Nai Baat Magazine Report
03 مارچ 2021 (15:34) 2021-03-03

جبران علی

موسم سرما میں کے2 کی چوٹی سرکرنے کی کوشش کے دوران لاپتا ہونے والے کوہ پیماؤں محمد علی سد پارہ، جان اسنوری اور جان پابلو مہر کی موت کی سرکاری طور پر تصدیق کردی گئی ہے۔لاپتا کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجا ناصر علی خان نے محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ اور دیگر کوہ پیماؤں کے اہلِ خانہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ محمد علی سدپارہ اور دیگر کوہ پیمائوں کی لاش مل گئی ہے یا نہیں؟

یاد رہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جان پابلو موہر سے اس وقت رابطہ منقطع ہوگیا تھا جب انہوں نے 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب بیس کیمپ تھری سے کے-ٹو کی چوٹی تک پہنچنے کے سفر کا آغاز کیا تھا۔پریس کانفرنس کے دوران علی سد پارہ کے بیٹے نے کہا کہ مجھے اور کئی انٹرنیشنل کوہ پیماوں کو یقین ہے کہ انھیں کے ٹو سر کرنے کے بعد واپسی پر حادثہ پیش آیا اور جس بلندی پر ممکنہ حادثہ ہوا تھا وہاں چند گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خاندان، پوری پاکستانی قوم اور ہمارے کوہ پیما دوست مسلسل صدمے اور تکلیف کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کی محبت میرے خاندان کے لیے انتہائی حوصلے اور ہمت کا باعث بنی، میرا خاندان انتہائی شفیق باپ سے محروم ہوگیا ہے۔ساجد سدپارہ نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم سبز ہلالی پرچم سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے محب وطن قومی ہیرو سے اور دنیا ایک بہادر اور با صلاحیت مہم جو سے محروم ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں ہم سب ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں گے، میں اپنے والد کے مشن کو جاری رکھوں گا اور ان کے ادھورے خواب پورے کروں گا۔ 

ساجد سد پارہ نے بتایا کہ علی سدپارہ نے انتھک محنت، بہادری اور ہنر مندی سے 8 ہزار میٹر سے بلند 8 چوٹیاں سر کیں۔ساجد سد پارہ نے کہا کہ ان کے والد نے نہ صرف نانگا پربت کو پہلی بار سردیوں میں سر کر کے ورلڈ ریکارڈ بنایا بلکہ انہیں نانگا پربت کو چاروں موسموں میں سر کرنے کا ریکارڈ بھی انہیں حاصل ہے۔ ساجد سد پارہ نے لاپتا کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے کی کوششوں پروزیر اعظم عمران خان، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ دیگر سول اور عسکری حکام کے ساتھ ورچوئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ ساجد سد پارہ نے بتایا کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں تمام دستیاب وسائل استعمال اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ساجد سد پارہ نے کہا کہ علی سدپارہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے عالمی معیار کا ایک کلائمبنگ اسکول تعمیر کرنا چاہتے تھے، انہوں نے وزیر اعظم اور چیف آرمی سٹاف سے علی سدپارہ کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے مدد کرنے کی اپیل کی۔ان کا کہنا تھا کہ علی سدپارہ ہمیشہ انتہائی بلندی پر رہنا چاہتے تھے اور کیٹو نے انھیں ہمیشہ کے لیے اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔

غیر ملکی کوہ پیماؤں کے اہل خانہ کا بیان پڑھتے ہوئے ایک نمائندے نے کہا کہ تینوں مضبوط کوہ پیما سردیوں کے موسم میں کے ٹو سر کرکے تاریخ رقم کرنے کی خواہش، صلاحیت اور عزم رکھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جان سنوری سے ٹیلی فون پر ہونے والے آخری رابطے کی بنیاد پر ہمیں یقین ہے کہ تینوں افراد نے کے ٹو سر کیا اور واپسی میں کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آیا۔بیان میں انہوں نے کہا کہ 'جان سنوری کے اہل خانہ نے پاکستانی، چلی اورآئس لینڈ کے حکام کی جانب سے ان کے پیاروں کی تلاش کے لیے بھرپور کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انہوں نے تلاش کا عمل وسیع کیا اور اس کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی غیرمعمولی تھی اور امید ہے کہ مستقبل میں کوہ پیماؤں کی سیفٹی کے لیے بہتری لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں پاکستان کی فوج نے انتہائی تعاون کیا اور تمام وسائل کے ساتھ ساتھ افرادی قوت بھی فراہم کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کے عظیم لوگوں کو ہم علی سدپارہ، جان سنوری اور پابلو کا خیال رکھنے پر شکریہ کہتے ہیں، علی، جان اور پابلو کے درمیان دوستی کو ہم عزیز رکھیں گے۔

اس موقع پر گلگت بلتستان کے صوبائی وزیر نے علی سدپارہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے علی سدپارہ اور ان کے بیٹے کا نام سول اعزاز کے لیے تجویز کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کے لیے مالی پیکیج اور بچوں کو اسکالرشپ کا اعلان کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے سکردو ایئرپورٹ کا نام محمد علی سدپارہ ایئرپورٹ میں تبدیل کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ شگر میں کو پیمائی کے اسکول کو سدپارہ منسوب کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے محمد علی سدپارہ، چلی کے جان پابلو مہر اور آئس لینڈ کے جان اسنوری موسم سرما کے دوران کے2 کی چوٹی سر کرنے کے مشن کے دوران 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب لاپتا ہوگئے تھے۔تینوں کوہ پیماؤں کو آخری مرتبہ کے2 کے مشکل ترین مقام بوٹل نیک پر دیکھا گیا تھا، جس کے بعد سے موسم کی خراب صورتحال ان کی تلاش اور ریسکیو کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹ بنی رہی۔

محمد علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ بھی 'بوٹل نیک' (کے ٹو کا خطرناک ترین مقام) کے نام سے مشہور مقام تک ان تینوں کوہ پیماؤں کے ہمراہ تھے لیکن آکسیجن ریگولیٹر میں مسائل کے سبب کیمپ 3 پر واپس آئے تھے۔تینوں کوہ پیماؤں کا 5 فروری کی رات کو بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہوا اور ان کی ٹیم کو جب ان کی جانب سے رپورٹ موصول ہونا بند ہوگئی تو 6 فروری کو وہ لاپتا قرار پائے تھے۔

بعدازاں کوہ پیماؤں کا سراغ لگانے کے لیے فضائی اور زمینی سطح پر متعدد کوششیں کی گئی جو کہ خراب موسم کے باعث ناکام ثابت ہوئیں۔14 فروری کو تلاش کے مشن نے انکشاف کیا تھا کہ ایس اے آر ٹیکنالوجی کے استعمال، اسناد و اوقات کا جائزہ لینے اور سیٹیلائٹ تصاویر کا معائنہ کرنے کے بعد جو سراغ ملے تھے وہ ایک سلیپنگ بیگ، پھٹے ہوئے ٹینٹس یا سلیپنگ پیڈز نکلے اور ان میں سے کچھ بھی لاپتا کوہ پیماؤں سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔

اس سے قبل 24 جنوری کو محمد علی سدپارہ، ساجد علی سدپارہ اور جان اسنوری نے کو کے -ٹو سر کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا لیکن 25 جنوری کی دوپہر کو 6 ہزار 831 میٹرز پر پہنچنے کے بعد موسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے انہوں نے مہم چھوڑ کر بیس کیمپ کی جانب واپسی کا سفر شروع کیا تھا اور فروری میں دوبارہ کے-ٹو سر کرنے کی مہم کا اعلان کیا تھا۔


ای پیپر