عود نگر
03 مارچ 2020 2020-03-03

نعت کہنا اگر سنت ِ اصحابِ رسولؐ ہے تو نعت سننا سنت ِ رسول کریمؐ ہے۔ بحکمِ نبویؐ اصحابِ ذی مقام نے نعت کہی، حضرت حسان بن ثابتؓ بعد از اعلان ِ نبوت پہلے ثنا خوان ِ رسول ؐہیں ، یوں بعد میں آنے والے تمام ثناخوانِ مصطفی کے امام ہیں۔ رسالت مآبؐ نے حضرت حسانؐ کو منبر پر بٹھایا اور خود اصحاب ذی وقار کے ہمرا ہ بیٹھ کر نعت سماعت فرمائی۔ مبارک ہیں ‘وہ اُمتی شہ والاؐ کے حضور نعت کہتے ہیں، نعت سنتے ہیں… اور یوں اپنے ایمان درجۂ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ زہے نصیب !ایک مجموعۂ نعت کے قارئین میں یہ خاکسار بھی شاملِ حال ہوا، میری خوش نصیبی کہ اِن اوراقِ نعت پر تبصرہ کرنے کیلئے مجھے کہا گیا۔ ایں سعادت بزورِ بازو نیست۔

جسٹس(ر) میاں نذیر اختر صاحب کا مجموعۂ حمد و نعت’’ عود نگر‘‘میرے سامنے ہے، یہ نام ہی ایسا خوشبودار ہے جو تخیل کو یک قلم جولانی دینے کیلئے کافی ہے۔ درودیوارِطیبہ میں ’’العود العربیہ‘‘ کے سامنے سے گزرنے والے زایرین اس عنوان کی نزاکت سے بخوبی واقف ہیں، انتہائی قیمتی عطر ’’ عود‘‘ راہ چلتے زائرین کی ہتھیلیوں کو بارہا خوشبودار کرتا ہے۔’’ عود نگر‘‘ کے اوراق جیسے جیسے اُلٹتے جاتے ہیں ، رقت سے میرا دل اُلٹ پلٹ ہوا جاتا ہے۔ میان نذیر اختر کے اشعار قیل و قال کے قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے۔ وہ صاحب ِ نسبت ہیں اور راہِ سلوک کے مسافروں میں سے ہیں، اس لیے اُن کی شاعری پر قال سے زیادہ حال غالب ہے۔ اک سالک کا کلام آپ بیتی ہوتی ہے یا پھر جگ بیتی… وہ سنی سنائی قافیہ پیمائی نہیں کرتا۔ یہاں بھی ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مقصدیت فن پر غالب ہے، پیغام کی ترسیل ترجیحِ اوّل ہے۔ ہر دوسراشعر ایک لمحے کیلئے ٹھہرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ قدم قدم پر مقصد کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ گو پیرایہ نظم کا ہے لیکن بین السطور ایک مبلغ اور داعی کی مساعی دکھائی دیتی ہیں۔

جسٹس (ر) میاں نذیر اختر ناموسِ رسالتؐ اور تحریک ختمِ نبوتؐ کے کاروان کے ہراول دستوں کی سپہ سالاری کر چکے ہیں، پیغامِ ختم نبوتؐ اِن کی رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہے، اِن کا اٹھنا بیٹھنا اسی مشن سے عبارت ہے۔ بسا اوقات تعقل پرست دوست انہیں ’’سخت گیر‘‘ گردانتے ہیں لیکن یہی سخت رویہ دراصل ’’اشداء علی الکفار‘‘ کی ایک عملی صورت ہے۔ جہاں دشمنانِ دین و دین پناہؐ اِن کے چشمِ تصور میں آتے ہیں، وہاں ان کے اشعار میں ایک للکار کی کیفیت واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اِن کی شاعری غزل سے نکل کر نظم میں داخل ہوتی ہے اور رسمیہ کی بجائے رزمیہ انداز اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ میاں صاحب سوشل میڈیا اور مروجہ نمود نمائش والے ماحول سے قدرے فاصلے پر رہنے کے عادی ہیں، ان کی مساعی ٔجلیلہ پس ِ پردہ اکٹھی ہوتی جارہی ہیں، جب پردہ اٹھے گا تب مخلوقِ خدا کی آنکھیں کھلیں گی۔ ایک قبول یافتہ سالک کی یہی نشانی ہے، اِسے قبل از وقت مقبول نہیں کیا جاتا۔ اِمسال زیارت حرمین شریفین میں اِس خاکسار کو اس یگانہ روزگار محب رسولؐ کی ہمراہی کا شرف حاصل ہوا، جہاں اِن کے ذاتی کردار کے جوہر کھلے ‘وہاں جوہرِ فکرو سخن بھی خوب کھلتے چلے گئے۔ ہر گام پر فی البدیہہ اشعار سننے کو ملتے رہے، ہر کیفیت پر ایک نعت کا شعر بطور ضیافت سماعت کے پردوں پر جلترنگ بکھیرتا، غرض ان کی سنگت میں سفرِ طیبہ کا لطف ووبالا ہو گیا۔ نعت گوئی میں لفظوں کی باادب نشست وبرخاست میں حد درجہ احتیاط کے قائل ہیں،مدینہ طیبہ میں ایک مرتبہ کہنے لگے ‘ نعت کے ایک شعر میں لفظ "مجنونِ مدینہ" استعمال کیا ہے، اس لفظ میں کہیں بے ادبی کا شائبہ تو نہیں؟ میں نے بڑی مشکل سے قرآن و سنت کے حوالے دے کر قائل کیا کہ یہ لفظ مستعمل ہے، بے فکر ہو جائیں۔ تصنیف اور مصنف دونوں سامنے ہوں تو تبصرہ مبنی بر انصاف ہوتا ہے… یوں بھی جسٹس صاحب کے ساتھ جسٹس ہی روا ہے۔

میاں نذیر اختر بنیادی طور غزل کے شاعر ہیں، اپنے چیمبر میں مشاعرے منعقد کرواتے، اِن مشاعروں کا ایک حصہ نعتیہ شاعری کیلئے وقف ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اُن پر یقیناً خصوصی کرم ہواہے ، اُن کے مرشد حضرت سید رجب علی قادریؒ کی نگاہِ التتفات ہو گئی کہ یہ عمومی شاعری سے تائب ہو کر بتدریج نعتیہ شاعری میں داخل ہو گئے۔ غزل کا مطلب اگر محبوب کی باتیں کرناہے تو کیوں نہ محبوبِ حقیقیؐ کی باتیں کی جائیں۔ مجاز سے حقیقت کا سفر خال خال لوگوں کا نصیبہ ہے۔ میری دانست میں میرے ممدوح نصیبے والے ہیں۔ نعت ظاہر و باطن کو کیسے معطر کرتی ہے‘ اس کی چشم دید گواہی دینے کیلئے میں تیار ہوں، کیونکہ میں اِن سے مل چکا ہوں، نعت گوئی سویا ہوا نصیب کیسے جگاتی ہے‘ اس کا تذکرہ اِن کی ایک نعت میں یوں پڑھنے کو ملا:

کرے ہے یاوری قسمت ،کہو، سنو۔ نعتیں

نصیب سوئے جگاتی ہے نعتِ پاکِ رسولؐ

دورِ نبویؐ میں بحکمِ نبی آخرالزمان حتم الرسلؐ ختمی مرتبت نعت گوئی کا آغاز کیسے ہوا، حضرت حسان بن ثابت ؒکو یہ اعزاز کیسے حاصل ہوا، اس واقعے کی تفصیل بھی شعروں کی صورت میں قلم بند کی ہے:

یہ سن کے اجازت ملی فرمانِ نبیؐ سے

آغاز ہوا نعت کا فرمانِ نبیؐ سے

عشاقِ نبیؐ کہتے ہیں سب نعتِ نبیؐ

اعزاز ملا اْن کو بھی فرمانِ نبیؐ سے

جن کی نعت قال کی بجائے حال ہوتی ہے‘ وہ سوئے مدینہ و نجف رخ کرتے ہیں اور وہیں عرضِ حال بیان کرتے، اپنی اور اپنے وطن کی افتاد کی بابت استغاثہ بیان کرنا بھی انہی کا خاصہ ہے۔ 8 اکتوبر 2005ء میں قیامت خیز زلزلے کے پْر مہیب موقع پر بارگاہِ نبویؐ میں جسٹس صاحب استغاثہ پیش کرتے ہیں اور نگاہِ کرم کی التجا کرتے ہیں، یہ اُن کی نعت 27 رمضان المبارک 2005ء میں ان کے گھر تمازِ تراویح کے موقع پر پڑھی گئی، اس فدایانہ انداز پر دل

و جاں فدا ہوئی جاتی ہے:

بنی ہے صبح رمضاں شامِ حرماں یا رسول اللہ

ہوئے اہلِ وطن ہر سمت گریاں یا رسول اللہ

بیاں لفظوں میں ہو سکتا نہیں منظر تباہی کا

ہوا میرا وطن برباد و ویراں یا رسول اللہ

کرم کی ہو نظر ، ساری خزائیں دور ہوں

پھر آئے ملک میں فصلِ بہاراں یا رسول اللہ

بحمد للہ! جسٹس صاحب کی حبِ رسولؐ کی ایک جیتی جاگتی روشن دلیل یہ بھی ہے کہ انہیں موئے مبارک عطا ہوا ہے۔ موئے مبارک عطا ہونے کا واقعہ بھی انہوں نے نعت کی صورت میں قلم بند کیا ہے، ایک ہی بحر میں تین نعتوں میں موئے مبارک کی توصیف باکمال یوں بیان کی گئی ہے۔

صد شکر عطا مجھ کو ہوا موئے مبارک

ہے باعثِ صد لطف ملا موئے مبارک

میں طالبِ یک ذرۂ فردوسِ مدینہ

جاگا جو نصیبہ تو ملا موئے مبارک

سرکارؐ کی سنگت میں گئے عرشِ بریں پر

رکھتے ہیں عجب شانِ عْلا موئے مبارک

ہے آیۂ لولاک کے مفہوم میں داخل

اللہ نے دی تجھ کو بقا موئے مبارک

تعقل پرست معجزاتِ نبیؐ کا انکار کرتے ہیں، اُن پر بھی اِس مردِ جری کا وار کاری ہے، معجزات نبیؐ کے حوالے سے ایک مکمل نظم یہاں شامل ِ دفتر ہے۔

ان کے ہاں اشعار میں جابجا قرآن و حدیث کا مکمل حوالہ موجود ہے، اور یہ حوالہ جات حواشی میںرقم بھی کیے گئے ہیں۔ تکریم رسولِ کریمؐ کے حوالے سے دی گئی بشارتِ اجر ومغفرت ( لھم مغفرۃ و اجر عظیم) کیسے تمام تر عبادات کے ہم پلہ ہوتی ہے ‘ اَز روئے قرآن مکمل حوالہ جات کے ساتھ منظوم کی گئی ہے۔ گویا بصورتِ نعت نبی ؐ ‘تکریم نبی کے حوالے سے تعلیم و تبلیغ کا اہتمام خاصے کا موجود ہے۔عقیدہ ختم نبوت ٔ کی بات ہو ‘ تو انِ کی للکار ببانگ ِ دہل سنائی دیتی ہے:

تاحشر اب نیا نبی کوئی نہ آئے گا

اعزاز یہ جہان میں کوئی نہ پائے گا

جاری ہے اب نبوتِ سرکارِ دو جہاں ؐ

تاحشر کوئی اور یہ منصب نہ پائے گا

میرے نزدیک’’ عود نگر‘‘ جہانِ نعت گوئی میں ایک ایسی منفرد خوشبو ہے جو رہتے جہان تک عشاقان مصطفیٰؐ کے مشام جاں کو مہکاتی رہے گی۔ اللھم زد فزد!! اللھم زد فزد!!!


ای پیپر