ان ہاﺅس تبدیلی سے عمران حکومت کو گھر بھیجا جائے !
03 مارچ 2020 (16:59) 2020-03-03

انٹرویو: اسد شہزاد:

پاکستان کی سیاست میں خواتین کا کردار اپنی روایات میں ہمیشہ بڑا نظر آیا۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ سے محترمہ بینظیر بھٹو تک نے یہ بات ثابت کردی کہ ہم ہیں تو سیاست ہے، ان کے بعد ہزاروں خواتین اس میدان میں اُتریں اور اگر موجودہ دور کو دیکھیں تو شاید یہ بات حقیقت لگے کہ ایوانوں میں ان کی بڑھتی تعداد سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا ووٹ کسی مرد کے ووٹ سے کم نہیں، انہی ناموں میں ایک نام شرمیلا فاروقی کا بھی آتا ہے جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی سیاست کا آغاز پی پی پی کے جھنڈے تلے سے کیا اور پھر اس سیاسی ستارے نے اپنی روشنی سے حکومتی ایوانوں میں گونج دار آواز کے ذریعے اپنی سیاسی زندگی کا احساس دلا دیا اور پھر رُکی نہیں، محترمہ بینظیر بھٹو جیسی عظیم لیڈر کی قربت میں بہت سے سیاسی رموز سیکھے اور وزارتوں کا مزہ بھی چکھا۔ ذاتی اور سیاسی الزامات بھی لگے مگر صبر کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ سیاسی میدان میں حریفوں کے لیے مشکل سیاستدان کے طور پر ثابت ہوئیں۔

کہتے ہیں کہ کوئی بھی کام تخیل اور جذبے کے بغیر ممکن نہیں۔ شرمیلا فاروقی نے اپنی پوری سیاست میں خود کو کبھی جھکنے نہیں دیا اور بڑے بڑے سیاسی تبصروں کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کبھی نہ جھکی نہ کبھی ایک ہی مقصد تھا کہ بی بی محترمہ کے ویژن کو آگے لے کر چلنا ہے، یہی وجہ ہے کہ شرمیلا کی سیاست میں جو سچ، جو بیان، جو انداز اور جو رویہ ہے وہ محترمہ بی بی کے اردگرد گھومتا ہے۔ پاکستانی سیاست میں خوبیوں کی بجائے عیب تلاش کیے جاتے ہیں۔ عیب ہر انسان میں ہوتے ہیں جو وقت اور تجربات میں دُھل جاتے ہیں۔ شرمیلا پر جس قدر الزامات لگے اگر ان کا بغور جائزہ لیا جائے تو پھر ہماری سیاست کا انداز بیاں ہی اچھا ہو تو پھر آج ایک نہیں سینکڑوں سیاسی خواتین اس کی رو میں بہہ رہی ہیں۔ بات ثابت قدمی کی جو شرمیلا نے ثابت کی کہ وہ ہے تو سیاست ہے، کل اور آج کی شرمیلا فاروقی کو دیکھا جائے تو ایک ہی سطر میں جواب مل جاتا ہے کہ وہ ایک میچور سیاستدان اور سنجیدہ خواتین کی سیاسی فہرست میں نمایاں نظر آتی ہے۔

گذشتہ دنوں ”نئی بات“ سے ملاقات کے دوران ذہین سیاستدان شرمیلا فاروقی نے بہت سے سوالات میں گزرے کل اور اپنی آنے والی سیاست کے بارے میں کھل کر باتیں کیں، آیئے اس ملاقات کا احوال پڑھتے ہیں۔

سیاسی میدان میں برسنے گرجنے والی شرمیلا فاروقی کیوں سیاست کے میدان سے کنارہ کشی کرگئیں؟

ہم کمیٹڈ لوگ ہیں، نہ سیاسی جماعتی نہ ویژن بدلتے ہیں۔ اپنی لیڈرشپ کے اعتماد کو دھوکہ نہیں دیتے۔ میں پی پی پی ہی میں مرتے دم تک رہوں گی، جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میں آج بھی سیاست میں ہوں، کسی بھی عورت کا ایک مرحلہ ماں بننے کا ہوتا ہے۔ ایک خوبصورت خواب کی طرح۔ شادی کرنے کے بعد جب خداتعالیٰ نے مجھے بیٹا عطا کیا، اب سیاست نائن ٹو فائیو جاب تو ہے نہیں، یہاں تو دن رات گزر جاتے ہیں وقت کا پتہ نہیں چلتا لہٰذا مجھے اپنی اور بیٹے کی زندگی میں ایک لمحے کا بھی خلا پیدا نہیں کرنا تھا۔ یہی تو عمر ہوتی ہے بچوں کے خوبصورت راستے متعین کرنے اور ماں کے بڑھتے پیار اور اعتماد کی۔ اب میرا بیٹا انیس ماہ کا ہوگیا ہے ماشاءاللہ۔ میں چاہتی ہوں کہ آنے والی زندگی میں کوئی کام کروں تو اس کو مکمل طور پر اپناپن دوں، وہ کسی بھی لمحے میری کمی محسوس نہ کرے۔ ماں بننے کے بعد یہی تو میری زندگی کا اہم سنگ میل ہے۔ اگر میں گزرے بیس ماہ میں سیاست میں ہوتی تو پھر دونوں طرف تقسیم ہو جاتی۔ اس تقسیم کو بچانے کے لیے میں تھوڑی دیر سیاست سے دور ہوں مگر حالات اور پارٹی کے امور سے مکمل باخبر ہوں۔ گو زندگی میں وقت اور حالات بدلتے رہتے ہیں مگر میری ترجیحات میں پہلے اولاد کی بہترین پرورش اور پھر سیاست، اس کے ساتھ ساتھ میں نے ٹی وی شوز کرنا چھوڑ دیے۔

اداکاری کا بھی ایک دور گذرا، کیسا تجربہ تھا؟

کاﺅنٹ سکول کراچی میں پڑھا کرتی تھی۔ سکول میں سپورٹس کے علاوہ تقاریر کے مقابلے، نعت خوانی، تھیٹر نوعیت کے پروگرام ہوتے تھے تو میں نعت، تھیٹر اور سپورٹس کے مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔ وہاں سے یہ شوق اُبھرا لہٰذا میرے سکول کی تربیت نے میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ اب بھی رمضان شریف میں ٹی وی کے مختلف پروگرامز میں نعت خوانی میں باقاعدہ نعت پڑھتی ہوں کہ یہ میرے روحانی جذبوں کی تسکین کرتی ہے۔ اداکاری نہ شوق نہ اس میں آگے جانے کا کبھی سوچا کہ وہ میرے مقاصد نہیں تھے۔ ایک سیریل کے بعد میں نے پی پی پی کو جوائن کرلیا۔ اداکاری میرے لیے ایک کپ آف ٹی تھا، پی اور ختم۔ اداکاری، میوزک یا آرٹ کسی بھی شکل میں ہو وہ اپنے دائرے میں ہی اچھا لگتا ہے البتہ ایک ہوا کہ سکول سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ کتاب پڑھنے کے علاوہ مجھے بولنے کا موقع ملا۔ گھر میں ایجوکیٹڈ ماحول نے بھی میری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

اب سیاست کی طرف آتے ہیں آصف علی زرداری کی رہنمائی میں بلاول بھٹو کی قیادت کے باوجود آج پی پی پی کے اندر ایک خلا ہے اور یہ بھی بتایئے کہ پارٹی کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے؟

میں آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتی۔ پاکستان کی سب سے بڑی سب سے پُرانی اور تین بار وزرائے اعظم کے عہدے رکھنے والی پارٹی کبھی کمزور نہیں ہوسکتی۔ اختلافات اپنی جگہ جو ہر پارٹی میں موجود ہوتے ہیں چھوٹی قیادتیں بدلتی رہتی ہیں بنیادی کردار ذوالفقار علی بھٹو کے بعد شہید بی بی پھر آصف علی زرداری اور آج بلاول بھٹو پاکستان کی سیاست کی سب سے بڑی زنجیر جو عوام کے مضبوط ہاتھوں میں پڑی ہے۔ بھٹو صاحب کے بعد محترمہ بی بی شہید کی سیاست میں ایک کرزمہ تھا، ان کا عوام کے ساتھ رابطے میں رہنا اس کو ساتھ لے کر چلنا پارٹی کی اندرونی اور بیرونی سازشوں کو سمجھنا اور پھر ملک بھر کی آواز بننا یہ ان کی سیاست کا اہم مرکز تھیں۔ جب ہم دُنیا میں آئے تو شہید بھٹو دُنیا میں نہیں تھے، ان کی سیاست پر بات کروں گی تو پھر ان عشروں میں اُترنا ہو گا جہاں انہوں نے عظیم کارنامے سرانجام دیئے، اور تاریخ میں پاکستان کو ایک عظیم نام دیا۔

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر ہم 1968ءسے دیکھیں تو وہاں بھٹو کی شخصیت سے لے کر بھٹوازم تک نے جو تاریخ رقم ہے وہ کسی اور کا مقدر نہ بن سکی، دوسرا یہ بتایئے کہ بھٹو زندہ ہے کا نعرہ اپنی اہمیت کھو چکا ہے؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جہاں اچھے ہیں تو وہاں بہت بڑی سازشوں کی داستانیں رقم کی گئیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے کبھی لیڈر اور ہیروازم کو پروان نہیں چڑھایا۔ میں تاریخ اور سیاست کی طالب علم نہیں مگر میں نے سیاسی اکھاڑے میں اُترنے سے لے کر آج تک ایک بات نوٹ کی ہے کہ ہم ان بدقسمت لوگوں میں شمار ہوئے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو جیسے عظیم لیڈر تو پیدا کر دیئے مگر اقتدار کے بدمست ڈکٹیٹرز نے ان کو پھانسی چڑھا دیا۔ ان کا یہ خیال تھا کہ بھٹو کو ختم کرنے سے بھٹو کی سیاست اور بھٹوازم ختم ہو جائے گا، تاریخ نے آج یہ بات ثابت کردی کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا بھٹو آج بھی زندہ ہے بھٹو کل بھی زندہ رہے گا۔ پاکستان کی تاریخ جب صدیوں میں اُترے گی تو یہ نام بھی صدیوں تک چلتا اور پڑھا جاتا رہے گا۔ گذشتہ تین ادوار میں آپ نے بھٹو سے بی بی محترمہ شہید تک کے ساتھ کیا سلوک نہیں کیا، ان کی حکومتوں کو بُری ترین سازشوں کے تحت توڑا۔ میرا صاحبِ اقتدار اور بھٹو ازم کے مخالفین سے صرف ایک سوال ہے کہ اگر بھٹو بُرا تھا، بھٹو کے اصول بُرے تھے، بھٹو کے کام بُرے تھے، وہ بُرا لیڈر تھا تو عشرے صدیوں کی طرف رواں دواں ہیں ان میں ایک ہی نام پھر عشرے میں اُبھر کر سامنے آیا وہ ہے بھٹو جو ایک تحریک بن کر ہماری سیاسی تاریخ کا ایک بڑا کردار نقش کے طور پر لکھا جاچکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ بھٹو کے ساتھ لکھی جاتی رہے گی کہ انہوں نے پاکستان کو 1973ءکا متفقہ آئین دیا اور یہ آئین بھٹو کے نام سے منسوب ہے۔ بڑے بڑے ڈکٹیٹرز نے آئین کو بار بار توڑا، اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے دعوے ہوئے، اس میں اس قدر ترامیم کردی گئیں کہ یہ بھٹو کا آئین نہ لگے مگر پھر ہر بار ان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور ایک اور بات پاکستان کے آئین نے بھٹو کو سب سے بڑی شناخت دی، یہ بھٹو ہی تھے جنہوں نے اسلامی آئین بنایا، اسلامی نقطہ نگاہ سے جمعہ کی چھٹی قرار دی، قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا، شراب پر پابندی لگائی اور پاکستان میں پہلی مرتبہ اسلامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ آج تک چار اسلامی کانفرنس ہوئی ہیں ان میں ایک کا کریڈٹ بھٹو کو جاتا ہے، آپ آج کی زرعی، تعلیمی، صحت کے بارے میں اصلاحات کو نافذ کردیں ملک راتوں رات اُوپر کی طرف بڑھے گا لہٰذا آپ نے جو سوال کیا اس کا جواب ایک ہی ہے کہ صدیوں کے نام ہمیشہ صدیوں کے ساتھ چلتے رہتے ہیں بھٹو بھی صدیوں کا نام ہے۔

آپ کے سوال کا جواب یہی بنتا ہے کہ ویژن وہی ہے ۔ انداز بدلے چہرے بدلے مگر پارٹی کا آئین پارٹی کا منشور پارٹی کی قیادت ایک ہی سمت کی طرف رواں دواں ہے، بہت دفعہ یہ کہا گیا کہ پی پی پی ختم ہو گئی، ڈکٹیٹرز نے اس کو ختم کرنے کے لیے کیا کیا حملے نہیں کیے، ایم کیو ایم کا وجود کیوں تیار کیا گیا تاکہ بھٹوازم کو ختم کیا جائے، پھر کیا ہوا حالات بدلے، زمانے بدلے، حکومتیں بدلیں، ڈکٹیٹر آئے اور گئے مگر پارٹی آج بھی وہیں کھڑی ہے۔ نسلوں کے رشتوں میں ڈھلتی پارٹیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ یہاں تو سندھ میں سترہ سیٹوں والی پارٹی بھی ایوانوں میں بیٹھی تھی۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ 1947ءسے آج تک جتنے عام انتخابات ہوئے کوئی ایک جس کے بارے میں کیا گیا ہو کہ یہ منصفانہ انتخابات تھے، دھاندلی انتخابات نے اچھے نظام کا بیڑا غرق کردیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انکے انتخابات منصفانہ نہیں تھے؟

ان کے سیاسی قد کو دیکھ کر کہا جاتا تھا کہ وہ اگر بجلی کے کھمبے کو بھی ٹکٹ دیں گے تو وہ جیت جائے گا۔ اس زمانے کی سیاست میں تیر کا نشان کامیابی کا سمبل تصور کیا جانے لگا۔ ان کا کرزمہ تو پوری دُنیا میں ایک بڑا رول ادا کرتا رہا۔ اب نہ وہ دور نہ وہ حالات نہ وہ سیاست آپ کا الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، یوٹیوب، ڈیجیٹل میڈیا، فیس بُک، ٹویٹر، ایک لمحے میں آپ دُنیا کی تصویر اور آواز سُن لیتے ہیں۔ آج ہمارا بچہ بچہ حالات سے بخوبی آگاہی رکھتا ہے ان کا ووٹ غلط یا صحیح ہے، وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، بی بی شہید جو انتخابات میں کلین سویپ کی طرف جارہی تھیں کہ راتوں رات ان کے نتائج بدل دیئے گئے اور پھر محترمہ کو ہرا دیا گیا۔ عمران خان کا انتخاب کس طرح ہوا کہ بچہ بچہ کہہ اُٹھا کہ یہ سلیکٹڈ انتخابات تھے، جیتنے والے ہار گئے اور ہارنے والوں کو مرکزمیں حکومت دے دی گئی۔ 2013ءکے انتخابات آپ کے سامنے ہوئے اور نوازشریف نے تو رات 11بجے ہی اپنی جیت کا خود ہی اعلان کردیا۔ پوری دُنیا میں بائیومیٹرک انتخابات ہوتے ہیں ہم دُنیا کی ہر چیز کو فالو کرتے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ آج تک ہم بائیومیٹرک سسٹم کو یہاں رائج نہ کرسکے اور اب یہ کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے کم ازکم جو بات تباہی کو سبب بن رہی ہے اور دھاندلی زدہ انتخابات نے جمہوریت کو بُرے راستوں پر ٹال دیا ہے۔ اس کو روکا جاسکے، خدا کرے وہ دن پاکستان کے مقدر میں آئے کہ ہم کہہ سکیں کہ انتخابات منصفانہ تھے۔

پیپلزپارٹی کا پروگریسو پاکستان کا کیاویژن ہے؟

دیکھیں لیفٹ رائٹ پارٹیاں ہوتی ہیں، ان کو کہیں نہ کہیں ضرور کارنر دیا جاتا ہے اور یہی پی پی پی کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ اس کا موقف ایک پروگریسو پاکستان کا ویژن ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اس قسم کا پاکستان بنے اور دُنیا کے مقابلے میں آگے آئے۔ 2013ءسے ہم ایک نئے پاکستان کی بات سُن رہے تھے اور جب نئے پاکستان بنانے والے آئے تو انہوں نے تو عوام سے روٹی کا نوالہ ہی چھین لیا۔ نئی نسل کو گالی کلچر سے متعارف کرایا۔ سب کو غدار، چور، ڈاکو، بدمعاش قرار دے دیا جو بولا اس کو اندر کردیا۔ دوسری طرف انتقامی سیاست کی آڑ میں نیب کو ہتھیار بنا کر سیاسی لیڈرشپ پر پہلے الزام لگائے اور پھر اندر کردیا۔ غریب کو غربت کے ہتھیار سے مارا جارہا ہے۔ نہ آٹا، نہ چینی اور سبزی سو روپے کلو تک، ٹماٹر اور مرچ 300 روپے کلو۔ اوپر لے جانے والے واقعہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے تباہی کو نیا پاکستان بنا دیا ہے۔ گیس، بجلی اور پانی کے بلوں نے عوام کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ پٹرول کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور ڈالر نے نیچے نہ آنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ ان تمام باتوں کا اگر نچوڑ نکالوں تو ایک ہی بات دکھائی دے رہی ہے کہ اگر اس حکومت کو جلد روانہ نہ کیا گیا تو نیا پاکستان کیا ہم پُرانے پاکستان کو اندھیروں میں کھو دیں گے۔ پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں کہ اس سے بُری حکومت اس سے بُرے حالات اور اس سے بُری کبھی تباہی آئی ہو، سلیکٹڈ وزیراعظم یہ بات مان رہا ہے کہ مہنگائی ہوئی ہے اور اب تو وہ زمین سے آسمانوں کو چھو رہی ہے اور مہنگائی کرنے والا مافیا تو بنی گالا اور وزیراعظم ہاﺅس میں موجود ہے اور یہ کس قدر بے شرمی کی بات ہے کہ ایک طرف یہ حکمران یہ بات مان رہے ہیں کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی اور وہ اب بھی اقتدار کے ساتھ چمٹے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان تبدیل ہو گیا ہے، وہ تو عوام کہہ رہی ہے کہ تبدیلی کی صورت میں بربادی دی گئی ہے۔ آج عوام صرف مہنگائی سے ریلیف چاہتی ہے اور ان کو ایسے حکمران چاہئیں جو ان کو ریلیف دے سکیں۔ ادویات اس قدر مہنگی ہو گئی کہ اب تو غریب موت ہی کو پکار رہا ہے۔

پی پی پی دو ادوار سے سندھ پر حکمرانی کررہی ہے اور آج کراچی کا کیا حشر نشر ہو گیا ہے، یہ سب کے سامنے ہے خاص کر کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کی داستانیں تو بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنتی جارہی ہیں، کیا وجہ ہے کہ آپ کی حکومت بہتر کارکردگی نہیں دکھا پائی؟

اگر سندھ کے حالات بہت بُرے ہیں اور سندھ تباہ ہورہا ہے اور پی پی کی حکومت نے سندھ کا بیڑہ غرق کردیا ہے، اگر ایسا ہوتا تو پھر 2018ءکے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ پی پی پی کو کیوں ملے ہیں، یہ بات دعوے کے ساتھ کہتی ہوں کہ آج پورے سندھ کے حالات اس قدر بُرے نہیں جتنے پورے پاکستان کے ہیں۔ جو پاکستان بھر میں رونا دھونا ہورہا ہے وہ سندھ میں نہیں، ان کی پنجاب حکومت کرائس کے اندر کرائس میں گھری جارہی ہے، وہاں ادارے ایک دوسرے کو نوچ رہے ہیں، ان کی اتحادی جماعت نے بیوروکریسی کو ہلا کر رکھ دیا۔ صرف پنجاب حکومت بچانے کے لیے تمام ملبہ سندھ کی حکومت پر ڈالا جارہا ہے۔ آج سب سے زیادہ چیخ وپکار کی آواز میں پنجاب سے آرہی ہیں، آج پنجاب کے بزدار کی بجائے سندھ کے مراد علی شاہ کی زیادہ تعریفیں ہورہی ہیں تاہم قائم علی شاہ صاحب کی اپنی ایک سیاست کے انداز تھے، مراد علی شاہ نے سندھ کو بہت ڈیلیور کیا ہے اور وہ دن رات اس کوشش میں لگے ہیں کہ کس طرح سندھ کے معاملات سدھر جائیں۔ دوسری طرف یہ بھی دیکھیں کہ اسی سندھ کے اندر کس قدر قوتیں بتا دی گئی ہیں۔ پورے پاکستان میں مافیاز نے پنجے گاڑھ رکھے ہیں اور سندھ میں نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے کی پالیسی پر کام ہورہا ہے۔

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بلاول بھٹو کو ایک میچور لیڈر بننے کے لیے ایک اور عام انتخاب سے گزارنا ہو گا؟

نہیں ایسی بات نہیں ہے، کبھی کوئی سیاستدان یہ بات نہیں کہتا کہ میں تجربہ کار ہوں۔ یہ بات تو بی بی شہید نے بھی کبھی نہیں کہی تھی، دوسرا آپ یہ بات کبھی نہیں کہہ سکتے کہ ایک یا دو انتخابات کے بعد بلاول میچور ہو گا یا بڑا لیڈر بن کر اُبھرے گا۔ لیڈرشپ اچھے فیصلے حالات کے مطابق کرتی ہے۔ میں اپنے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی کہ ابھی تو میں ایک پراسیس سے گزر رہی ہوں۔ ایک اور بات کہ ہر الیکشن سے دوسرے الیکشن کے درمیان جو گیپ ہوتا ہے اس دوران وہ سیکھتے اور فائدے اُٹھاتے ہوئے عوام کی طرف جاتے ہیں۔

آنے والے وقتوں میں بلاول بھٹو کے قد کو کہاں دیکھ رہی ہیں؟

میرے نزدیک تو وہ اپنی کم عمری ہی میں میچور ہو چکے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی ماں کے ساتھ بہت وقت گزارا ہے اور ان کی جدوجہد کو قریب سے دیکھا ہے، پھر انہوں نے اپنے والد کی سیاست اور جدوجہد کو دیکھا اور جس بچے کو والدین سے سب کچھ مل چکا ہو وہ وقت سے پہلے میچور ہو جاتا ہے، اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ لیڈرشپ کے لیے وزیراعظم بننا ضروری ہے تو یہ بے قولی کی بات ہو گی البتہ مجھے آنے والے انتخابات میں بلاول بھٹو ایک بہترین پرفارمنس دے کر حکومت کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔

گزشتہ دنوں نثار کھوڑو نے مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے، کیا یہ پارٹی پالیسی بیان ہے یا کیا آپ کی پارٹی سمجھتیہے کہ مڈٹرم انتخابات ضروری ہیں؟

پارٹی کے اندر ہر ایک کی اپنی ایک رائے ہے۔ رائے کو پارٹی کے بیانیے کے ساتھ نہیں جوڑا جائے۔ میرا نہیں خیال کہ آج کے حالات میں مڈٹرم انتخابات کا ایشو چھیڑا جائے۔ آج جو پاکستان کے حالات ہیں ایک بحران کے اوپر ایک بحران، توممکن نہیں کہ مزید بحران میں داخل ہوا جائے البتہ پی پی پی اِن ہاﺅس تبدیلی کو ضرور سپورٹ کرتی ہے اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں کہ اِن ہاﺅس تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ یہاں میں ایک بات کہنا چاہوں گی کہ قومی اسمبلی کے انتخابات پانچ کی بجائے چار سال کردینا چاہئیں۔

پوری دُنیا میں اسٹیبلشمنٹ کا ایک رول ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں حکومتیں بناﺅ اور توڑو میں اسٹیبلشمنٹ کا نام لیا جاتا ہے، اس کے بڑھتے کردار کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟

اسٹیبلشمنٹ کا وہ کردار جو پہلے ہوتا تھا اب وہ نہیں رہا، حالات بدل گئے ہیں۔ اب حکومتیں بنانا اور توڑنا وہ نہیں ہوسکتا، میرے نزدیک اسٹیبلشمنٹ کا کام یہ ہونا چاہیے کہ جن کو عوام نے منتخب کیا ہے اس کو سپورٹ کریں تاکہ حکومتی معاملات میں بہتری آئے اور سیاسی استحکام پیدا ہو اور دونوں طرف سے مداخلت کے پہلو نہ نکلیں اور جس نے ڈلیور کیا، اس کو ووٹ ملے گا اور اسی کے سلسلوں کو عوامی حکومتی سطح پر آگے لے جایا جائے گا۔

آپ نے تقریباً دس بارہ سال سیاست میں گزار دیئے، بے شمار مشکلات، الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا، کیا یہ ہماری سیاست کا وطیرہ ہے؟

2007ءکے آخر میں سیاست کے پڑاﺅ میں قدم ڈالا اور گزشتہ بارہ سالوں میں مجھے چار وزارتیں ملیں الحمدللہ میرے اوپر نہ سیاسی، نہ ذاتی اور نہ کرپشن کے حوالے سے ایک الزام بھی نہیں لگا۔ میں ایک ہی جماعت کی ورکر ہوں اور یہی رہوں گی۔ خاتون ہونے کے ناطے میری شادی کو پانچ سال ہو گئے اس سے قبل تعلیم، اداکاری اور نعت خوانی کی، سیاست ایک مشکل جاب ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ میں بڑے خاندان یا بڑے باپ کی بیٹی ہوں، سیاست میں آپ کو رہنا ہے تو پھر اپنی ان صلاحیتوں کو سامنے لانا ہوتا ہے جن کے بل بوتے پر آپ نے سیاست میں قدم رکھ یہاں کتنے لوگ سیاست میں آئے اور چلے گئے، میں نے نام بنانے کے لیے بڑی محنت کی ہے۔

سیاست میں خود کو کہاں دیکھ رہی ہیں؟

جتنی سیاست کی جتنی وزارتیں چلائیں میں ان سے سوفیصد مطمئن ہوں اور آنے والے انتخابات میں آپ دیکھیں گے کہ میں پارٹی سطح پر اہم کردار ادا کروں گی۔

٭٭٭


ای پیپر