سوشل میڈیا قوانین پر ابہام، حکومت کا نظر ثانی کا فیصلہ
03 مارچ 2020 (17:18) 2020-03-03

سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی چیزیں شیئر ہو رہی ہیں، لوگوں کی عزت نفس متاثر ہوتی ہے

جبران علی:

بالآخر وہی ہوا جو موجودہ حکومت کا ایک طریقہ کار بن چکا ہے، پہلے بغیر سوچے سمجھے کو ئی اقدام کر بیٹھنا اور پھر کسی نے عقل دینا تو اسے واپس لے لینا دوسرے الفاظ میں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنی یوٹرن کی پالیسی پر چلنا اپنی پالیسی بنا رکھی ہے، ابھی کچھ روز قبل پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن نے سوشل میڈیا کمپنیز کے لیے نئے قوانین وضع کیے تھے جس کے تحت ان کمپنیوں کو ملک کے اندر اور اپنے مستقل دفاتر اور ڈیٹابیس سرور قائم کرنا پڑے گا۔ پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پاکستان ایک قومی رابطہ کار کا دفتر بھی قائم کرے گی جو کہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے رابطے میں حکومت کی نمائندگی کرے گا۔ شہریوں کو آن لائن نقصان سے بچاﺅ کے فوائد پاکستانی پارلیمان کی جانب سے 2016ءمیں منظور کیے جانے والے پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں شامل کیے گئے ہیں، خیال رہے کہ یہ وہی قانون ہے جس کے تحت پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایسے مواد کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے جو قومی سلامتی کے منافی ہو یا اس میں اداروں کی تضحیک کی گئی ہو۔ ان قواعد کے تحت حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر جو ذمہ داریاں لاگو کی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

کسی بھی آن لائن مواد کو اگر شعارِحکام پاکستان کے قوانین کے مخالف پائیں تو سوشل میڈیا کمپنی پر لازمی ہو گا کہ وہ 24گھنٹوں میں اس کو حذف کریں۔ ہنگامی صورتحال میں سوشل میڈیا کمپنی کو ایسا چھ گھنٹوں میں کرنا ہو گا۔ نیشنل کوارڈ بیٹر ہی اس بات کا تعین کرے گا کہ ہنگامی صورتحال ہے یانہیں۔

کسی بھی آن لائن مواد کے حوالے سے فوری رابطہ کار کی ہدایات کو سوشل میڈیا کمپنی کے اپنے قواعدوضوابط پر ترجیح حاصل ہو گی۔

سوشل میڈیا کمپنیاںپاکستان کی مذہبی، ثقافتی، نسلی اور قومی سکیورٹی کی حساسیت کو سمجھیں گی۔

سوشل میڈیا کمپنیاں ایسا نظام لائیں گی جس کے ذریعے کسی بھی لائیوسٹریمنگ کے دوران کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جو کہ پاکستان کے قانون کے خلاف ہو۔

سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں اپنا دفتر بنائیں جس کا مستقل اندراج شدہ پتہ ہو۔

سوشل میڈیا کمپنیاں ان قوانین کے اطلاق سے بارہ ماہ کے اندر اندر پاکستان میں سرور بنائیں جو کہ پاکستانی حدود میں صارفین کی معلومات اور ڈیٹا سٹور کریں۔

سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستانی شہریوں کو چاہے وہ بیرون ملک ہی کیوں نہ مقیم ہوں، ایسا تمام آن لائن مواد حذف یا آن لائن اکاﺅنٹ کو معطل کردیں گی جو کہ مس یوز ہیں، اس میں ہتک عزت کی گئی ہو یا پاکستان کی مذہبی، ثقافتی، نسلی اور قومی سلامتی کی حساسیت کے خلاف کوئی بات کی گئی ہو۔

پاکستان پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی شق 29 کے تحت بنائی گئی کسی بھی تفتیشی اتھارٹی کو سوشل میڈیا کمپنی تمام قسم کی معلومات ایک واضح فارمیٹ میں فراہم کریں گی۔

اگر سوشل میڈیا کمپنی ان قوانین کی پاسداری نہیں کرتی تو قومی ادارے کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ملک میں مکمل طور پر بند کردے۔

یاد رہے کہ 90ءکی دہائی میں مائیکرو سافٹ ونڈوز کے مکمل استعمال سے جہاں پوری دُنیا میں انتہائی تیزی سے کمپیوٹر کے استعمال نے ترقی کی وہیں اگلی دہائی بھی یعنی 2000ءکے بعد انٹرنیٹ کی مقبولیت میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا اور پھر جہاں پہلے انٹرنیٹ، ای میل جیسے Yahoo، hotmail، Aol.com اور Alta Vista Yahoo جیسے سرچ انجنوں سے websites کی مقبولیت اور افادیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اسی دور میں آگے چل کر پوری انٹرنیٹ کی دُنیا میں اچانک سے ایک نیا دور شروع ہو گیا۔

سوشل میڈیا کے آنے سے انٹرنیٹ میں کئی کئی جہتیں متعارف ہوتی رہیں یعنی Facebook کے آغاز کے بعد دُنیا بھر میں سوشل میڈیا انتہائی تیزی سے ترقی کرتا چلا جارہا ہے۔ آج سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع جن میں youtube، instagram، twitter، whatsapp messenger اور tiktok شامل ہیں اور websites apps ہیں جس نے سوشل میڈیا کو ایک انتہائی منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف facebook کی مالیت اس وقت 500 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ جس کا مطلب دُنیا کے 100 سے زائد ملکوں کا بجٹ ہے۔ اسی طرح youtube کی مالیت بھی 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جو کہ دُنیا کے کئی ممالک کی زرّمبادلہ سے زیادہ ہے۔

آج پوری دُنیا میں لوگ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دوسرے ذرائع سے گھر بیٹھے ہزاروں لاکھوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں، اس ساری صورتحال میں جہاں سوشل میڈیا نے بہت ترقی کی ہے وہیں اس کے انتہائی مضر اثرات بھی سامنے آرہے ہیں جس میں نوجوان نسل کی اخلاقی تباہی، جرائم پیشہ عناصر کے لیے جرم کے نت نئے ذرائع اور طریقے اور دُنیا بھر کے مافیاز کا اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال شامل ہے۔ ان نقصانات سے بچنے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دُنیا کے بہت سارے ممالک جس میں شمالی کوریا، ایران، برطانیہ، امریکہ، بھارت اور یورپی یونین نے اپنے اپنے ممالک میں سوشل میڈیا ایپلی کیشنز متعارف کرائی ہے اور سوشل میڈیا کو اپنے اپنے انداز میں کنٹرول کرنا شروع کردیا اور اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا میں ہر طرح کی معلومات کو قانونی جواز دے کر ان حکومتوں نے اپنے کنٹرو ل میں کررلیا ہے جس کا مطلب ہے کہ حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی کی بھی معلومات چوری کرسکے۔ سوشل میڈیا پر حکومت یا ملک کے مفادات کے خلاف ہونے والے تمام پراپیگنڈہ کو کنٹرول کرسکے اور کسی کو بھی مجرم قرار دے کر اس کو سزا دی جاسکے۔

تو ایسی صورتحال میں ہماری حکومت نے بغیر کسی بحث و مباحثہ کے نئے قوانین تشکیل دے دیے، جب ان پر عوام اور دیگر اداروں کی طرف سے لے دے ہوئی تو اب ان قوانین پر نظر ثانی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور اس سلسلے میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا ، تاکہ سوشل میڈیا کے مجوزہ قوانین پر نظرثانی کی جا سکے۔ اس اجلاس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف ملیکہ بخاری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا قوانین پر ابہام موجود ہے حکومت اس پر نظر ثانی کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں وزارت قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں حال ہی میں بنائے جانے والے سوشل میڈیا قوانین پر آنے والے ردعمل کا جائزہ لیاگیا اور مجوزہ قوانین کے آزادی اظہار پر پڑنے والے اثرات پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف ملیکہ بخاری نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج بھی اپنی بات پر قائم ہے کہ میڈیا کو آزاد ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم قانون کے دائرے سے باہر ہیں جن کے لیے قانون بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سوشل میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں پر اٹھنے والی آوازوں کو سن رہی ہے اور اس کو دیکھتے ہوئے اس قانون میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے قانون میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ملیکہ بخاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پابندیاں لاگو کرنے کے لیے حکومت کو پہلے سوچنا پڑے گا کہ کس طرح سے قانون لانا ہے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر لوگ بہت زیادہ غیر اخلاقی چیزیں شیئر کر رہے ہوتے ہیں جس سے لوگوں کی عزت نفس بھی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سارے صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ حکومتی قانون کو تسلیم نہیں کر رہے جس کے بعد اب حکومت کو اپنے قوانین پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ ہر ریاست کے اپنے کچھ اصول ہوتے ہیں لیکن واقعی قانون میں ابہام نہیں ہونا چاہے۔ جھوٹی خبروں کا بھی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ اثرات ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے لیے قانون بنانے کا اختیار وزارت آئی ٹی نہیں بلکہ پی ٹی اے کے پاس ہے اور وہ اس پر قانون لاگو کر سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے دور میں قانون سازی سے قبل بحث شروع کی گئی تھی لیکن پی ٹی آئی نے تو کسی بحث کو ضروری ہی نہیں سمجھا بلکہ براہ راست ہی قوائد و ضوابط لاگو کر دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 39 کسی صورت بھی مناسب نہیں ہے اس کو سوشل میڈیا قانون سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ لڑکیاں ہراساں کے معاملے پر اب ایف آئی اے جانا نہیں چاہتیں کیونکہ انہیں پھر بھی انصاف نہیں ملتا۔

ماہر قانون شاہد حسن نے کہا کہ سوشل میڈیا کو حدود میں رکھنا چاہیے لیکن اس پر پہلے بحث ہونی چاہیے ورنہ سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان سے چلی جائیں گے جس کا نقصان پاکستان کو ہی ہو گا۔انہوں نے کہا کہ فیس بک کو گزشتہ سال حکومت نے 14 ہزار پوسٹیں ہٹانے کی درخواستیں دیں جس پر فیس بک نے 90 فیصد عمل کیا تو پھر حکومت کو کسی بھی قانون کو لاگو کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی۔ اس طرح کے قانون لانے سے پاکستان پر معاشی معاملات بھی خراب ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ حکومت اپنے لاگو کردہ قانون کو واپس لے اور اس پر پہلے بحث کرائے۔ فیک نیوز کی وجہ سے اتنا بڑا قانون لے آیا گیا ہے جو کسی صورت درست نہیں۔

٭٭٭


ای پیپر