عمران خان کی مسلسل جدوجہد!
03 مئی 2018 2018-05-03

لاہورمیں مینارپاکستان میں پی ٹی آئی کے جلسے کو ”جلسوں کی ماں“ کہنے والے ہر گز غلط نہیں۔ یہ بھی درست ہے اِس جلسے نے پی ٹی آئی خصوصاً عمران خان کو صرف اِن جلسوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، جلسے تو سیاسی چوروں اور ڈاکوﺅں کے بھی بہت بڑے بڑے ہورہے ہیں۔ گو کہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پوری طاقت سے قائم دائم ہے کہ ”نااہل سرکاری سیاستدان“ اپنے جلسوں میں لوگوں کو لانے کے لیے ہرلحاظ سے حکومتی ذرائع کا بھرپور استعمال کرتے ہیں، جبکہ عمران خان کے جلسوں میں لوگ خود آتے ہیں، مگر اِس کے باوجود صرف بڑے جلسے کرنے سے اقتدار حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اِس کے لیے بڑی محنت کی ضرورت ہے۔ خصوصاً گندی سیاست کے بانیوں سے نمٹنے کے لیے خاص طرح کی حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو وہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکیں گے جس سے اقتدار کی منزل آسان ہو جائے۔ پی ٹی آئی میں نچلی سطح پر رہنماﺅں کے آپس میں اختلافات پارٹی کو بہت نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اِس سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ البتہ مینار پاکستان لاہور کے جلسے میں جتنی بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی اُس سے احساس ہورہا تھا پی ٹی آئی کے رہنماﺅں نے اس جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے ذاتی اختلافات کو ایک طرف رکھ دیا تھا۔ ایسے ہی ملک کو کامیاب بنانے کے لیے بھی اُنہیں ذاتی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے، عمران خان کی طویل جدوجہد سے اِس ملک اور اِس کے مظلوم عوام کو سیاسی فرعونوں ، چوروں اور ڈاکوﺅں سے نجات ملتی ہوئی دِکھائی دے رہی ہے۔ اُن سے مستقل نجات کے لیے مزید جدوجہد کرنی پڑے گی اور اِس کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے پی ٹی آئی کے تمام رہنما بلکہ اِس ملک سے محبت کرنے والا ہرشخص ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر ایسے شخص کا ساتھ دے جس کی دیانتداری اور اہلیت کا اعتراف اُس کے دُشمن بھی کرتے ہیں، عمران خان پاکستانی تاریخ کا واحد سیاستدان ہے بغیر کسی اقتدار کے جس کی سیاسی جدوجہد کا عرصہ بائیس برسوں پر محیط ہے۔ پی ٹی آئی کی بنیاد 25اپریل 1996ءکو رکھی گئی تھی۔ سیاستدان اقتدار کے بغیر بس دوچار برس ہی نکال سکتے ہیں۔ اُس کے بعد تھک ہارکر بیٹھ جاتے ہیں۔ عمران خان نے ایک منفرد مثال قائم کی ۔ وہ تھکا ہے بکا ہے نہ جھکا ہے۔ انتہائی مستقل مزاجی کے ساتھ ملک کو ناقص سیاستدانوں سے نجات دلانے کے لیے اُس کی کوششیں انتہائی قابل قدر ہیں۔ اِس حوالے سے پوری دنیا اُس کی مداح ہے۔ پاکستان میں بھی کروڑوں عوام اُس کے ساتھ ہیں، اور جس روز میرے عزیز بھائی داﺅد غزنوی کی بھرپور کوششوں کے نتیجے میں بیرون ملک بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو ووٹ کا حق حاصل ہوگیا عمران خان قومی اسمبلی میں دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کرلے گا۔ اور یہ پاکستان کے مقدربدلنے کا آغاز ہوگا ۔ اِس وقت حالت یہ ہے صرف تاحیات اور واہیات نااہل سیاستدان ہی نہیں ہروہ شخص عمران خان سے خوف زدہ ہے اِس ملک کو لُوٹنے میں جس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اور تو اور عمران خان کی اپنی جماعت میں بھی یہ خوف موجود ہے کہ وہ اقتدار میں آگیا اپنی جماعت کے چوروں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ سو اِن حالات میں اُس کی جماعت میں بھی بے شمار ایسے لوگ ہیں جو خوشی سے نہیں کسی نہ کسی مجبوری کے تحت اُس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اور عمران خان بھی خوشی سے نہیںکسی نہ کسی مجبوری کے تحت ہی اُن کا ساتھ قبول کررہا ہوگا،.... میں عمران خان کے مینار پاکستان لاہور میں ہونے والے جلسے کی بات کررہا تھا ، اِس جلسے نے نون لیگ کی پریشانیوں میں مزید کئی گنا اضافہ کردیا ہے جس کے بعد اُمید ہے اُن کے کئی ”گناہ“ مزید بڑھ جائیں گے۔ عمران خان کی مخالفت اور دُشمنی میں وہ کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔ عمران خان سے محبت رکھنے والے ایسے ہی اُسے اِس بات پر مجبور نہیں کرتے کہ اپنی سکیورٹی کو وہ نظرانداز نہ کیا کرے۔ کیونکہ اُس کا مقابلہ بڑے گھٹیا دُشمنوں سے ہے۔ جو اپنی
دولت اور اقتدار بچانے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اُن کی دولت میں اُن کی جان ہے۔ عمران خان اُن کی جان نکالنے پر تُلا ہوا ہے۔ اگلے روز میرے ساتھ ون ٹو ون ملاقات میں اُس نے اپنے اِس جذبے کا اظہار کیا کہ” اُس کی جدوجہد کا مقصد صرف کرپٹ حکمرانوں یا سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈالنا نہیں، اُس کی اصل جدوجہد کا مقصد یہ ہے لُوٹا ہوا پیسہ واپس لایا جائے “ ....میرے خیال میں یہی اصل جدوجہد ہے جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکا تو محض بددیانت سابق حکمران اعظم کو جیل میں ڈالنے کا کوئی فائدہ ملک کو نہیں ہوگا۔ اُلٹا وہ ہیروبن جائے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کا المیہ ہی یہی ہے۔ کرپشن کیسز میں بھی اندر جانے والا خود کو ہیرو قرار دے رہا ہوتا ہے اور اُس سے بڑا المیہ یہ ہے بے شمار لوگ اپنی جاہلیت کی بنیاد پر اُسے ہیرو تسلیم کرنے کے لیے تیار بھی ہوجاتے ہیں۔ میں نے عمران خان سے کہا ”ہمارے قانون کے مطابق چوری یا ڈاکے کی سزا ظاہر ہے موت تو نہیں ہے“۔ جہاں تک لاہور میں مینار پاکستان کے جلسے کا تعلق ہے میرے خیال میں یہ جلسہ خود عمران خان کی اُمیدوں سے بڑھ کر ہوا۔ میں نے یہ جلسہ دبئی میں اپنے دوستوں کینیڈا سے دبئی آئے ہوئے برادرم ساجد سیال، برادرم اے ڈی ملک، عزیزی فرحان یونس اور سنگاپور سے کاروباری سلسلے میں دبئی آئے ہوئے اپنے دوستوں نعیم ظفر اور کلیم ظفر کے ہمراہ ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ اِس جلسے میں صرف اندرون ملک سے نہیں بیرون ملک سے بھی بے شمار لوگ شریک ہوئے۔ دبئی میں مقیم میرے بے شمار دوست صرف اس جلسے میں شرکت کے لیے پاکستان چلے گئے تھے۔ وہ حیران تھے میں دبئی کیوں آگیا ہوں جبکہ مجھے جلسے میں ہونا چاہیے تھا۔ اِس کے علاوہ سنگاپور، ملائیشیا، کویت اور سعودی عرب سے بھی بے شمار ایسے دوستوں اور عزیزوں کو میں جانتا ہوں جو صرف اِس جلسے میں شریک ہونے کے لیے لاہور تشریف لائے اور اگلے روز واپس چلے گئے۔ اِن میں سے ایک دوست سے میں نے پوچھا آپ اتنی دور سے صرف اِس جلسے میں شرکت کے لیے آئے ،جلسہ تو آپ ٹی وی پر بھی دیکھ سکتے تھے جیسا کہ دبئی میں ہم دوستوں نے ٹی وی پر دیکھا۔ وہ کہنے لگا ” میں اصل میں “ دو نہیں ایک پاکستان ”کے لیے عمران خان کی عملی جدوجہد کا حصہ بننا چاہتا تھا جو محض ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر نہیں بنا جاسکتا تھا۔ (جاری ہے)


ای پیپر