سرخیاں ان کی…؟
03 مارچ 2020 2020-03-03

٭… امریکہ، طالبان معاہدہ…!

٭ خدا کا شکر ہے انصاف و قانون ، حقوقِ آدمیت کے نگہبان خودفریبی کی حالت سے باہرنکلے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ سب کچھ وقوع پذیر نہ ہوتا اور زندگی کسی تتلی کی مانند امن کے گرد طواف کرتی رہتی۔ اس طرح نہ ذلت، دہشت اور ہلاکتوں پہ مبنی جنگ طول پکڑتی نہ ایک لاکھ کے لگ بھگ معصوم افغان شہری اور تین ساڑھے تین ہزار اتحادی فوجی جن میں 2400 امریکی فوجی شامل تھے، اپنی اپنی جان کی بازی ہارتے نہ دہشت گردی کا دائرہ وسیع ہوتا نہ امریکی معیشت کو ٹریلین کا نقصان پہنچتا۔ بہرحال اب جبکہ تقریباً ایک سال سے جاری دوطرفہ مذاکرات کے بعد امریکہ طالبان باہمی امن معاہدہ تحریری طور پر طے پا گیا ہے۔ یہ نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ خطے میں بھی امن کے سہانے خواب کے مترادف ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ کبھی پاکستان میں بھی الیکشن جیتنے کے لئے اتنی کمٹمنٹ نہیں دی گئیں جتنی امریکی صدر نے اس معاہدے میں زمینی حقائق کی پرواہ کئے بغیر دی ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ امریکی صدر مسٹر ٹرمپ نے اپنی ساری سیاست کا حسین ترین سیاسی کارڈ کھیل کر نہ صرف اپنے صدارتی انتخاب جیتنے کی راہ روشن کر لی ہے بلکہ اس امن معاہدے کے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنے پریشر میں رکھنے کی راہ بھی نکال لی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ ارسطو نے کہا تھا کہ غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہو کر ندامت پر ختم ہوتا ہے۔ مگر اس کے باوجود امریکہ اب بھی یہ حقیقت نہیں سمجھتا کہ دنیا اب اس کے قابو میں ہے نہ دنیا میں ہر چیز اس کی منشاء کے مطابق ہوتی ہے۔ تو پھر اس کے لئے یہ سمجھنا آسان ہوتا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے؟ جبکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں بیرونی جارحیت ہمیشہ ناکام ہوئی ہے۔ کیونکہ 19 ویں صدی میں برطانیہ اور 1988ء میں سوویت یونین نہ صرف یہ تجربات کر چکے تھے بلکہ آخرکار تھک ہار کر اور ایسے ہی باہمی معاہدات کر کے اپنے اپنے گھر بھی جاچکے تھے۔ سپرطاقت بھی جسے نایاب سودا سمجھ کر بے خوف و خطر کود پڑی تھی۔ اب اپنے شعور کی منزل تک پہنچتے پہنچتے اس قدر ہلکان ہو چکی کہ راہ فرار ہی بقیہ رستہ بچا تھا۔ مگر شاباش پاکستان جس نے پھر تاریخی کردار ادا کیا اور ایسی فوجی طاقت جو اپنی طاقت، غرور اور ٹیکنالوجی کے زور پر دنیا کو محکوم بنانا چاہتی تھی کے پھر سے دل جیتنے کی کوشش کی اور طاقت کے مقابلے میں امن کی جیت کے لئے ایسی سفارت کاری اور مذاکراتی مہارتیں ترتیب دیں کہ دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا اور بالآخر امریکہ، طالبان معاہدہ سے نئی تاریخ رقم کر دی یقینا یہ پاکستان کی واضح جیت ہے جس سے نہ صرف عالمی سطح بلکہ خطے میں بھی استحکام اور جدید ترقی و خوشحالی کے نئے

نئے دَر کھلیں گے۔ اگرچہ یہ امن معاہدہ، امن پسندوں کی فتح ہے مگر یہ منزل نہیں ہے! ابھی راستے پُرخطر، راہیں کٹھن ہیں؟ کیونکہ امن دشمن عناصر، بالخصوص بھارت، اسرائیل خود چند امریکیوں کا منفی کردار ابھی باقی ہے۔ یعنی نہ صرف پاکستان بلکہ طالبان کے لئے بھی ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں؟ لہٰذا میری دعا ہے کہ یہ امن معاہدہ دنیا میں ڈھیروں خوشیاں لائے اور افغانستان امن و سکون، ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بن جائے اور مسائل کے انبار میں سسکتے پاک افغان عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر آ جائیں۔ ہم دونوں اسلامی ممالک مل جل کر مثالی ہم آہنگی کے ساتھ نہ صرف اقوام عالم بلکہ امن عالم کے لئے بھی اپنا سنہرا کردار ادا کر سکیں اور اپنے بے مثال اتحاد اور وسعت قلبی سے عالمی سطح پے یہ پیغام دے سکیں کہ ہم ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے اور اب کوئی دشمن، سازش ہمارے درمیان لکیر نہیں کھینچ سکتی ہمیں ایک دوسرے سے دور نہیں کر سکتی۔ لہٰذا پاک افغان دوستی زندہ باد! پاکستان زندہ باد۔!

…………………

٭… یوم سرپرائز…!

٭ ویسے تو پاکستان اپنی حصول آزادی کے پہلے روز سے ہی بھارتی سازشوں اور دھمکیوں کا شکار ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے ظلم و فساد، وحشیانہ انداز اور سرکشی دہشت گردی میں تبدیل ہو گئی۔کلبھوشن اس کی روشن مثال ہے۔ بہرحال اب جبکہ اندرونی نفاق اور تنزلی نے اپنے پَر پھیلانے شروع کردیے ہیں اور بنا کسی بیرونی حملے یا آہٹ کے زوال نے اس کے گرد گھیرا تنگ سے تنگ کر دیا ہے جس کی آڑ میں ممکن ہے مودی ہٹلر کوئی سرپرائز دے مگر چونکہ مودی کی جنونی سیاست کی بدولت پاکستان کی پوری قوم اور تینوں مسلح افواج ہر دَم چوکس ہیں بلکہ دنیا نے دیکھا کہ گزشتہ برس جب 25 اور 26 فروری کی درمیانی شب سرپرائز دینے کا خواہشمند دشمن کس طرح سے خود سرپرائز بنا تھا اور ہم نے دن کی روشنی میں دشمن کو نہ صرف سبق سکھایا بلکہ افواج پاکستان نے قوم کی امنگوں کے عین مطابق ثابت کیا کہ ہم نہ صرف اپنی سرحدوں کا بھرپور دفاع کرنا جانتے ہیں بلکہ دشمن کوبھی دھول چٹانے سے بخوبی واقف ہیں لہٰذا 27 فروری 2020ء کو بھارت کو عبرت کا نشان بنانے پر سرپرائز ڈے اس شان سے منایا گیا کہ پاک فضائیہ کے طیاروں کی گھن گرج سے دشمن پر ایک بار پھر ہیبت طاری ہو گئی۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل مجاہد انور خان نے کہا کہ میں پاکستانی قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ پاک فضائیہ ہر طرح کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے ہم پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے اپنی آپریشنل تیاری اور حربی صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پوسٹ پلوامہ کشیدگی کے دوران دشمن کی آبدوز کا سراغ لگانا پاک بحریہ کی حربی تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بہرحال مودی سرکار کو اپنے عوام کو اب کسی نئی جنگ میں جھونکنے سے پہلے یاد رکھنا ہو گا کہ 27 فروری 2019ء کو اس کی کس طرح جگ ہنسائی ہوئی تھی اور اس کا جنگی جنون اس کے لئے (ابھی نندن) کی شکل میں جو ابھی زندہ ہے کس طرح سے تاریخی شرمندگی لے کر آیا تھا لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ مودی سرکار جیو اور جینے دو کی پالیسی اختیار کرے۔ اپنے جنونی رویے میں تبدیلی لائے۔ اسے 27 فروری کو جتنی شرمندگی اٹھانی پڑی اسے ہی کافی سمجھے اور خطے میں انسانیت کو لہولہان ہونے سے بچائے۔ انسان دشمن نہ بنے اور نشے کی حالت سے باہر نکل کے سوچے اگر وہ ایٹمی قوت ہے تو پاکستان کو اس میدان میں بھی فوقیت حاصل ہے۔ لہٰذا حماقت کی نہیں حکمت کی ضرورت ہے ورنہ پاک فوج کے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر جناب میجر جنرل آصف غفور جن کی امن پسندی، اعلیٰ ظرفی، حربی فن و بہادری اور خالص انداز گفتگو کا میں دل سے معترف ہوں، نے کہا تھا ’’اگر بھارت جنگ شروع کرے گا تو ختم ہم کریں گے…؟‘‘

………………

٭… افغانستان سے فوجی انخلاء ہونا چاہئے، چین

٭ چین نے امریکہ، طالبان امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مسئلہ کے سیاسی حل کے حصول میں یہ ایک مثبت قدم ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مقرر کردہ نمائندوں نے طویل عرصہ سے انتظار کئے جانے والے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ جس میں طالبان کے افغان حکومت سے مذاکرات اور دہشت گرد گروپوں سے تعلقات منقطع کرنے کی صورت میں امریکہ کے بتدریج انخلاء کا کہا گیا ہے۔ باہمی امن معاہدہ کی اس تقریب میں نہ صرف علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں بلکہ چین سمیت دیگر ممالک نے بھی خاص طور پر شرکت کی ہے۔ چینی ترجمان ژالی جیان نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ چین نہ صرف اس کا خیرمقدم کرتا ہے بلکہ افغان زیرقیادت اور افغان ملکیتی وسیع اور جامع امن و مصالحتی عمل کی پُرزور حمایت بھی کرتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ یہ امن معاہدہ افغانستان کی سرزمین پر دیرپا امن میں سہولت پیدا کر سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس موقع پر چین کا یہ مثبت بیان دوحہ امن معاہدے کو چار چاند لگانے کے مترادف ہے اور اب صرف امن دشمنوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر