امریکہ طالبان امن معاہدہ اور بعد کے حالات
03 مارچ 2020 (16:36) 2020-03-03

دریائے آموکراس کرنا جیسے سُرخ فوج کی غلطی تھی، اب افغانستان پر فوج کشی امریکی ذلت کا باعث بن رہی ہے

امتیاز کاظم

دریائے آموکراس کرنا سرخ فوج کی بڑی غلطی تھی لیکن اس سے بھی بڑی غلطی کا ارتکاب امریکہ نے کیا اور افغانستان پر فوج کشی کر دی۔

روس کو جو بات جلد سمجھ گیا وہ امریکہ کو 18سال بعد سمجھ میں آئی کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، مذاکرات کی ٹیبل ہی آخرکار حصے میں آتی ہے اور آج اسی مذاکراتی میز پر امریکہ اور طالبان موجود ہیں۔ امریکہ کے اعلیٰ حکام کی موجودگی میں سالانہ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر امریکہ طالبان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے سات روزہ جامع جنگ بندی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اور یہ پہلا دن جمعہ کی شب 12بجے سے شروع ہے۔ 29 فروری کے بعد امن معاہدہ پر دستخط ہونے جا رہے ہیں، اگر درمیان میں کوئی تعطل پیدا نہ ہوا تو 18سالہ جنگ شائد اپنے اختتام تک پہنچ جائے۔ افغانستان کا بگرام ایئربیس اس وقت امریکہ کے مکمل کنٹرول میں ہے اور شاید ٹرمپ معاہدے پر دستخط کے لیے اسی ایئربیس پر ا±تریں اور ایک لاحاصل جنگ جس میں ایک لاکھ سے زائد افغانی ناحق مارے گئے اور تیرہ ہزار سے زائد امریکی فوجی بھی لقمہ اجل بنے، اپنے اختتام کو پہنچے۔

اشرف غنی کا نہیں بلکہ طالبان کا مطالبہ تھا کہ امریکی فوجی افغانستان سے مکمل انخلاءکریں تب امن سمجھوتہ ممکن ہو گا جبکہ امریکہ کا اصرار تھا کہ اس کی محدود فوج افغانستان میں موجود رہے گی، اب بھی یہ ابھی تک ممکنہ معاہدہ ہے جس میں پہلے مرحلے کے طور پر امریکہ 135 دنوں میں فورسز کا انخلاءکرے گا جبکہ امریکہ کے علاوہ اتحادی فورسز یا غیرملکی افواج پھر بھی مکمل انخلاء کے لیے چار سے پانچ سال لے جائیں گی لیکن طالبان کا موقف امریکی افواج کا انخلاء تھا جو کہ ممکنہ طور پر پورا ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

1988ءمیں اگر د±نیا یا اقوام متحدہ اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے روسی افواج کے انخلاءکے بعد متفقہ مخلوط حکومت تشکیل دیتے تو شاید آج افغانستان کے حالات مختلف ہوتے اور خانہ جنگی نہ شروع ہوتی۔ اپنے وطن کے دفاع کے لیے ا±س وقت ملاعمر میدان میں ا±ترے، طالبان کو اکٹھا کیا اور متحد ہو کر غیر ملکی افواج کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ پہلی جنگ عظیم (1914-18ئ) کے خاتمے پر امان اللہ خان نے برطانیہ سے آزادی کے لیے جو جدوجہد شروع کی لگتا ہے وہ آج بھی جاری ہے۔ ظاہر شاہ کے بعد افغانستان سنبھل نہیں پایا، حقیقتاً اگر دیکھا جائے تو افغانستان کو جنگ میں 40 سال گزر چکے ہیں اور اس جنگی ماحول میں یہ تیسری نسل پرورش پا رہی ہے۔

روسی انخلاء کے بعد ملک کو بے سہارا چھوڑ دیا گیا جس سے خانہ جنگی کا ماحول بنا، اب بھی موجودہ افغان صدر اور عبداللہ عبداللہ انیس بیس کے فرق سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جس میں ایک فیصد ووٹوں کی برتری کی بنیاد پر حکومت قائم ہے۔ امریکہ کے ممکنہ انخلاءکے بعد دونوں پارٹیاں پھر سے باہم پیکار ہوں گی کیونکہ افغان اپنی جنگجویانہ فطرت کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ سردار داو¿د سے یہ جنگجویانہ لہر چلتی ہے۔ سردار داو¿د غیرملکی دورے پر گئے تو ظاہر شاہ نے تختہ ا±لٹ کر خود قبضہ کر لیا۔ پھر حالات بگڑتے ہی چلے گئے۔ روسی انخلاءکے بعد بھی سنبھل نہ سکے۔

دراصل امریکہ ویتنام جنگ جس طرح ہارا ہے وہ بہت سبق آموز ہے اور امریکہ کے مطابق اس جنگ کو روس نے امریکی شکست میں بدلا تھا، چنانچہ امریکی موقع کی تلاش میں تھے اور یہ موقع ا±ن کے ہاتھ آگیا۔ جمی کارٹر کے دست راست ”برزنسکی“ کہتے ہیں کہ ”سوویت مداخلت کے خلاف خفیہ آپریشن ایک عمدہ آئیڈیا تھا جس سے روس افغانی شکنجے میں پھنس گیا اور جس دن سرخ فوج نے افغان سرحد پار کی (دریاآموکراس کیا) تو میں نے صدر جمی کارٹر کو لکھا کہ اب ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم روس سے ویت نام جنگ کا بدلہ لے سکتے ہیں“۔ اس وقت ایلفرڈ میک کوائے نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ”سی آئی اے کے افغان آپریشن کے اس وقت کے ڈائریکٹر چارلس کوگن نے 1995ء میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ”ہمارا سب سے بڑا ہدف سوویت یونین کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا، ہمارے پاس نہ تو وسائل تھے اور نہ ہی اتنا وقت کہ منشیات کی تجارت کی طرف توجہ دیتے اور منشیات کی تجارت کے حوالے سے بھی اختلافات موجود تھے لیکن بڑا مقصد حاصل کر لیا گیا اور سوویت یونین کو افغانستان سے پسپا ہونا پڑا“۔ ایلفرڈ میک کوائے مزید لکھتا ہے کہ ”سی آئی اے نے بہت سے افغان ڈرگ لارڈز کو سپورٹ کیا جن میں حاجی ایوب آفریدی اور گلبدین حکمت یار کے نام سرفہرست ہیں“ افغانستان کو اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے پوست کی کاشت پر انحصار کرنا پڑے گا کیونکہ امریکہ اپنی سابقہ فطرت اور سرشت کے مطابق افغانستان سے نکل جائے گا اور اپنے پیچھے پھر ایک خلاء چھوڑ جائے گا یعنی معاشی خلاءکیونکہ اس کی کئی ایک وجوہات میں ستمبر 2019ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں موجودہ افغان صدر اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان چپقلش شروع ہو جائے گی جس سے طالبان پھر فائدہ اٹھائیں گے۔

دوسرے یہ کہ افغانستان کا انفراسٹرکچر بالکل تباہ ہو کر رہ گیا ہے جس کو نئے سرے سے اٹھانے کے لیے بہت وقت اور سرمایہ درکار ہے جو کہ امریکہ مہیا نہیں کرے گا حالانکہ تمام انفرانسٹرکچر ا±سی کا تباہ کیا ہوا ہے۔ دارالحکومت کابل کے چند پوش علاقے چھوڑ کر آپ جس طرف بھی جائیں گے اندھیرا غربت، جہالت، جھگیاں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں آپ کا استقبال کریں گی، خستہ حال کچے مکان اور موسم کی نسبت سے نامناسب لباس پہنے بچے کھیلتے نظر آئیں گے جن کو گرمی، سردی، خزاں اور بہار کا کچھ پتہ نہیں۔ البتہ یہ بچے اسلحہ کے متعلق کچھ نہ کچھ ضرور جانتے ہوں گے۔

اوپر میں نے معاشی خلاءکا تذکرہ کیا تو کیا امریکہ کے نکل جانے کے بعد امریکی انتظامیہ یہ انتظام کرے گی کہ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار مہیا ہو۔ بچوں کو سکول مہیا ہوں اور ایسی ہی بہت سی باتیں یعنی گورنمنٹ کو چلانے کے لیے فنڈز کہاں سے آئیں گے جبکہ ٹیکس کا نظام مکمل تباہ ہو چکا ہے، سڑکیں کہاں سے بنیں گی، فیکٹریاں اور ملیں کیسے چلیں گی اور پھر سیاسی خلاءکیسے پورا ہو گا؟کیا طالبان کا سیاست میں عمل دخل قبول کرلیا گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں امریکہ کی طرف سے طالبان کو شرافت کا سرٹیفکیٹ مل گیا ہے اور ان پر سے دہشت گردی کے لیبل کو ہٹا دیا گیا جبکہ انہی طالبان اور گلبدین حکمت یار کو فریڈم فائٹر کہا گیا تھا جب یہ روس سے برسرپیکار تھے۔

ٹرمپ کی دوغلی پالیسیاں اور یوٹرن ایک الگ تاریخ رقم کررہے ہیں، یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 9 مذاکراتی دور ناکام ہو چکے ہیں۔ نواں مذاکراتی دور 21 سے 25 اگست بلکہ اگست کے اخیر تک جاری رہا جس میں زلمے خلیل زاد اور ملاعبدالغنی برادر کی آمنے سامنے گفتگو ہوئی۔ طالبان قیادت امریکی افواج کا نخلائ، کا بِل کی حمایت بند کرنا اور اسلامی نظام کا نفاذ اور اجراء چاہتی ہے جبکہ امریکہ اس خدشے کا اظہار کر رہا ہے کہ طالبان کی اسلامی حکومت داعش میں شمولیت اختیار کرے گی جو کہ امریکہ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو گی۔ اب ان تازہ امن مذاکرات میں بھی زیادہ تر امریکی فوج تو شاید نکل جائے لیکن نیٹو کی فوج افغانستان میں موجود رہے گی جبکہ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نیٹو ممالک کی زیادہ تر فوج پہلے ہی نکل چکی ہے۔

نیٹو 29 ممالک کے اتحاد کا نام ہے جن میں فرانس، ڈنمارک، کینیڈا، اٹلی، بیلجیئم، ناروے، آئس لینڈ، نیدرلینڈ، لکسمبرگ، ترکی، جرمنی، سپین، برطانیہ، امریکہ، ہنگری، پولینڈ، پ±رتگال، یونان، جمہوریہ چیک، اسٹونیا، لٹویا، رومانیہ، البانیہ، سلواکیہ، مونٹی نیگرو، کروشیا، سلوینیا، بلغاریہ اور لیتھونیا شامل ہیں۔ اتنے ممالک مل کر افغانستان جیسے تیسرے درجے سے بھی نیچے کے غریب ترین اور پسماندہ ملک سے جنگ میں اٹھارہ انیس سال ا±لجھے رہے اور اپنے جدید ترین اسلحہ کے استعمال اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر بھی جنگ جیت نہ سکے۔ یہ ان ممالک کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کیا دنیا یہ نہیں سوچ رہی کہ یہ ممالک اور ان کی افواج اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں اور اربوں کھربوں ڈالر خرچ کر کے اس مہنگی ترین جنگ میں اب مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں۔ ان کے ہاتھ کیا آیا، زیادہ سے زیادہ یہ القاعدہ کے رہنما کے خلاف اپنی کارروائیاں کرتے یا جب اسامہ بن لادن مارا گیا تو اس کے بعد جنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہ تھا لیکن بات پھر وہی ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ بند کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔


ای پیپر