ووٹر کو عزت دو
03 مئی 2018 2018-05-03



پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق صدر میاں نواز شریف بازار سیاست میں آ ج کل ایک اور بیانیہ اٹھائے کھڑے ہیں۔ لگتا ہے اس بار بیانیہ اتری ہوئی شیروانی سے نکلا ہے جسے وہ غریب عوام کی پھٹی ہوئی ’’بنیان‘‘ سے جوڑنے کی ناکام سازش کر رہے ہیں۔
نئی ڈبیا میں پیک اس پرانے بیانیے کو جب ہم نے عوام کے سامنے کھولا تو قوم کا ردعمل قابل ذکر پایا جسے میں آج کے کالم میں پیش کرنا چاہوں گا۔ یاد رہے کہ ہم نے یہ سروے وطن عزیز کے ان علاقوں میں کیا جہاں سے سابقہ ’’ن‘‘ اور موجودہ ’’ش‘‘ لیگ 2013ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے فاتح قرار پائی۔
ووٹ کو عزت دو یا ووٹر کو ووٹ دینے دو ۔ سادہ لوح عوام کے تاثرات کی لمبی فہرست میں اپنے قارئین کے گوش گزار کرنا چاہوں گا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ پہلے ووٹر کو عزت دو ، ووٹر کو جینے دو ، کھانے کو روٹی دو ، ہنڈیا میں سالن دو ، چولہے کو جلنے دو ، پہننے کو کپڑا دو ، رہنے کو چھت دو ، نلکے میں صاف پانی دو ، پائپ میں گیس دو ، بجلی پانی کا بل دو ، چینی سستے دام دو ، آٹا دالیں، سبزی چاول غریبوں کی پہنچ میں دو ، بچوں کا دودھ دو ، ڈائپر دو ، دلیہ دو ، گھروں میں راشن دو ، ملاوٹ سے پاک دو ، بچوں کی فیس دو ، طلبہ کو پڑھنے دو ، پٹرول سستادو، بے روزگاروں کو مستقل روزگار دو ، بالغوں کو پلاٹ دو ، لیپ ٹاپ ضرورت مندوں کو دو ، مریضوں کو علاج دو ، ہر جگہ ہسپتال دو ، پارکس بھی بنوا دو ، گھروں اور کارخانوں میں بجلی دو ، بزرگوں کو سکون دو ، بغیر لائن کے پنشن دو ، اساتذہ کو احترام دو ، ڈاکٹروں کو سہولیات دو ، نرسوں کو عزت دو ، فوج کو سلامی دو ، ججوں کو تعظیم دو ، خواتین کے حقوق دو ، معاشرے میں اَمن دو ، فضا خوشگوار دو ، کرپشن کو اکھاڑ دو ، معاشی استحکام دو ، امراء کو شرم دو ، ’غرباء کا بھرم دو ، جہیز ’’عام معاف‘‘ کردو، آنکھوں میں حیا دو ، کردار با صفا دو ، سرکاری افسران کو ’’مت‘‘ دو ۔ علاقائی رہنماؤں کو حوصلہ دو ، دہشت گردوں کو پھانسی دو ، سہولت کاروں کو بھی لٹکا دو ، بھارت کی گردن توڑ دو ۔ ظالمو، ڈاکوؤ چورو تم حساب دو ، قتل کا قصاص دو ، مظلوموں کو انصاف دو ، چودھریوں کو لگام دو ، مزدوروں کو آرام دو ، قرضوں سے نجات دو ، قوم کو مراعات دو ، کراچی کی روشنیاں بحال کر دو ، پشاور کو دہشت گردی سے پاک کر دو ، جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ دو ، ریلوے کو چلنے دو ، پی آئی اے کو اڑنے دو ، اداروں کو کام کرنے دو ، کوڑا کرکٹ ہٹا دو ، ماحول مصفا دو ، ترقی کی ضمانت دو ، CPEC کو تحفظ دو ، پولیس نیک نیت دو ، سکھ کا سانس دو ، کوئی ڈیم بھی بنا دو ، بحرانوں سے نکال دو ، سفارشی بھگا دو ، بھتہ خوری مٹا دو ، مافیا کو خوب ’’رگڑا‘‘ دو ، سرمایہ دار تم احتساب دو ، لوٹوں کو جگہ نہ دو ، وڈیروں کو خوف خدا دو ، سزائیں سر عام دو ، صاف شفاف نظام دو ، بجٹ ٹیکس فری دو ، یکساں تعلیمی مواقع دو ، غریب دوست پالیسیاں دو ، نسلیں سنوار دو ، کسانوں کو بچت دو ، پھولوں کو مہکنے دو ، پھلوں کو پکنے دو ، کھیتوں کو پھلنے دو ، مٹی سونا اگلنے دو ، خوشیاں بے بہا دو ، ہماری مانگیں پوری کر دو ۔
اب نواز شریف کو سوچنا ہو گا کہ عوام کی خدمت ذاتی اور خاندانی مفادات سے بالا تر چیز ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جو عوام میں شعور کی شمع روشن کرنے میں کردار ادا کر گئے۔ سابق وزیراعظم صاحب! ووٹ کو عزت دینے کے حقیقی معنی ووٹر تک بنیادی سہولیات زندگی بآسانی فراہم کرنا ہے اور اس عمل کو خدمت جان کر کرنا ہے نہ کہ جھوٹی شہرت کے نقارے بجانے کا ذریعہ بنانا۔ اگر آپ نے ووٹ کو عزت دی ہوتی تو آپ کو آج ’’ووٹ کو عزت دو ‘‘ کی غیر یقینی مہم نہ چلانا پڑتی۔ ووٹ کے ذریعے طاقت حاصل کرنے کی بجائے ووٹر کو طاقتور بنایا ہوتا تو آج آپ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوتے۔ یوں رسوا ہو کر جی ٹی روڈ پر خوار نہ ہونا پڑتا۔
آپ نے نہ کبھی ووٹر کو عزت دی، نہ ووٹ کو ، نہ کسی آئینی اور جمہوری ادارے کو ۔۔۔ ایسے میں آپ کی اس مہم کے جھانسے میں کون آئے گا؟ عوام کو اپنے مسائل سے سروکار ہے نہ کہ اب ایسی کسی سیاسی چال سے۔۔۔ جو شخص deliver کرے گا وہی شخص ووٹ کو عزت دے رہا ہے۔ ووٹر بے چارہ بے عزت ہی ہوا جب بھی ہوا۔ بے توقیری اس کا مقدر ٹھہری جب بھی ٹھہری، ووٹر کو ہمیشہ دھوکہ ہی ملا جب بھی ملا۔ کبھی قرض اتارو ملک سنوارو کا دھوکہ، کبھی کشکول توڑنے کا دھوکہ، کبھی جمہوری انتقام کا دھوکہ، کبھی پنجابی ’’پگ‘‘ پر داغ کا دھوکہ ، کبھی اندھیرے مٹانے کا دھوکہ، تو کبھی پاکستان کو بدلنے کا دھوکہ ملا۔
قوم پوچھ رہی ہے کہ ان سب پچھلے رومانوی اور انتقامی نعروں کا کیا بنا جو آپ آج ایک نیا بیانیہ لے آئے ہیں۔ میاں صاحب! تھر میں بچے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں، پنجاب میں حاملہ خواتین ہسپتالوں کے باہر بچے پیدا کرنے پر مجبور ہیں، بلوچ آج بھی ناراض ہیں، ہمسایہ ممالک آنکھیں دکھاتے ہیں۔ تین دہائیاں پہلے جو مسائل تھے وہ حل ہونے کے بجائے مزید بدتر ہو گئے ہیں۔ آپ خود کو قومی لیڈر گردانتے ہیں۔ قوم پوچھ رہی ہے کہ آپ کی کارکردگی کیا ہے؟
عوام کے تو بہت سے مسائل ہیں جو ختم ہونے کو ہی نہیں آ رہے۔ بڑے، بہت بڑے، پیچیدہ اور چھوٹے چھوٹے مسائل، معاملات، مطالبات اور خواہشات ہونے کے باوجود غربت میں پستے ہوئے لوگ ہلکے پھلکے جذبات بھی رکھتے ہیں اور کیا ہی معصوم انداز میں آپ کے اس بیانیے کا جواب مانگ رہے ہیں کہ قیمے والا نان دو ، پلیٹ بھر بریانی دو ، نالی پکی کروا دو ، ٹرک ڈرائیوروں کو چائے دو ، پٹھانوں کو نسوار دو ، لاہوریوں کو اصل ’’بکرا‘‘ دو ، مولویوں کو روپیہ دو ، صحافیوں کو لفافے دو ، کپڑوں کی سلائی دو ، موٹاپے سے نجات دو ، میک اَپ کِٹ مفت دو ، ساس بہو بِھرنے دو ، کتوں کو بھگا دو ، مرغوں کو لڑا دو ، چوہوں کو مروا دو ، کنوارے کو ’’ویاہ‘‘ دو ، عروج کو ’’زوار ‘‘ دو ، پانڈے کلی کروا دو ، بھینسوں کو چارہ دو ، نشئی کو سوٹا دو ، چرسی کو پوڈر دو ، حقہ گڑگڑانے دو ، تاش، گٹکا، پان دو ، پٹواریو اب بس کر دو ، کام پر دھیان دو ، زبان کو لگام دو ، ہماری جان چھوڑ دو ، چین سے مرنے دو ۔


ای پیپر