زیرِ آسماں…!
03 مارچ 2020 2020-03-03

پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کے پچھلے چار ، پانچ سالوں کے دوران لکھے گئے کالموں میں سے 68کالم ان کے کالموں کے انتخاب "زیرِ آسماں" میں شامل ہیں۔ مختلف النوع موضوعات پر مختلف اوقات میں لکھے گئے کالم اگر دیکھا جائے تو الگ الگ اکائیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن کتا ب میں ایک ہی نوع کے مختلف کالموں کو الگ الگ عنوانات کے تحت اس طرح اکٹھا کرکے اور ترتیب دے کر شامل کیا گیا ہے کہ اس سے ان کالموں کی واحدانیت اور آپس میں ایک طرح کے بھر پور ربط کا تاثر اُبھرتا ہے۔ قاری جب ایک عنوانات کے تحت اکٹھے کیے گئے کالموں کو پڑھتا ہے تو اسے نہ تو تشنگی کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی یہ لگتا ہے کہ وہ کوئی ایسی تحریریں پڑھ رہا ہے جن کا آپس میں کوئی جوڑ میل نہیں بلکہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ خاص موضوع کے بارے میں باہم ربط اور میل تال رکھنے والی خوب صورت تحریریں پڑھ رہا ہے ۔ اس طرح مختلف النوع اور مختلف اوقات میں لکھے گئے کالم ایک متحداکائی کی صورت اختیار کرتے ہوئے اپنی اثر افرینی کا گہرانقش ثبت کرتے ہیں۔

یہ کہنا کچھ ایسا غلط نہیں ہوگا کہ "زیر آسماں" میں کالموں کو جن عنوانات کے تحت تقسیم کرکے یا باہم جوڑ کر شامل کیا گیا ہے وہ عنوانات اپنی اپنی جگہ پر خوب جچتے ہیں اور قابل تعریف بھی ہیں۔ پہلا عنوان "میرے آس پاس"کا ہے۔ اس میں دس کالم شامل ہیں ۔ والدہ محترمہ مرحومہ و مغفورہ کے بارے میں "آج بے طرح تیری یاد آئی "، والدگرامی مرحوم و مغفور کے بارے میں "آج تم یاد بے حساب آئے" اور بڑے بھائی انعام صدیقی مرحوم کی یاد میں "جلتی دھوپ میں چھائوں جیسا تھا وہ" کے عنوانات کے تحت لکھے جانے والے کالموں کے ساتھ گائوں کی منفرد کردار کی مالک خاتون "سکینہ "، "گائوں ، بچپن اور بارش ایسے ہی ہیں جیسے خواب کی باتیں " اور "ایک دفعہ کا ذکر ہے " جیسے کالموں کو پڑھتے ہوئے ڈاکٹر شاہد صدیقی کی اپنے گھرانے ، اپنے مرحوم والدین ، اپنے بہن بھائیوں ، اپنے بچپن اور اپنے ماضی کی یادوں اور باتوں سے گہرے لگائو ، محبت ، عقیدت اور انس کا اظہار سامنے آتا ہے وہاں میری طرح کے قاری ان تحریروں سے اس طرح متاثر ہوتے ہیں کہ آنکھیں بے ساختہ بھیگ جاتی ہیں۔ یہ کالم بلا شبہ ایسے ہیں جنہیں اس مجموعے کے انتہائی قابل قدر اور پر اثر کالم گردانا جا

سکتا ہے ۔ پھر "راولپنڈی کی لالکڑتی " ، "راولپنڈی کی بینک روڈ" اور "راولپنڈی کی کالج روڈ" کے عنوانات کے تحت چھپنے والے کالموں میں ڈاکٹر صاحب نے آج سے تقریباً چار عشرے قبل کی پنڈی کی معاشرتی و مجلسی زندگی اور اس کے ساتھ پنڈی کی ان جگہوں (سڑکوں) سے تعلق رکھنے والے بعض کرداروں کا بڑی خوب صورتی سے ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے میں نے ایک بار کہا تھا کہ بینک روڈ کے ڈھاکہ بک سٹال اور ادریس بکس جیسی جگہوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ قریب ہی واقع GPOجہاں ڈاکٹر صاحب کے بڑے بھائی انعام صدیقی مرحوم ملازمت کرتے تھے اور ان کے ساتھ ان کے قریبی دوست خالد قریشی صاحب جو نیشنل بینک میں ملازم تھے کا تذکرہ بھی کر دیتے تو یہ بر موقع ہوتا کہ بینک روڈ کے خوابیدہ گوشوں، چائے خانوں ، ڈھاکہ بک سٹال اور کریم ہوٹل کے ساتھ جڑی پار چات اور متفرق اشیاء کی پرانی سی دُکان جہاں دو ادھیڑ عمر بھائی جن کے سفید بالوں کی وجہ سے انہیں" موئے مرمر " کہہ کر پکارتے تھے کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا اور کچھ کچھ ہمارا تعارف انعام مرحوم کی وساطت سے ہی ہوا تھا ادریس بکس کے ادریس صاحب مرحوم اور سٹوڈنٹس بک ڈپو والے ان کے بھائی کے ساتھ جان پہچان انعام صاحب مرحوم اور محترم خالد قریشی (اللہ کریم انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھیں) کی مرہون منت تھی۔ خیر ڈاکٹر صاحب کی اس حوالے سے اپنی ایک سوچ ہے کہ وہ اپنے قریبی عزیزوں کے تذکرے جن سے ان کی پروجیکشن ہوتی ہو سے گریز پا رہتے ہیں۔

"زیرِ آسماں"کے تذکرے کو آگے لیکر چلتے ہیں ۔ "آگہی کا سفر " کے عنوان کے تحت آٹھ کالم کتاب میں شامل ہیں۔ ان میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے سکول و کالج کی تعلیم کے تعلیمی اداروں جہاں وہ زیر تعلیم رہے اور جنہیں وہ مادر علمی کا درجہ دیتے ہیں کا خوب صورت الفاظ میں تذکرہ ہی نہیں کیا بلکہ ان اداروں سے وابستہ قابل فخر اساتذہ کا تذکرہ بھی اس انداز سے کیا ہے کہ انہیں خراج تحسین و عقیدت پیش کرنے اور ان کے لیے شکر گزاری کا اظہار کرنے میں کسی بخل یا مصلحت سے کام نہیں لیا ۔ "ماسٹر فضل صاحب " ، "آگہی کے سفر"کے تحت شامل کالموں میں پہلا کالم ہے جس میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے پرائمری سکول (سی بی پرائمری سکول اولڈ بلڈنگ لال کڑتی راولپنڈی ) کے ہیڈ ماسٹر فضل صاحب جنھوں نے کڑے نظم و ضبط کے تحت اپنے طلباء کی بہترین تعلیم و تربیت کا فریضہ سر انجام دینے کے ساتھ اور پانچویں جماعت کے وظیفے کے امتحان میں اپنے ادارے کے لیے زیادہ سے زیادہ وظائف حاصل کرنا اپنا مقصد حیات بنا رکھا تھاکی محنت ، لگن اور اپنے ادارے سے لگائو کا تذکرہ بڑے بھرپور اور خوب صورت انداز سے کیا ہے۔ اس عنوان میں شامل اگلے کالم میں انہوں نے اپنے ہائی سکول (سی بی ٹیکنیکل ہائی سکول لال کڑتی راولپنڈی) اور اس کے انتہائی محنتی اور قابل فخر اساتذہ کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے سر ور منیر شاہ مرحوم ، ملک انوار مرحوم ، فاروق علی شاہ مرحوم، صدیقی صاحب مرحوم اور ہیڈ ماسٹر انصاری صاحب کے حوالے سے اپنی خوب صورت یادوں کو بیان کیا ہے لیکن کاش وہ محترم ظفر صدیقی (جو رشتے میں ڈاکٹر صاحب کے ماموں ہیں) اور راجا ظہور جو انگلش کے نامی گرامی استاد تھے ان کا بھی ذکر کر دیتے تو یہ بھی شکر گزاری کے زمرے میں آتا۔ اسی عنوان کے تحت "سرسید کالج گہرے رنگوں اور مسحور کن خوشبو کا زمانہ " ، گارڈن کالج آئینہ آواز میں چمکا کوئی منظر"، "سجاد شیخ خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا " ، "خواجہ مسعود ، گارڈن کالج اور میں" ، " کتاب زندگی کا ایک ورق" اور "تدریس کا تخلیقی سفر" کے عنوانات کے تحت چھپنے والے کالم شامل ہیں۔ ان کالموں کے عنوانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے مادر علمی کا درجہ رکھنے والے اپنے تعلیمی اداروں سر سید کالج اور گارڈن کالج راولپنڈی کا ذکر کیا ہے تو اس دور (تقریباً چار عشرے قبل) کے اپنے قابل قدر اور نامور اساتذہ کو بھی خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ اس کے ساتھ انہوں نے آخری دو کالموں میں اپنے تدریسی زندگی کے آغاز کے تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج منڈی بہاوالدین اور وہاں کے تعلیمی ماحول کا ذکر کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

کالم میں گنجائش نہیں رہی ورنہ"زیر آسماں" مجموعے کے باقی پانچ عنوانات میں شامل کالموں کا فرداً فرداً ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ "نئی بات" ایڈیٹوریل کی اجازت سے میں کوشش کروں گا کہ یہ سلسلہ مکمل ہوجائے ۔میں خاص طور پر ڈاکٹر صاحب کے مانچسٹر یونیورسٹی کے اپنے ہم عصر پروفیسر راج کے بارے میں لکھے گئے کالموں کے حوالے سے خیال آرائی کرنا چاہوں گا۔ یہ بات کسی حد تک حیران کن ہے کہ مانچسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر راج اور ڈاکٹر صاحب کے ناول " آدھے ، ادھورے خواب"کے ہیرو پروفیسر سہارن رائے کے کرداروں میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔


ای پیپر