کرونا وائرس نے ٹویٹر کے ہزاروں ملازمین گھر بٹھا دئیے
03 مارچ 2020 (20:16) 2020-03-03

سان فرانسسکو:سماجی رابطے کی بڑی امریکی کمپنی ٹوئیٹر نے پیر کو اپنے 5 ہزار کے قریب ملازمین کو عالمی سطح پر کرونا وائرس کے پھیلا ئو کے خدشہ کے پیش نظر گھر سے کام کرنے کا کہا ہے۔

                                                                                                                               

ٹوئیٹر نے کہا کہ اس نے اپنے ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے امریکہ سمیت دنیا بھر میں اپنی پالیسی میں تبدیل کر دی ہے جس کے بعد غیر اہم کاروباری سفر اور تقریبات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ٹوئیٹر کے ترجمان نے  کہا کہ آج سے ہم دنیا بھر میں اپنے تمام ملازمین کی حوصلہ افزائی کرینگے کہ اگر وہ چاہیں تو گھر پر ہی کام کریں۔ٹوئیٹر نے کہا کہ نئی پالیسی جسے احتیاط کی خاطر بنایا گیا ہے اس کا مقصد کرونا وائرس کے پھیلاکے امکان کو کم کرنا ہے۔ سان فرانسسکو میں اس کا ہیڈ کوارٹر ایسے تمام ملازمین کیلئے کھلا ہے جو وہاں آنا چاہیں۔چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقہ، جاپان اور جمہوریہ کوریا میں ٹوئیٹر کے ملازمین کو مقامی حکومت کی ضروریات کے مطابق گھر پر ہی کام کرنا پڑتا ہے۔

ٹوئیٹر نے رواں ماہ ٹیکساس کے شہر آسٹن میں ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے سالانہ ٹیک اجتماع" ساتھ بائے ساتھ ویسٹ" کانفرنس میں اپنے سی ای او جیک ڈورسی کی شرکت کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2 مارچ تک دنیا بھر میں کووڈ-19 کے 89ہزار کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔جبکہ امریکہ کے مراکز برائے روک تھام و انسداد امراض نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ ملک میں کووڈ-19 کے کیسز کی تعداد 91 تک پہنچ چکی ہے جس میں 6 اموات بھی شامل ہیں۔


ای پیپر