور خزانہ ایک میدان میں جمع کیا گیا تو فرنگیوں کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ ٹیپو کی تلواریں،خنجر اور نیزے قیمتی یاقوت او ر ہیروں سے مرصع تھے۔
سلطان کی نایاب تلوار جنرل لارڈزولز کو دی گئی،دوسری تلوار جنرل بیرڈ کواور تیسری تلوار جنرل لارڈ کارنولس کو انگلستان بھیجی گئی۔ جنرل ہارس کے حصے میں ایک لاکھ بیالیس ہزار نو سو اشرفیاں آئیں۔باقی ہیرے جواہرات انگریز فوج کے کمانڈر انچیف جنرل لارڈ ہیرس کو بھیجے گئے۔ سلطان کا وہ بے مثال تخت جو سونے کے چار شیروں کی پشت پر کھڑا تھا اس کے ٹکڑے کر کے فوجی ا فسروں میں تقسیم کر دیا گیا۔
برٹش میوزیم میں ٹیپو سلطان کی تلواریں آج بھی محفوظ ہیں ۔ صحافی اعجاز شیخ لکھتے ہیں کہ وہ لندن میں واقع میوزیم میں گئے اور ٹیپو کی تلوار دیکھنے کی خواہش کی اور گیٹ پر کھڑے انگریز سے تلوار کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا :’’You Mean Great Soldier‘‘کیا آپ اس عظیم سپاہی کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔
انگریزوں کی جانب سے اپنے سب سے بڑے دشمن کو یوں خراج تحسین پیش کرنا دلیل ہے کہ ٹیپو کی شجاعت اور فراست آج بھی اس کے دل میں بیٹھی ہوئی ہے ‘‘۔انگریز آج بھی ا پنے اس بہادر دشمن پر ناز کرتا ہے ۔بس مسلمانوں نے اپنے اس عظیم ہیروکو فراموش کردیا ہے ۔ٹیپوکے بعد انگریز نے جس طرح اس خطے پر اپنے قدم جمائے ہم آج بھی اس کے خطرناک اثرات بھگت رہے ہیں۔ آج بھی فرنگیوں کی وہی بساطِ سیاست ہے ، وہی مہرے ہیں وہی چالیں ہیں۔آج بھی ملت اسلامیہ میں نہ جانے کتنے ہی میر جعفر و میر صادق چھپے ہوئے ہیں جواسے مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔

مزیدخبریں