دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام منصوبہ بندی کے تحت ہوا
03 مارچ 2020 (21:40) 2020-03-03

نئی دہلی: بھارتی صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ نئی دہلی فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام پہلے سے ہی منصوبے کا حصہ تھا۔نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کا ایک منظم کھیل کھیلا گیا۔

                                                                                                                                      

بھارتی صحافی رعنا ایوب نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام پہلے سے ہی منصوبے کا حصہ تھا جس میں پولیس، انتہا پسندوں اور بلوائیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ وہ مسلمانوں کا قتل عام کریں۔ سال 2002 میں اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کی زیرنگرانی ریاست گجرات میں ایک ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا اور آج بھی اسی مودی کی زیر نگرانی بھارت میں مسلمانوں کا منظم طریقے سے قتل عام کیا جا رہا ہے۔

رعنا ایوب نے کہا کہ مسلم خاندان اپنی جانوں کو بچا کر دوسری جگہوں پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور کئی مسلم خواتین کی عزتیں انتہا پسندوں نے پامال کیں جبکہ مذہبی نعرے لگاتے ہوئے مساجد کو بھی تباہ کیا گیا۔بھارتی صحافی نے مسلم کش فسادات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت دورے سے بھی جوڑا۔جب نئی دلی میں قتل و غارت ہورہی تھی اس دوران ملک کا وزیر داخلہ نفرت انگیز تقاریر کر رہا تھا۔


ای پیپر